Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / ہلاری کلنٹن نے تاریخ بنائی، امریکہ کی پہلی خاتون صدارتی امیدوار

ہلاری کلنٹن نے تاریخ بنائی، امریکہ کی پہلی خاتون صدارتی امیدوار

نیومیکسیکو، نیوجرسی اور ساؤتھ ڈکوٹہ پرائمریز میں کامیابی، برنی سینڈرس شکست کے باوجود مقابلہ پر بضد
لاس اینجلس ۔ 8 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہلاری کلنٹن نے امریکہ میں صدارتی انتخابات کیلئے کسی بڑی سیاسی جماعت کی امیدواری پر قبضہ کرتا ہے آج ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے نیوجرسی، نیومیکسیکو اور ساوتھ ڈکوٹہ پرائمریز میں کامیابی حاصل کی لیکن ان کے ہم جماعت حریف برنی سینڈرس ہار ماننے سے انکار کرتے ہوئے مزید مقابلہ آرائی پر بدستور بضد ہیں۔ 68 سالہ ہلاری کلنٹن نے نیویارک کے بروکلین میں واقع اپنی انتخابی کے ہیڈکوارٹرس پر حامیوں کی کثیر تعداد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ تمام کا شکریہ ہم ایک سنگ میل پر پہنچے ہیں۔ ہمارے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی خاتون کسی بڑی سیاسی جماعت کی صدارتی امیدوار ہوگی‘‘۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے نامزدگی کیلئے لازمی 2,383 مندوبین کی تائید کے حصول پر صدر بارک اوباما نے ہلاری کلنٹن کو مبارکباد دی۔ تاہم اوباما نے اپنی سابق وزیرخارجہ کی بحیثیت صدارتی امیدوار فوری طور پر توثیق نہیں کی۔ وہائیٹ ہاؤز کے پریس سکریٹری جوشی ارنسٹ نے صحافتی بیان میں کہا کہ ’’ان (ہلاری کلنٹن) کی تاریخی مہم نے لاکھوں امریکیوں میں امنگ پیدا کی ہے۔ ان کی یہ مہم دراصل اوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے خاندانوں اور بچوں کیلئے ان (ہلاری) کی دیرینہ جدوجہد میں ایک وسعت ہے‘‘۔ صدر اوباما نے کہا کہ کلنٹن اور ان کے حریف برنی سینڈرس کی بھرپور ستائش کی جانی چاہئے جنہوں نے اپنی مہم کے ذریعہ ڈیموکریٹس کو ایک نئی توانائی بخشی۔

صدر اوباما، ورمنٹ کے سینئر سینڈرس کی درخواست پر کل ان سے وہائیٹ ہاؤز میں ملاقات کریں گے۔ ہلاری کو 2,497 اور سینڈرس کو 1,663 مندوبین کی تائید حاصل ہوئی ہے۔ کیلی فورنیا کے ابتدائی نتائج میں بھی کلنٹن نے سینڈرس کو شکست دی ہے۔ تاہم سینڈرس نے جنہیں نارتھ ڈکوٹہ اور موٹانا میںکامیابی حاصل کی ہے کلنٹن کے مقابلہ اپنی شکست قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے مقابلوں میں برقرار رہنے کا عہد کیا ہے۔ سانتا مونیکا میں ایک بڑے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے سینڈرس نے کہا کہ ’’آئندہ منگل کو ہم اپنی لڑائی جاری رکھیں گے‘‘۔ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ہلاری کلنٹن کو اپنے ہی شہر نیویارک سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ سے مقابلہ رہے گا۔ ہلاری نے حال ہی میں کہا تھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ اس ملک کی قیادت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ ہلاری نے کہا تھا کہ ’’ہم ایک ایسے شخص کو موقع نہیں دے سکتے جو خواتین کی توہین کرتا ہے۔ لوگوں کو ان کے مذہب نسل کے نام پر تنقیدی حملوں کا نشانہ بناتا ہے‘‘۔ اکثر پول سرویز میں ہلاری کو ٹرمپ پر سبقت حاصل ہے۔ تاہم اس سبقت میں روزبروز کمی ہورہی ہے۔ ہلاری کلنٹن اگر کامیاب ہوتی ہیں تو وہ امریکہ کی پہلی خاتون صدر کی حیثیت سے بھی ایک نئی تاریخ رقم کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT