Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ہزار کروڑ مالیاتی اوقافی اراضیات کے تحفظ میں تلنگانہ وقف کو کامیابی

ہزار کروڑ مالیاتی اوقافی اراضیات کے تحفظ میں تلنگانہ وقف کو کامیابی

غیرقانونی قائم کردہ پانچ ٹرسٹ منسوخ، مکہ مدینہ وقف کے تحت لاتعداد ملگیات و عمارتیں، خودساختہ متولی کی بے قاعدگیاں منظرعام پر
حیدرآباد۔/17مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے اہم کارروائی کرتے ہوئے زائد از 1000کروڑ روپئے مالیتی اوقافی اراضیات کے تحفظ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ مکہ مدینہ وقف کے تحت شہر کے تین اہم مقامات پر واقع قیمتی جائیدادوں کا تحفظ کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے 5 مختلف ٹرسٹوں کو منسوخ کردیا ہے۔ اس سلسلہ میں چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے مذکورہ غیرقانونی ٹرسٹوں کو احکامات جاری کردیئے۔ مدینہ بلڈنگ، سکندرآباد اور صنعت نگر میں مکہ مدینہ وقف کے تحت لاتعداد ملگیات اور عمارتیں موجود ہیں۔ وقف بورڈ نے ان جائیدادوں کو 17 جنوری 2012کو اپنی راست تحویل میں لے لیا تھا اور مختلف ٹرسٹوں کے معاملات کی جانچ کی جارہی تھی۔ وقف بورڈ کے احکامات میں بتایا گیا ہے کہ ان جائیدادوں کے اصل واقف نواب احمد نواز جنگ بہادر ہیں جنہوں نے 17جولائی 1948کو وقف نامہ کو قطعیت دی اور اس اراضی پر مکہ مدینہ وقف عمارت تعمیر کی۔ منتخب نمبر 675 فائیل نمبر 40/2/1357 فصلی کے تحت جائیداد وقف کا نام ’’ مکہ مدینہ بلڈنگ ‘‘ تحریر ہے۔ عمارت کی تعمیر کے بعد اس میں لفظ ’علاء الدین ‘ کا اضافہ کرتے ہوئے ’’ مکہ مدینہ علاء الدین وقف ‘‘ کردیا گیا جبکہ منتخب میں یہ مکہ مدینہ وقف درج ہے۔ احکامات میں کہا گیا ہے کہ متولی نواب احمد نواز جنگ کے انتقال کے بعد ان کی جگہ کسی متولی کا تقرر نہیں کیا گیا اور آج تک یہ عہدہ خالی ہے۔ وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ خودساختہ ٹرسٹی کئی بے قاعدگیوں، بدانتظامی، اعتماد شکنی اور اداروں کو بھاری مالی نقصان کے ذمہ دار پائے گئے۔

انہوں نے وقف بورڈ کو وقف فنڈ ادا نہیں کیا اور بجٹ اسٹیٹمنٹ بھی داخل نہیں کیا۔15صفحات پر مشتمل احکامات میں وقف بورڈ نے تحقیقاتی رپورٹ کا تفصیل سے ذکر کیا جس میں نام نہاد ٹرسٹوں کی بے قاعدگیوں کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ وقف بورڈ نے11جنوری 2005کو وجہ نمائی نوٹس جاری کی جس کا جواب 19جنوری 2005کو داخل کیا گیا تاہم متعلقہ ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ ٹرسٹی کے خلاف فوجداری مقدمات بھی درج کئے گئے۔وقف بورڈ کے احکامات میں خود ساختہ منیجنگ ٹرسٹی کو 13 مختلف بے قاعدگیوں کا ذمہ دار پایا گیا جس میں منشائے وقف کی خلاف ورزی، پتھر گٹی پر واقع ملگیات کا رجسٹریشن اور کروڑہا روپئے کی آمدنی کی تفصیلات پیش نہ کرنا شامل ہیں۔ وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز نے ان تمام اُمور کا جائزہ لینے کے بعد چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو ضروری کارروائی کی ہدایت دی۔ وقف بورڈ نے تمام پانچ غیرقانونی ٹرسٹ کو منسوخ کردیا ہے جن میں مکہ مدینہ علاء الدین وقف، علاء الدین چیاریٹیز اینڈ زکوۃ وقف، علاء الدین چیاریٹیز وقف، علاء الدین ایجوکیشنل انڈومنٹ وقف اور علاء الدین مسلم چیریٹی وقف شامل ہیں۔ بورڈ نے منیجنگ ٹرسٹی اور دیگر ارکان کے خلاف دھوکا دہی، اعتماد شکنی، عوامی فنڈ کے مجرمانہ تغلب جیسے دفعات کے تحت فوجداری مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں وقف فنڈ کی ریکوری کی درخواست داخل کی جائے گی۔ اس معاملہ کی جانچ کیلئے اینٹی کرپشن بیورو میں شکایت درج کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مدینہ بلڈنگ پر واقع وقف عمارت میں تقریباً 500ملگیات ہیں جن میں بعض اہم سیاسی قائدین کے بھی بتائے جاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT