Saturday , September 23 2017
Home / عرب دنیا / ہفتار کی امارات سے فوجی تعاون پر بات چیت

ہفتار کی امارات سے فوجی تعاون پر بات چیت

لیبیاء کے مرد آہن خلیفہ ہفتار کامتحدہ عرب امارات کاد ورہ ‘ ولیعہد شہزادہ شیخ محمد سے ملاقات

ابوظہبی ۔ 9جولائی ( سیاست ڈاٹ کام) لیبیاء کے مرد آہن خلیفہ ہفتار نے متحدہ عرب امارات کی قیادت سے فوجی تعاون کے بارے میں بات چیت کی ۔سرکاری ذرائع ابلاغ کے بموجب چند دن قبل اعلان کیا گیا تھا کہ جہادیوں سے لیبیاء کا دوسرا بڑا شہر بن غازی چھین لیا گیا ہے ۔ خلیفہ ہفتار متحدہ عرب امارات کے دورہ پر ہیں ۔ حالیہ مہینوں میں وہ بار بار یہاں کے دورے کرتے رہے ہیں ۔ ہفتہ کے دن بھی انہوں نے ولیعہد شہزادہ شیخ محمد بن زائد النہیان سے ملاقات کی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے ذریعہ انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی پر زور دیا تھا ۔ جون میں اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے متحدہ امارات پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ہفتار کو اقوام متحدہ کو ہتھیار پر امتناع کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہیلی کاپٹرس فراہم کررہاہے ۔ خلیفہ ہفتار خودساختہ لیبیائی قومی فوج کے سربراہ ہیں ۔ چہارشنبہ کے دن انہوں نے اعلان کیا تھا کہ بن غازی کو جہادیوں سے مکمل طور پر آزاد کروالیا گیا ہے ۔ جہادی تین سال قبل اس شہر پر قابض ہوئے تھے ۔ 2011ء کی بغاوت کے 6سال بعد جس میں لیبیاء کے ڈکٹیٹر کرنل معمرقذافی کو اقتدار سے بے دخل کردیا گیاتھا ‘ خلیجی ملک لیبیاء میں انتشار پھیل گیا تھا کیونکہ عسکریت پسند ملک گیر سطح پر اقتدار کیلئے جنگ کررہے تھے ۔ وہ تیل کے کنوؤں پر قبضہ کرنا چاہتے تھے ۔ انتہا پسند گروپس کیلئے جیسے القاعدہ اور دولت اسلامیہ کے لئے یہ صورتحال انتہائی سازگار تھی ۔ ماہ مئی میں متحدہ عرب امارات ایک اجلاس کا میزبان بنا جس میں خلیفہ ہفتار اور ان کے حریف فیاض السراج نے شرکت کی ‘ جنہیں اقوام متحدہ کی تائید حاصل تھی ۔ اس اجلاس کا مقصد سیاسی تنازعہ کی یکسوئی تھا ۔ خلیفہ ہفتار نے طرابلس میں قائم جی این اے حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا اس کے بجائے انہوں نے ایک متبادل حکومت قائم کی تھی جو لیبیا کے مشرق میں قائم کی گئی تھی ۔ اس وقت سے خلیفہ ہفتار لیبیاء کے مشرقی علاقہ میں برسراقتدار ہیں اور انہیں اس علاقہ کا بے تاج بادشاہ سمجھا جاتا ہے ۔

مصر کے صحرائے سینائی میں لب سڑک بم دھماکہ ‘2پولیس والے ہلاک
قاہراہ ۔ 9جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) مصر کی وزارت داخلہ نے کہا کہ شمالی صحرائے سینائی کے قصبہ العریش میں ایک دھماکو آلہ سے دھماکہ کرنے کی وجہ سے شمالی سہرائے سینائی کا قصبہ العریش کی ایک پولیس گاڑی تباہ ہوگئی ۔دو افراد جو ترجمہ کیا کرتے تھے ہلاک اور دیگر 9 ملازمین پولیس زخمی ہوگئے ۔ سرکاری خبر رساں ادارہ کے بموجب وزارت نے کہا کہ بم دھماکہ کا نشانہ پولیس کی طلایہ گرد پارٹی تھی ۔ شمالی صحرائے سینائی غزا اور اسرائیل کی سرحد پر واقع ہے ۔ یہاں دولت اسلامیہ سے الحاق رکھنے والی طاقتور تنظیم حالیہ برسوں میں سرگرم ہوگئی ہے ۔

 

Top Stories

TOPPOPULARRECENT