Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ہزاروں شامی پناہ گزیں ، ہنگری سے جرمنی و آسٹریا روانہ

ہزاروں شامی پناہ گزیں ، ہنگری سے جرمنی و آسٹریا روانہ

یوروپ میں نئی زندگی کی شروعات کی تمنا ، 179 کیلومیٹر پیدل سفر ، وہیل چیر سوار ضعیف افراد ، معذورین کو بیساکھیوں کا سہارا

بُداپیسٹ ۔ 5 سپٹمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) مشرقی یوروپی ملک ہنگری سے شام ، عراق لیبیا و دیگر عرب ممالک کے ہزاروں پناہ گزینوں کو آج بسوں کے ذریعہ جرمنی اورآسٹریا منتقل کیا گیا ۔ ان دونوں ملکوں نے ان پناہ گزینوں کو قبول کرنے کااعلان کیا جو ( پناہ گزیں ) اپنے جنگ زدہ ملکوں کو ترک کرتے ہوئے مغربی یوروپ میں نئی زندگی شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔ یوروپی یونین میں اپنی سرحدوں پر بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے نئے مسئلہ پر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے ۔ اس دوران ہنگری کے حکام نے کیلیٹس ریلوے اسٹیشن سے ان پناہ گزینوں کو بسوں کے ذریعہ جرمنی اور آسٹریا روانہ کیا ۔ ہنگری کے سرکاری ادارہ ایم  ٹی آئی نے خبر دی ہے کہ بسوں کے ذریعہ 1200 افراد کو آج صبح روانہ کیا گیا ، ان میں شامل چند افراد 175 کیلومیٹر (110 میل) کی طویل مسافت پیدل چلتے ہوئے طے کرنے کیلئے آسٹریائی سرحد کی سمت روانہ ہوچکے تھے ۔

پناہ گزینوں کا یہ قافلہ اس وقت اپنا پیدل سفر شروع کیا جب ساری دنیا کو غم و اندوہ میں مبتلا کرنے والے شام کے کمسن متوفی پناہ گزین آئیلان کردی کے والد نے اپنے جنگ زدہ ملک کے شورش زدہ گاؤں کوبانی میں دیگر متوفی ارکان خاندان کی تدفین کی ۔ اس واقعہ نے حالیہ تاریخ میں پناہ گزینوں کے اس بدترین بحران پر ساری دنیا کی توجہ مرکوز کروائی ہے ۔ جس کے فوری اثر کے طورپر جرمنی نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں عرب پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا اعلان کیا ۔ برطانیہ مزید کئی ہزار شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ تاہم یہ شرط بھی رکھی ہے کہ فی الحال مختلف پناہ گزین کیمپوں میں مقیم پریشان حال شامی مرد خواتین اور بچوں کو برطانیہ میں پناہ دی جائے گی لیکن یونان ، ہنگری اور اٹلی سے سرحد عبور کرنے والوں کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ مغربی یوروپ میں پناہ کے خواہاں ہزاروں شامی پناہ گزینوں کیلئے اب ہنگری ایک نیا پرکشش مقام بن گیا ہے ۔ بالخصوص جرمنی نے کہا ہے کہ وہ شامی پناہ گزینوں کو ملک بدر نہیں کریگا اور اس سال 8,00,000 شامیوں کو پناہ دی جائے گی ۔

ہنگری کے وزیراعظم وکٹور اروبن کے چیف آف اسٹا ہونالس لازارا نے کہا کہ پناہ گزینوں کو آسٹریائی سرحد تک پہونچانے کیلئے 100 بسیں فراہم کی جائیں گی لیکن اولین ترجیح یہ ہوگی کہ اس سے ٹرانسپورٹ نظام میں کوئی خلل ہونے نہ پائے ۔ آسٹریا کے چانسلر وارنر فیمین نے واضح طورپر اعلان کیا ہے کہ ویانا اور برلن نے ہنگری کی سرحد پر پہونچنے والے شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے اتفاق کرلیا ہے ۔ قبل ازیں پولیس کے تخمینہ کے مطابق تقریباً 1200 عرب پناہ گزینوں میں کئی عمر رسیدہ اور معذور مرد خواتین بھی شامل تھے ۔ چند وہیل چیر پر بیٹھے اور چند دوسرے بیساکھیوں کے سہارے بُداپیسٹ سے 175 کیلومیٹر طویل پیدل سفر کا آغاز کیا ۔کئی افراد جرمن اور آسٹریا میں پناہ کے اعلان سے خوش تھے اور دو انگلیوں سے انگریزی حرف ’’وی‘‘ بناکر ہاتھ لہراتے ہوئے فتح کی علامت دکھارہے تھے ۔ کئی مرد خواتین اور بچے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی تصاویریں لہ

 

تین سالہ ایلان اپنی زندگی گنوا کر لاکھوں تارکین کو بچا گیا
استنبول ۔ 5 سپٹمبر۔(سیاست ڈاٹ کام)  تین سالہ ایلان اپنی زندگی گنوا کر لاکھوں تارکین کی جان بچا گیا ، شامی بچے کو اپنے بھائی اور والدہ سمیت آہوں ، سسکیوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔تین سالہ ایلان کی ترکی کے ساحل پر مردہ حالت میں اوندھے منہ پڑھے تصویر نے یورپی ممالک کو جھنجھوڑ کر دکھ دیا جس کے بعد برطانیہ ، ہنگری اور دیگر ممالک نے تارکین کیلئے اپنے دروازے کھول دیئے۔ ایلان کے والد نے بچوں اور بیوی کی تدفین کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب مجھے اس دنیا سے کچھ نہیں چاہئے ، میری دنیا ختم ہوگئی، اب گر دنیا کے سارے ملک بھی مجھے دے دیئے جائیں تو وہ میرا نقصان پورا نہیں کر سکیں گے۔سوشل میڈیا میں ایلان کی تصویر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور دنیا بھر میں تارکین کا مسئلہ اجاگر ہوا ،جس کے بعد برطانوی وزیراعظم اور دیگر ممالک کے حکام نے تارکین کو اپنے ممالک میں داخل ہونے کی اجازت دینے کا اعلان کیا۔ایلان اس کے بھائی اور والدہ کی لاشوں کوآبائی علاقے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ کردی نے بتایا کہ ہم نے یورپ جانے کیلئے کافی مرتبہ اپلائی کیا لیکن کاغذات کی کمی کا بہانہ بناکر ہمیں روکا گیا اورآخر کار ہم نے سمندر کے ذریعے بارڈر کراس کرنے کیلئے چار ہزار چار سو پچاس ڈالر دیئے لیکن منزل پر نہیں پہنچ سکے۔کردی کا خاندان لائف جیکٹس نہ ہونے کی وجہ سے زندگی نہ بچا سکا۔ ترکی سکیورٹی اہلکاروں نے بتایا کہ اگر کردی کے خاندان لائف جیکٹس پہن لیتا تو زندگی بچائی جا سکتی تھی۔کردی نے بتایا کہ اسمگلر نے ہمیں اعتماد میں لیا تھا کہ کشتی کے ذریعے باسانی بارڈر کو پار کیا جا سکتا ہے جس کے بعد ہم سمندری راستے سے جانے کیلئے تیار ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT