Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / ہمبرگ میں آج سے G-20 چوٹی کانفرنس کا آغاز

ہمبرگ میں آج سے G-20 چوٹی کانفرنس کا آغاز

نریندر مودی کی اسرائیل سے جرمنی آمد، دہشت گردی، تجارت، صحت، ترقیات اور عالمی استحکام پر بات چیت
ایجنڈہ میں شامل، جرمن چانسلر انجیلا مرکل عالمی قائدین کا استقبال کرینگی

ہمبرگ ۔ 6 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) دو روزہ G-20 کانفرنس کا بالآخر کل آغاز ہورہا ہے جہاں وزیراعظم ہند نریندر مودی جو اس وقت اسرائیل کے دورہ پر ہیں، راست طور پر جرمنی کیلئے پرواز کریں گے۔ G-20 چوٹی کانفرنس کے ایجنڈہ میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی، موسمی تغیر اور عالمی تجارت کو اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ یہ ایسے موضوعات ہیں جن پر آج دنیا کا ہر ملک مباحثہ کرنے بے چین ہے۔ دہشت گردی کا شکار ممالک تو اس موضوع کو چوٹی کانفرنس کے دوران ضرور اٹھائیں گے لیکن توجہ طلب بات یہ ہیکہ نریندر مودی جو اس بندرگاہی شہر میں صرف دو روز ہی قیام کریں گے، ان کی صدر چین ژی جن پنگ سے ملاقات اہمیت کی حامل ہوگی جہاں یہ دیکھنا ہیکہ آیا ہندوستان کی ریاست سکم میں حالیہ واقعات پر چین اور ہندوستان کے درمیان جو لفاظی ہوئی ہے اس کے راست اثرات دونوں قائدین کی ملاقات پر کس طرح اثرانداز ہوتے ہیں۔ چوٹی کانفرنس کا تھیم ’’باہم مربوط دنیا‘‘ ہے اور یہ ایک ایسے وقت منعقد کی جارہی ہے جب دنیا کے چند بڑے ممالک کے سربراہان میں کشیدگی پائی جاتی ہے جو خود بھی کانفرنس میں موجود ہوں گے جن میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو سب سے زیادہ اہمیت اس لئے حاصل ہوگی کہ انہوں نے حال ہی میں پیرس موسمی تغیر معاہدہ سے امریکہ کو الگ کرلیا تھا۔ شرکت کرنے والے دیگر اعلیٰ سطحی قائدین میں روس کے ولادیمیر پوتن، ترکی کے رجب طیب اردغان، فرانس کے ایمونیل میکرون اور برطانیہ کی تھریسامے قابل ذکر ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ G-20 ، 19 ممالک اور یوروپی یونین کا ایک موثر گروپ ہے جن میں ارجنٹینا، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، چین، فرانس، جرمنی، ہندوستان، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، میکسیکو، روس، سعودی عرب، چنوبی افریقہ، جنوبی کوریا، ترکی، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہیکہ کانفرنس کے انعقاد سے عین قبل کم و بیش تیس احتجاجی مظاہرے تو ضرور منظم کئے جائیں گے جن میں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے۔

مقامی حکام کا خیال ہیکہ یہ احتجاجی مظاہرے پرامن ہوں گے تاہم احتیاطی اقدامات کے طور پر کانفرنس کے انعقاد کے مقام کے اطراف و اکناف 15000 پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں جبکہ مزید 4000 اہلکاروں کی ایرپورٹ اور ٹرین سیکوریٹی کیلئے خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ اس 20 ویں G-20 چوٹی اجلاس میں جہاں دہشت گردی سے نمٹنے اور معاشی اصلاحات اہم موضوعات ہوں گے۔ وہیں آزادانہ اور مفت تجارت، موسمی تغیر، مائیگریشن، ترقیات اور عالمی استحکام جیسے دیگر اہم موضوعات بھی زیربحث آئیں گے۔ نریندر مودی نے اس دوران ایک فیس بک پوسٹ میں اس خیال کا اظہار کیا کہ ہندوستان سے اسرائیل اور اس کے بعد ہمبرگ میں دیگر عالمی قائدین سے ملاقات ان کیلئے بیحد اہم بلکہ دنیا میں مسائل پیدا کرنے والے اہم موضوعات پر بات چیت کیلئے بھی اہم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ساتھ عالمی قائدین سے ملاقات کا موقع اس نوعیت کی چوٹی کانفرنس میںہی مل پاتا ہے۔ آج دنیا کے دگرگوں حالات نے ہر ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں اور اس کا فروغ رک گیا ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ گذشتہ G-20 چوٹی کانفرنس ہنگژو میں ہوئی تھی اور وہاں بھی دہشت گردی، موسمی تغیر، ترقیات، تجارت، صحت، روزگار، مائیگریشن، خواتین کو بااختیار بنانے اور افریقہ کے ساتھ شراکت داری جیسے موضوعات زیربحث آئے تھے اور ایک سال کا عرصہ گذر جانے کے باوجود بھی حالات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ چوٹی کانفرنس کا آغاز جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ذریعہ عالمی قائدین کے استقبال سے ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT