Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / ہمیں رواداری پر کسی لکچر کی ضرورت نہیں

ہمیں رواداری پر کسی لکچر کی ضرورت نہیں

ارون جیٹلی کو شیوسینا کا جواب، اقتدار ملنے پر لوگ بدل جاتے ہیں، سامنا کا اداریہ
ممبئی ۔ 22 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر ارون جیٹلی کے جارحانہ احتجاج کے بارے میں ریمارکس پر شدید برہم شیوسینا نے جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹرا میں رواداری کے تعلق سے ہمیں کسی کے لکچر کی ضرورت نہیں۔ پارٹی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ایک ایسی جماعت ہے جس نے کبھی اقتدار کی خاطر عوام کے ساتھ دغابازی نہیں کی۔ شیوسینا کے حلیف بی جے پی کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ حکومت میں ہے ، انہیں چاہئے کہ وہ پاکستان کو نشانہ بنانے کے قومی مشن میں شیوسینا کی تائید کریں لیکن اقتدار ملنے کے بعد ذہن بدل جایا کرتا ہے، لہذا  انہیں100 بارہ متی دکھائی دیتے ہیں۔ سینا نے کہا کہ ہمارا ملک حقیقی ترقی کرسکتا ہے ، جب ہم بارہ متی کی طرح 100 ٹاؤنس کو ترقی دیں۔ جیٹلی نے حال ہی میں بارہ متی میں یہ بات کہی تھی جو این سی پی سربراہ شرد پوار کا آبائی ٹاؤن ہے۔ سینا نے کہا کہ حکومتیں بدل گئی ہیں لیکن تشویشناک مسائل جوں کے توں ہیں۔

پارٹی کے ترجمان سامنا میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں مفتی محمد سعید کی تائید اور ممبئی میں ایک سابق پاکستانی وزیر کو تحفظ فراہم کرنے سے کیا رواداری مستحکم ہوتی ہے؟ اخبار کے اداریہ میں حلیف جماعت بی جے پی پر شدید تنقید کی گئی ہے اور شیوسینا کے جارحانہ احتجاج پر مختلف گوشوں سے کی جانے والی مخالفت کو مسترد کردیا گیا ہے ۔ ارون جیٹلی نے دو دن قبل عدم رواداری اور غنڈہ گردی کے بڑھتے واقعات پر تشویش ظاہر کی تھی اور اسے انتہائی خطرناک رجحان قرار دیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ مختلف نقاط نظر رکھنے والوں کو جمہوری انداز میں مباحث کے ذریعہ اپنی بات دوسروں تک پہنچانا چاہئے ۔ شیوسینا نے یہ سوال کیا کہ ممبئی میں پاکستانی سنگر غلام علی کے پروگرام کو احتجاج کے ذریعہ اگر شیوسینا نے روک دیا ہے ، اسے ہندوستان کی رواداری کی تہذیب کو کس طرح خطرہ لاحق ہوگیا؟ اسی طرح پاکستان کے سابق وزیر خورشید محمود قصوری کی کتاب کی رسم اجراء کے خلاف احتجاج سے رواداری پر کیسے فرق پڑا۔ پارٹی نے کہا کہ جمہوریت نے سیاسی جماعتوں کے سڑکوں پر احتجاج اہمیت رکھتے ہیں ، ورنہ سیاسی جدوجہد ماضی کا حصہ بن جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT