Wednesday , August 23 2017
Home / سیاسیات / ’ہم انتخابات تک ہندو تھے، بعد میں دوبارہ چمار، جھمار ہوگئے‘‘

’ہم انتخابات تک ہندو تھے، بعد میں دوبارہ چمار، جھمار ہوگئے‘‘

’’بی جے پی کا ساتھ دیا لیکن آدتیہ ناتھ کی حلف برداری کے بعد راجپوتوں کے جارحانہ تیور‘‘۔ دلتوں کی شکایت
سہارنپور ۔ 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے ضلع سہارنپور میںہندوؤں کے دو طبقات کے مابین خوفناک تصادم کے بعد دلتوں اور اعلیٰ ذات کے ٹھاکروں کے درمیان بڑے پیمانے پر اختلافات منظرعام پر آگئے ہیں۔ سہارنپور کے روی داس ہاسٹل میں مقیم ایک دلت طالب علم لوکیش کمار نے کہا کہ ’’جب تک انتخابات ہورہے تھے ہمیں ہندوؤں کی نظر سے دیکھا گیا لیکن جیسے ہی انتخابات ختم ہوئے ہم دوبارہ چمار، جھمار اور والمکی ہوگئے‘‘۔ لوکیش بھی ان 80 طلبہ میں شامل ہے جو تدریسی ملازمت کی تیاری کرنے والوں کیلے مختص 16 کمروں پر مشتمل اس ہاسٹل میں مقیم ہے۔ ایک مقامی کالج میں ایم ایس سی کے طالب علم مونوکمار نے کہا کہ ’’ہم نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا۔ دیکھئے اب یہ ہمارے ساتھ کیا کررہے ہیں‘‘۔ اس ہاسٹل کے صحن میں دیگر کئی دلت طلبہ جمع ہورہے تھے  اور کشیدگی جاری تھی۔ سہارنپور میں منگل کو پرتشدد حملے ہوئے تھے جن میں ہجوم نے متعدد مقامات پر مبینہ آتشزدگی کی۔ پولیس اور ضلع انتظامیہ کے اہلکاروں پر حملے کئے اور حتیٰ کہ میڈیا نمائندوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعہ کے بعد روی داس ہاسٹل موضوع بحث بن  گیا ہے کیونکہ چند مقامی افراد روی داس ہاسٹل کو دلتوں کی عسکری تنظیم بھیم آرمی کے اجلاسوں اور منصوبہ بندی کا اڈہ قرار دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں حملہ آور جو اکثر نوجوانوں پر مشتمل تھا خود کو ’’بھیم آرمی ٹیم سے منسوب کیا ہے۔ منگل کے واقعہ کے بعد انتقامی کارروائی کے طور پر 5 مئی کو شبیرپور کا واقع ہے جس سے ذات پات پر مبنی اس علاقہ میں دلتوں اور ٹھاکروں کے درمیان پھوٹ اور تقسیم بے نقاب ہوگئی ہے۔ شبیرپور گاؤں میں ان دونوں طبقات کی قابل لحاظ آبادی ہے۔ مہارانا پرتاپ کے یوم پیدائش کے موقع پر راجپوتوں کے جلوس کو دلتوں نے حملہ کا نشانہ بنایا تھا اور جواب میں راجپوتوں نے شبیرپور اور مہیش پور مواضعات میں دلتوں کے گھروں کو نذرآتش کردیا تھا۔

بھیم سینا کے تشدد کے بارے میں اس عسکری گروپ کا  استدلال ہیکہ دلتوں کے خلاف ضلع انتظامیہ کے متعصب و جانبدارانہ رویہ کے نتیجہ میں یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ اس دوران روی داس ہاسٹل میں مقیم دلت نوجوان اب بھیم آرمی کے بارے میں بات کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ اس کے کئی ارکان روپوش ہوگئے ہیں۔ بھیم آرمی کو اب دو درجن سے زائد فوجداری مقدمات کا سامنا ہے۔ اسپیشل سپرنٹنڈنٹ پولیس ایس سی دوبے نے کہا کہ بشمول انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) اور خصوصی ٹاسک فورس اور انٹلیجنس پولیس اپنے تمام شعبوں کو متحرک کرچکی ہے تاکہ اس واقعہ کی بنیادی سطح سے تحقیقات کی جائیں۔ اس علاقہ میں سیکنڈ ہینڈ کاروں کا بزنس کرنے والے کرمچند نے اخباری نمائندوں سے سوال کیا کہ ’’اگر کسی دلت عورت پر حملہ ہوتا ہے تو اس کو معمول کا واقعہ سمجھا  جاتا ہے لیکن اگر کسی برہمن پر حملہ ہوتا ہے تو یہ اطلاع شہ سرخیوں میں آتی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ان دلتوں کیلئے معاوضہ کا اعلان کیوں نہیں کیا گیا جن کے گھر جلائے جاچکے ہیں۔ کیا یہ تعصب و جانبداری نہیں ہے؟‘‘۔ کرمچند نے کہا کہ ’’پولیس اگر ہماری مدد نہیں  کرتی تو ہمارے پاس کونسا راستہ باقی رہے گا۔ پولیس اگر دوسری طرف کی تائید کا فیصلہ کرتی ہے تو بھیم آرمی ہماری مدد کرے گی‘‘۔ کرمچند نے دعویٰ کیا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد راجپوت مزید جارحانہ تیور اختیار کرنے لگے ہیں۔ خود یوگی بھی راجپوت ہی ہیں اور وہ (راجپوت) سمجھتے ہیں کہ وہ (یوگی) ان کے اپنے ہیں‘‘۔ تاہم پولیس نے کہا ہیکہ شبیرپور واقعہ کے ضمن میں 10 راجپوتوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT