Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ہمالیائی عزم کا حامل علی احمد جس نے 21150 فٹ بلند چوٹی پر تلنگانہ کا پرچم لہرادیا

ہمالیائی عزم کا حامل علی احمد جس نے 21150 فٹ بلند چوٹی پر تلنگانہ کا پرچم لہرادیا

دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا عزم ، سرکاری سرپرستی ضروری
حیدرآباد ۔ 27 ۔ اکٹوبر : ( نمائندہ خصوصی) : ایک ایسے وقت جب کہ ملک میں فرقہ پرست طاقتیں مذہب کے نام پر عوام کو تقسیم کرنے کے درپے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو انسانیت کو اہمیت دیتے ہوئے جذبہ قومی یکجہتی کو پروان چڑھا رہے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ صلاحیتوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نہ ہی صلاحیتوں و خوبیوں پر کسی کی اجارہ داری ہوتی ہے دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جنہیں قدرت صلاحیتوں سے نوازتی ہے اور یہ با صلاحیت لوگ کسی بھی قوم و ملت کا سرمایہ ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں لکھا ہے کہ قومی یکجہتی کے علمبردار ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو پروان چڑھانے میں اہم رول ادا کررہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں انڈین مانیٹرنگ فاونڈیشن کے منظورہ اڈوینچر کلب آف تلنگانہ اسٹیٹ حیدرآباد کے عہدیدار اور ان کی مہم جوؤں کی ٹیم کو قومی یکجہتی کی روشن مثال کہہ سکتے ہیں ۔ اس ٹیم میں جہاں رنگا راؤ ، شیو کمار لال ، کپلیش شاہ ، کرن کمار ، راجندر اور راگھویندر شامل ہیں وہیں بودھن سے تعلق رکھنے والے با صلاحیت مسلم نوجوان علی احمد بھی شامل ہیں ۔ علی احمد کی اس ٹیم نے حال ہی میں دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے ایک اسٹوک کانگری کو سر کرنے کا منفرد کارنامہ انجام دیا ۔ یہ چوٹی سطح زمین سے 21150 فٹ بلند ہے اس کا بلند ترین ہمالیائی چوٹیوں میں شمار ہوتا ہے ۔ 15 یومی اس مہم کو جو خطرات اور جوکھم سے پر تھی علی احمد اور ان کے ساتھیوں نے نہ صرف کامیابی سے سرکیا بلکہ وہاں اپنی ہردلعزیز ریاست تلنگانہ کا یوم تاسیس بھی مناکر وہاں ہندوستانی پر پرچم اور تلنگانہ کا پرچم بھی نصب کردیا ۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ تلنگانہ کی اس با حوصلہ اور بلند عزائم کی حامل ٹیم نے وہاں بتکماں بھی کھیلا اس طرح اڈوینچر کلب آف تلنگانہ اسٹیٹ سے پہلی دفعہ روانہ ہوئی مہم جوؤں کی ٹیم نے ایک تاریخ رقم کی ۔ اس ٹیم نے اپنے ٹیم لیڈر مسٹر رنگاراؤ ( حیدرآباد ) منیجر ڈاکٹر شیوکمار لال کی قیادت میں ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی کامیاب مہم جوئی کی تفصیلات سے واقف کروایا اور کہا کہ روزنامہ سیاست بلا لحاظ مذہب و ملت ہر ضرورت مند کی مدد کررہا ہے ۔ باصلاحیت کھلاڑیوں کو ان کا حق دلانے کے لیے آواز اٹھا رہا ہے ۔ تعلیمی شعبہ میں نمایاں مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کی مدد میں کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہا ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاست کی آواز اقتدار کے ایوانوں میں بھی غور سے سنی جاتی ہے ۔ مہم جو ٹیم نے ایڈیٹر سیاست کو بتایا کہ ان لوگوں نے بناء کسی سرکاری مدد یا اسپانسرس کے اتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ۔ اب ماونٹ ایورسٹ سر کرنے کا منصوبہ ہے جس کے لیے ہر مہم جو پر 25 لاکھ روپئے کے مصارف آتے ہیں ۔ مسٹر رنگاراؤ نے اپنی ٹیم میں شامل علی احمد کی زبردست ستائش کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اس باصلاحیت پر عزم اور بلند حوصلہ نوجوان کا انتخاب 10 اضلاع کے 250 سے زائد امیدواروں میں سے کیا تھا اور انہیں امید ہے کہ یہ نوجوان 8848 میٹرس ( 29029 فٹ ) بلند دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماونٹ ایورسٹ کو بھی بآسانی سر کرتے ہوئے وہاں ہندوستان کا پرچم لہرائے گا ۔ راقم الحروف نے اس موقع پر علی احمد سے بات چیت کی ۔ بودھن ضلع نظام آباد کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان مہم جو نے بتایا کہ اس کے پاس کچھ نہیں لیکن دنیا کی سب سے بڑی دولت ماں ہے اور ماں ہاجرہ بیگم کی دعائیں ہی ہیں جس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے اسے تلنگانہ کا ایک مشہور مہم جو بنایا ہے ۔ علی احمد تین بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں ان کے ایک بھائی حافظ مشتاق احمد آمدہ پورہ جامع مسجد میں امامت کرتے ہیں جب کہ دوسرے بھائی اسرار احمد کریم نگر میں فاسٹ فوڈ سنٹر چلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ والد ابرار احمد کا انتقال ہوچکا ہے جو بودھن میں کرانہ کی دکان چلایا کرتے تھے ۔ علی احمد کے مطابق حکومت تلنگانہ کے مشیر ڈاکٹر رمنا چاری آئی اے ایس ( ریٹائرڈ ) نے 16 مئی کو ان کی ٹیم کو سبز جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا اور پھر ٹیم دہلی سے ہوتے ہوئے کشمیر کے لداخ پہنچ گئی ۔ اس طرح اس بلند و بالا چوٹی پر پہنچنے کے لیے 12 گھنٹے درکار ہوئے ۔ علی احمد کے مطابق وہ 8 گھنٹے مسلسل برف پر چلتے رہے چونکہ سطح زمین اور بلند چوٹیوں کے موسم میں زمین آسماں کا فرق ہوتا ہے ۔ ایسے میں وہاں سانس لینی بھی مشکل تھی ۔ برفباری کے باعث ایسا لگتا تھا کہ ہاتھ پیر اور دیگر جسمانی اعضاء منجمد ہورہے ہوں ۔ بہر حال 7 ارکان پر مشتمل دو ٹیموں نے 2 جون کو جب کہ ہماری ریاست تلنگانہ کا پہلا یوم تاسیس منایا جارہا تھا اسٹوک کانگری کی چوٹی پر ہندوستان اور تلنگانہ کا پرچم لہرایا ۔ اس بلند و بالا چوٹی پر پرچم لہراتے ہوئے ان کے ذہن و قلب میں شاعر مشرق علامہ اقبال کا ترانہ ’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ‘ گونج رہا تھا ۔ ایک سوال کے جواب میں علی احمد نے بتایا کہ اس مہم جوئی پر 12 لاکھ روپئے کے مصارف آئے لیکن اس مہم نے ان کے دل میں دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماونٹ ایورسٹ سر کرنے کا جذبہ پیدا کردیا ہے ۔ اس کے لیے 25 لاکھ روپئے کے مصارف آئیں گے ۔ علی احمد کے مطابق وہ غریب ضرور ہیں لیکن ان میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ۔ ان کے عزائم ہمالیہ کی طرح بلند ہیں انہیں امید ہے کہ جناب زاہد علی خاں اور جناب عامر علی خاں ان کی سرپرستی کرتے ہوئے حکومت کو توجہ ضرور دلائیں گے ۔ علی احمد کی ٹیم نے اسٹوک کانگری سر کرتے ہوئے 4 ریکارڈس بنائے جن میں دو ورلڈ ریکارڈس بھی شامل ہیں ۔ بہر حال ہم علی احمد کے بلند عزائم و ارادوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ہمیں یقین ہونے لگا ہے کہ اگر حکومت علی احمد کی مالی مدد کرتی ہے تو وہ سال 2016 میں ماونٹ ایورسٹ سر کر کے تلنگانہ اور تلنگانہ کے عوام ک

TOPPOPULARRECENT