Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / ہلاری کلنٹن کی توجہ اب ایشیائی امریکیوں پر مرکوز

ہلاری کلنٹن کی توجہ اب ایشیائی امریکیوں پر مرکوز

ایشیائی کمیونٹی سے امیگریشن اور ویزہ مسائل کی یکسوئی کا وعدہ، کیلیفورنیا میں ایشین امریکنس اینڈ پیسیفک آئی لیڈرس کی لانچنگ
واشنگٹن ۔ 8 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن جن کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ امریکہ کی آئندہ صدر ہلاری کے سوائے کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ اب وہ اپنی توجہ ایشیائی امریکیوں اور پیسیفک جزیریوں پر مرکوز کررہی ہیں جو امریکہ کا زبردست ووٹ بینک کہلاتا ہے اور اس طرح ہلاری اپنی انتخابی مہم کو مزید وسعت دے رہی ہے۔ گروپ آپی AAPI (ایشین امریکنس اینڈ پیسیفک آئی لینڈرس) فار ہلاری کی کیلیفورنیا میں ایشیائی نژاد امریکی قائدین بشمول ہندوستانی ۔ امریکیوں کی موجودگی میں لانچنگ عمل میں آئی۔ اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران ہلاری نے انہیں تیقن دیا کہ وہ انہیں درپیش مسائل خصوصی طور پر امیگریشن اور ویزہ کی یکسوئی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیملی ویزوں کی اجرائی میں جو واجبات ہیں ان کی تکمیل کی جائے گی تاکہ تارکین وطن خاندانوں کو دوبارہ ملایا جائے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے فیملی ویزہ واجبات backlog میں ایشیا پیسیفک خطہ کے درخواست گذاروں کا تناسب 40 فیصد ہے جبکہ حیرت انگیز طور پر فلپائن سے تعلق رکھنے والے کچھ درخواست گذار گذشتہ 23 سالوں سے ویزہ کے منتظر ہیں۔ ہلاری کلنٹن نے کہا کہ اگر آپ امریکی شہری ہیں اور آپ کا بھائی ہندوستان میں رہتا ہے تو اسے ویزہ حاصل کرنے کیلئے 12 سال لگ جائیں گے۔ لہٰذا ہمیں ایسے لاکھوں افراد کے ساتھ تعاون کرنا ہے جو حصول شہریت کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برسراقتدار آنے پر ویزہ فیس میں کمی کے علاوہ اسے معاف کرنے کے موقف پر بھی غوروخوض کریں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویزہ فیس کے مہنگے ہونے کا احساس نہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ وہ زباندانی کے پروگرامس کو بھی فروغ دیں گی تاکہ لوگ اپنی انگریزی زبان کو بہتر سے بہتر بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ اس موقع سے لوگ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں اور ایسا کرنا ضروری بھی ہے کہ ایشیائی امریکی کمیونٹی امریکہ میں تیزی سے ترقی کرنے والی کمیونٹی ہے۔ تاہم ہلاری نے مسکرا کر یہ بھی کہا کہ ترقی تیز ضرور ہے

لیکن اس کمیونٹی کے لوگوں میں ووٹ نہ دینے کی بری عادت ہے۔ امریکہ میں جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو ایشیائی امریکی ووٹرس کی رائے دہی کا تناسب ہمیشہ کم ہوتا ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امرکہ کے ایشیاء۔ پیسیفک خطہ سے روابط ہمیشہ اہمیت کے حامل رہے ہیں لیکن اب یہ روابط 21 ویں صدی میں اہمیت کے علاوہ انتہائی طاقتور نوعیت کے بھی ہیں۔ مجھے اس بات پر بیحد فخر ہیکہ میرے شوہر کی انتظامیہ نے (بل کلنٹن بحیثیت امریکی صدر) نے پہلی بار ایشیائی امریکنس اور پیسیفک جزیریوں پر وائیٹ ہاؤس سے پیشرفت کی تھی۔ امریکہ کی ترقی میں تارکین وطن کی کئی نسلوں کی شدید محنت کا بھی اہم رول ہے۔ آج امریکہ اس لئے مضبوط ہے کیونکہ یہ اپنی کھلی ذہنیت اور تکثیریت کیلئے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے نظریات سے اختلاف کرتے ہوئے انہیں یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ امریکہ کسی فرد واحد کی محنت سے ترقی یافتہ ملک نہیں بن گیا بلکہ اس میں امریکیوں کی کئی نسلوں کی محنت شامل ہے جس نے ہمیں عظیم بنایا ہے۔ یاد رہے کہ ہلاری کلنٹن کی ایک دیگر انتخابی مہم میں قبل ازیں ان کے شوہر اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے بھی تقریر کی تھی اور کہا تھا کہ صدارتی عہدہ کی دوڑ میں جتنی بہتر تیاری ہلاری کی ہے وہ کسی اور امیدوار کی نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT