Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / ہر عمل کا شدید ردعمل فطری امر ، شاندار انتخابی کامیابی کے بعد نتیش کمار کا بیان

ہر عمل کا شدید ردعمل فطری امر ، شاندار انتخابی کامیابی کے بعد نتیش کمار کا بیان

بی جے پی، بہار میں اعلیٰ سطح کی انتخابی مہم چلاکر بھی ناکام ، پارٹی کے بزرگ قائدین کی تنقید بھی جائز
پٹنہ۔11 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بہار اسمبلی انتخابات میں شرمناک شکست کے بعد بی جے پی کے اندر ناراضگیاں اور ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھائے جانے کے دوران چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے کہا کہ یہ فطری امر ہے کہ ہر عمل کے بعد شدید ردعمل ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ زعفرانی پارٹی نے ریاست میں اعلیٰ سطح کی انتخابی مہم چلائی تھی پھر بھی ناکام رہی۔ ہر عمل کا مساوی ردعمل ہوتا ہے اور اس کے برعکس جو ردعمل ہوتا ہے، وہ شدید کہلاتا ہے۔ نتیش کمار دراصل بی جے پی کے بزرگ قائدین ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی ، شانتا کمار اور یشونت سنہا کے شدید بیانات پر ردعمل ظاہر کررہے تھے۔ ان قائدین نے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت کے خلاف علم بغاوت بلند کی ہے۔ نتیش کمار نے کہا کہ بی جے پی نے بہار انتخابات پر جو ہوّا کھڑا کیا تھا اور اس کے لئے اعلیٰ درجہ کی انتخابی مہم چلائی تھی، اس کے باوجود وہ عوام کا خط اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اس لئے عوام کا ردعمل شدید ثابت ہوا۔ بی جے پی کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ وہ راج بھون میں گورنر رام ناتھ کووند سے ملاقات اور دیپاولی کی مبارکباد دینے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرہیہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بزرگ قائدین ایل کے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی نے اٹل بہاری واجپائی کو ساتھ لے کر بی جے پی کے لئے ’’تھری مورتی‘‘ بنائی تھی۔

اگر یہ قائدین کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کی قیادت ہی پارٹی کی ناکامی کے لئے ذمہ دار ہے تو یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ پارٹی کے تعلق سے ان بزرگ قائدین کا احساس ان کے تجربہ کی بنیاد پر ہے۔ نتیش کمار کے ایل کے اڈوانی کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں۔ این ڈی اے کے دور میں اڈوانی اور نتیش کمار کے درمیان ساجھیداری تھی۔ انہوں نے بی جے پی کے بزرگ لیڈر کو ان کی سالگرہ پر 8 نومبر کو مبارکباد دی تھی۔ شتروگھن سنہا، آر کے سنگھ، حکم دیو نرائن یادو اور بھولا سنگھ کے بعد ان چار بی جے پی قائدین نے کل اپنے مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا تھا کہ بہار میں بی جے پی کی شرمناک شکست کا تجزیہ کیا جانا چاہئے اور اس ناکامی کے لئے کسی ایک کو ذمہ دار قرار دیا جانا ضروری ہے۔ تازہ شکست کے لئے اصل وجہ کیا ہے ، اس کا اندازہ کیا جائے تو پارٹی کے حق میں بہتر ہوگا۔ اس پارٹی نے گزشتہ سال لوک سبھا انتخابات میں اچھا مظاہرہ کیا تھا لہذا پارٹی کی خرابیوں اور اس کی قیادت کی ناکامیوں کا جائزہ لیتے ہوئے خوداحتسابی پر زور دینا چاہئے۔ بی جے پی نے انتخابی مہم کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا تھا، اس پر بھی ان قائدین نے تنقید کی تھی۔ پارٹی کے ایک کردار نے پارٹی کی سیاسی ساکھ کو تباہ کردیا ہے۔ ان بزرگ قائدین نے یہ کہا تھا کہ بی جے پی قیادت کو فوری خوداحتسابی کی جانب توجہ دینی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT