Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / ہم اسلام کے خلاف جنگ پر نہیں ہیں ‘ ہیلاری کا ٹرمپ کو جواب

ہم اسلام کے خلاف جنگ پر نہیں ہیں ‘ ہیلاری کا ٹرمپ کو جواب

٭    امریکی صدارتی انتخاب کے دونوں امیدواروں کے دوسرے مباحث تلخ ہوگئے
٭    مسلمانوں کے تعلق سے ٹرمپ کے ریمارکس ناعاقبت اندیشی و خطرناک
٭    لوگوں کو مذہب کی اساس پر امریکہ میں داخلہ سے محروم نہیں کیا جاسکتا ‘ ہیلاری کلنٹن
سینٹ لوئی ( امریکہ ) 10 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہیلاری کلنٹن کا آج اپنے ریپبلیکن حریف ڈونالڈ ٹرمپ سے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر امتناع کے مسئلہ پر الجھ پڑیں اور کہا کہ یہ ناعاقبت اندیشی اور خطرناک ہے کہ وہ مسلم برادری کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کریں۔ ایک صدارتی مباحث میں جو ابتداء سے ہی تلخ رہی ۔ مباحث کے آغاز ہی سے ٹرمپ کے 2005 کے ویڈیو پر تنقیدیں ہوئی تھیں جس میں انہوں نے خواتین کے خلاف نازیبا ریمارکس کئے تھے ۔ کلنٹن نے 70 سالہ ٹرمپ سے مصافحہ بھی نہیں کیا جبکہ دونوں مخالفین واشنگٹن یونیورسٹی میں اسٹیج پر پہونچے ۔ دونوں کے مابین یہ دوسرے صدارتی مباحث تھے ۔ کلنٹن کے مصافحہ کرنے سے گریز کی وجہ سے دونوں امیدواروں کے مابین اختلافات میں مزید شدت ظاہر ہوگئی ۔ ٹاؤن ہال اسٹائیل کے مباحث کے دوسرے حصے میں دونوں امیدواروں میں اوباما کئیر ‘ محاصل اور اسلامو فوبیا پر تکرار ہوگئی اور ٹرمپ نے بارہا 68 سالہ سابق سکریٹری آف اسٹیٹ پر ان کے خراب فیصلوں کی وجہ سے تنقید کی ۔ انہوں نے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ہیلاری کی سمت انگلیاں بھی دکھائیں۔ غربا حمید نامی ایک مسلمان خاتون نے دونوں امیدواروں سے سوال کیا کہ انتخابات کے بعد ان جیسے لوگوں کے ساتھ کس طرح نمٹا جائیگا جب انہیں ملک کیلئے خطرہ سمجھا جا رہا ہے ۔ ٹرمپ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ اب مسلمانوں کے امریکہ میں داخلہ پر امتناع کے اپنے اعلان پر اٹل نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ کسی اور انداز میں اس امتناع کو دنیا کے مختلف حصوں میں الگ الگ انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کو انتہائی نظرثانی کہا جاسکتا ہے ۔ ہم ایسے علاقوں میں جا رہے ہیں جیسے شام ہے جہاں سے وہ لوگ آ رہے ہیں۔ یہ لوگ اوباما کی وجہ سے یہاں آ رہے ہیںاور ہیلاری کلنٹن ان کی تعداد میں اضافہ چاہتی ہیں۔ ٹرمنپ نے کہا کہ لوگ ہمارے ملک میں آ رہے ہیں اور ہم بالکل واقعف نہیں ہیں کہ یہ لوگ کون ہیں ‘ کہاں سے آ رہے ہیں اور ہمارے ملک کے تعلق سے ان کے احساسات کیا ہیں اس کے باوجود ہیلاری ان کی تعداد میں 550 فیصد اضافہ چاہتی ہیں۔ ہم ان کے تعلق سے کچھ نہیں جانتے ۔ ہم ان کے معاشرتی آداب کے تعلق سے کچھ نہیں جانتے اور ہم ہمارے ملک کے تئیں ان کی محبت کے تعلق سے کچھ نہیں جانتے ۔ ہیلاری نے فوری تیزی سے جواب دیا کہ ہم اسلام کے خلاف جنگ نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے تعلق سے ٹرمپ کے انتہائی غیر دانشمندانہ بلکہ خطرناک ریمارکس کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کو بھرتی کیا جا رہا ہے ۔ کلنٹن نے کہا کہ وہ بحیثیت صدر کسی بھی ایسے فرد کو ملک میں داخلہ کی اجازت نہیں دینگی جن کے تعلق سے وہ سمجھیں گی کہ وہ امریکہ کیلئے خطرہ ہے ۔ لیکن بے شمار پناہ گزینوں کو جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے صرف اس لئے امریکہ میں داخلہ کی اجازت سے محروم نہیں کیا جاسکتا کہ وہ مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں انتہائی احتیاط برتی جائیگی لیکن جس طرح ڈونالڈ نے کہا ہے ہم اس کو پالیسی نہیں بناسکتے کہ ہم لوگوں پر ان کے مذہب کی اساس پر امتناع عائد کردینگے ۔ انہوں نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ وہ ایسا کس طرح کرسکیں گے ؟ ۔ ہمارا ملک ایسا ہے جو مذہبی آزادی کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے ۔ ٹرمپ جیسا چاہتے ہیں ہم ویسا کس طرح کرسکتے ہیں جس سے خود ہمارے ملک میں بے چینی پیدا ہوگی ؟ ۔ جب لوگ ہمارے ملک کو آئیں گے تو کیا ہم ان کا مذہبی امتحان لیں گے ؟ ۔ کیا ہم اس پر عمل کرنے کے قابل رہیں گے ۔ ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کے تعلق سے جس طرح کے بیانات دئے ہیں ان کو آگے بڑھانا در اصل ناعاقبت اندیشی بلکہ خطرناک ہوسکتا ہے ۔ ہم کو امریکی مسلمان ہماری سرحدات پر ہماری آنکھوں اور کان کی طرح چاہئیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے تعلق سے ٹرمپ کے انتہائی تقسیم پسندانہ اور منفی چیزوں کی بھی مذمت کی ۔ انہوں نے کیپٹن ہمایوں خان جیسے افراد کے خلاف ٹرمپ کے خیالات کی مذمت کی جنہوں نے ملک کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان قربان کردی ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی ایس کو شکست دینے امریکہ کو مسلم ممالک کی اکثریت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا ۔ تاہم ٹرمپ نے جس زبان کا استعمال کیا ہے اس کی وجہ سے یہ ممالک ہم سے سوال کر رہے ہیں کہ ہم امریکہ سے کیوں تعاون کریں؟ ۔

TOPPOPULARRECENT