Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / ہلاری کلنٹن اور برنی سینڈرس کے درمیان دھواں دار پانچواں مباحثہ

ہلاری کلنٹن اور برنی سینڈرس کے درمیان دھواں دار پانچواں مباحثہ

ایک دوسرے پر برستے رہنے سے عوام انہیں سن نہیں پائیں گے، صحافی کا انتباہ

واشنگٹن ۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کے دو صدارتی امیدواروں ہیلاری کلنٹن اور سینیٹر برنئی سینڈرس کے درمیان دھواں دار مباحثہ ہوا ہے اور اس میں دونوں ایک دوسرے پر ایک مرتبہ پھر خوب گرجے اور برسے ہیں۔ ہلاری اور سینڈرس نیویارک میں ایک ہجوم کے سامنے مدمقابل تھے اور ان کی تقریروں کے دوران کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔یہ ان کا ایک دوسرے سے پانچواں مباحثہ تھا۔انھوں نے صدارتی دوڑ میں شریک رہنے کے لیے ایک دوسرے پر لفظی حملے کیے ہیں اور خود کو دوسرے سے بہتر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ وال اسٹریٹ سمیت مختلف ایشوز پر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے ہیں۔ اس مباحثے کے ماڈریٹر سی این این سے تعلق رکھنے والے صحافی وولف بلٹزر تھے۔مباحثے کے دوران ایک مرحلے پر انھیں دونوں کو خبردار کرنا پڑا کہ اگر وہ دونوں ایک دوسرے پر اسی طرح بلند آہنگ برستے رہے تو سامعین اور ناظرین میں سے کوئی بھی انھیں نہیں سن سکے گا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

نیویارک میں منگل کے روز ڈیموکریٹک پارٹی کے ان دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے اور جماعت کے اراکین انھیں نامزد کرنے کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔نیویارک سینڈرس کی آبائی ریاست ہے اور ہلاری کلنٹن آٹھ سال تک یہیں سے سینیٹر رہی ہیں۔نیویارک میں رائے عامہ کے حالیہ نو جائزوں کے نتائج کے مطابق ہلاری کو اپنے حریف امیدوار پر برتری حاصل ہے۔اس کے بعد جولائی میں جمہوری پارٹی کا قومی کنونشن ہوگا جس میں امریکہ میں 8 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے حتمی امیدوار کی نامزدگی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جذبات کا تجزیہ کرنے والی کمپنی برانڈواچ کا کہنا ہے کہ نیویارک میں دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثے کے ختم ہونے کے دو گھنٹے کے بعد ٹویٹر پر سینڈرس کا 173000 سے زیادہ مرتبہ حوالہ دیا گیا ہے۔ان میں سے 55 فی صد مثبت تھے۔ہلاری کلنٹن کا 191000 سے زیادہ مرتبہ حوالہ دیا گیا ہے۔ان میں 54 فی صد منفی تھے۔ سینڈرس نے ہلاری کلنٹن کی بطور سابق سیکریٹری خارجہ اہلیت کے بارے میں سوال اٹھایا تھا۔تاہم انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ صدارت کے لیے اہل ہیں لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ انھوں نے تقریروں اور 2003ء میں عراق پر فوج کشی اور آزادانہ تجارت سے متعلق معاہدوں کے حق میں ووٹ دینے کے لیے وال اسٹریٹ سے رقوم حاصل کی تھیں اور اس طرح انھوں نے اپنی کمزور قوتِ فیصلہ کی عکاسی کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT