Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / ہماری پارلیمنٹ میں بھی ایک دو دہشت گرد بیٹھے ہیں

ہماری پارلیمنٹ میں بھی ایک دو دہشت گرد بیٹھے ہیں

Sadhvi Prachi. Picture from her facebook account.

سادھوی پراچی کا سنسنی خیز الزام ۔ ششی تھرور و ڈگ وجئے سنگھ کے ریمارکس کا بالواسطہ حوالہ

رورکی 6 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام )وی ایچ پی کی شعلہ بیان لیڈر سادھوی پراچی نے آج ایک اور تنازعہ پیدا کردیا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ میں ( ارکان ) ایک یا دو دہشت موجود ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کا یہ بیان ان ارکان پارلیمنٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے جنہوں نے 1993 کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے ملزم یعقوب میمن کو پھانسی کی مخالفت کر رہے تھے ۔ پراچی کے متنازعہ بیان سے ایک اور تنازعہ پیدا ہوگیا ہے ۔ پراچی نے مزید یہ بھی کہا کہ کل اودھم پور میں ہوئے حملہ میں جو پاکستانی دہشت گرد زندہ پکڑا گیا ہے اسے ہند تنظیموں کے حوالے کردیا جانا چاہئے تاکہ اسے ایک اچھا سبق سکھایا جاسکے ۔ سادھوی پراچی رورکی میں میڈیا سے بات کر رہی تھیں۔ ان سے یعقوب میمن کو پھانسی کی مخالفت سے متعلق سوال کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہندوستانی پارلیمنٹ میں بھی ایک یا دو ( ارکان ) دہشت گرد بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ اس سے بڑی کوئی بدقسمتی ہوگی کہ وہ لوگ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں جنہوں نے ایک عدالت کے فیصلے کی پابندی نہیں کی ۔

عدالت نے ثابت کردیا کہ یعقوب دہشت گرد تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت ثابت کرچکی ہے کہ یعقوب دہشت گرد تھا جو اس دہشت گرد کی تائید کر رہے ہیں وہ سمجھتی ہیں کہ وہ خود بھی دہشت گرد ہیں۔ واضح رہے کہ یعقوب کو پھانسی دئے جانے کے فوری بعد کانگریس ایم پی ششی تھرور نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ انہیں یعقوب کو پھانسی دئے جانے پر افسوس ہے اور سرکاری منظوری سے ہونے والی ہلاکتیں ہمیں بھی قاتل کے درجہ پر لیجاتی ہیں۔ ایک اور کانگریس ایم پی ڈگ وجئے سنگھ نے بھی کہا تھا کہ یعقوب کو پھانسی دیدی گئی ۔ اس میں عدالت اور حکومت نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ کانگریس نے پراچی کے ریمارکس پر سخت تنقید کی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ کانگریس لیڈر پرمود تیواری نے کہا کہ پارلیمنٹ ہم سب کی ہے ۔ دستور نے واضح کردیا ہے کہ پارلیمنٹ جمہوریت کا مندر ہے کوئی وہاں بیٹھنے والوں کو دہشت گرد کہتا ہے تو یہ نہ صرف پارلیمنٹ کی توہین ہے بلکہ دستور کی بھی توہین ہے ۔

TOPPOPULARRECENT