Sunday , September 24 2017
Home / مضامین / ہم بے کار ہوگئے

ہم بے کار ہوگئے

کے این واصف
قارئین کرام ! ہم نے ابھی اپنے اس ہفتہ وار کالم کا عنوان ہی لکھا تھا کہ بغل میں بیٹھے ہمارے رفیق کار نے کہا ’’ہم بے کار ہوگئے‘‘ کہنے کیلئے آپ اخبار میں اعلان کرنے کی ضرورت کیا ہے ۔ یہ سب جانتے ہیں کہ آپ سٹھیانے کی عمر میں داخل ہوچکے ہیں ۔ قانون ملازمت کے اعتبار سے بھی آپ کسی کام کے نہیں رہے اور ویسے بھی آپ کونسے ’’کاردار‘‘ تھے کہ آپ کی ملازمت کے ختم ہونے کی اطلاع اخبار میں شائع کی جائے۔ جب ان کی بے جا بیان بازی ختم ہوئی تو ہم نے ان سے کہا مہربان ! انسان کو اس قدر جلد نتیجے اخذ نہیں کرنے چاہئیں ۔ یہاں’’کار‘‘ سے مراد مو ٹر کار ہے اور پچھلے دنوں جو ہماری کار چوری ہوئی یہ کالم اس واقعہ سے متعلق ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہاں گاڑ یوں کے سرقہ سے متعلق کچھ باتیں اپنے پڑھنے والوں تک پہنچادیں تاکہ وہ اپنی اپنی گا ڑی کی حفاظت کے سلسلے میں مزید محتاط ہوجائیں۔

ہم تقریباً ربع صدی سے سعودی عرب میں مقیم ہیں لیکن یہاں ڈاکہ زنی ، چوری چکاری، قفل شکنی موبائیل فون چھین کر بھاگنا ، پیدل چلتے مرد و خواتین کے ہاتھ سے بیاگس چھین کر فرار ہونا، چاقو کی نوک پرر قم ہتھیا لینا اور گاڑیوں کے سرقہ کے واقعات پچھلے ایک دہائی سے ہی سن رہے ہیں۔ اس سے قبل ایسے واقعات سننے میں نہیں آتے تھے ۔ ان جرائم کے واقعات میں گاڑیوں کا سرقہ سب سے پہلے شروع ہوا۔ مگر اولاً یہ کام کچھ منچلے یا شریر قسم کے نوجوان کیا کرتے تھے ۔ ہوتا یوں تھا کہ اگر کوئی گاڑی آسانی سے کھل جائے تو اسے لیکر فرار ہوجاتے تھے ۔ خوب گھماتے ، خالی اور ویران سڑکوں پر گا ڑی کے کرتب دکھاتے اور جب دل بھر جاتا تو اسے وہیں چھوڑ کر چلتے بنتے۔ گاڑی والے نے اگر پولیس میں رپورٹ درج کروائی اور پولیس پٹرولنگ والوں کی نظر اگر اس لاوارث گاڑی پر پڑی تو وہ مالک کو فون کر کے اطلاع دیتے تھے اور تھوڑے بہت نقصان کے ساتھ گاڑی مالک کو واپس مل جاتی تھی لیکن حالات بدل گئے ۔ اب یہاں بھی غریب یا ترقی پذیر ممالک کی طرح چوری ، ڈکیتی ، سرقے ، چھینا جھپٹی وغیرہ کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔ پتہ نہیں ان میں کون لوگ ملوث ہیں، مقامی باشندے یا غیر ملکی کیونکہ یہاں بہت بڑی تعداد میں غیر ملکی بھی آباد ہیں جن کا تعلق مختلف ممالک سے ہے، خیر جو بھی ہو ، اگر پولیس پٹرولنگ اور سیکوریٹی سخت ہوجائے تو ایسے واقعات کا تدارک کوئی مشکل کام نہیں۔ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا کہ پہلے گاڑی کا سرقہ شوقیہ طور پر کئے جاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے ۔ ہم یہاں گا ڑی چوری نت نئے طر یقے کے چند واقعات جن کے بارے میں سنا ، اخبار میں پڑھا ہے ، رقم کرنا چاہیں گے تاکہ عوام کو علم ہو اور وہ محتاط ہوجائیں۔ آج سے کچھ برس قبل ہمارے قریبی دوست کی گاڑی چوری ہوئی تھی ۔ وہ اپنے گھر سے قریب پہنچ رہے تھے ۔گاڑی کافی دھیمی رفتار میں تھی کہ پیچھے سے ایک گاڑی نے آہستہ سے دھکا مارا ۔ وہ فوراً بریک لگاکر گاڑی کا انجن بند کئے بغیر نیچے اترے اور پیچھے جاکر گاڑی کا جائزہ لینے لگے ۔ ادھر دیگر دو نوجوان ان کی گاڑی میں سوار ہوئے اور گاڑی لیکر رفو چکر ہوگئے اور یہ صاحب دم بخود اپنی گاڑی کو جاتے ہوئے دیکھتے رہ گئے ۔ اس طرح کے سرقے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ لہذا ہمیں چاہئے کہ گاڑی سے اترنے سے قبل گاڑی آف کریں اور چابی اپنے ہاتھ میں رکھ لیں ۔ ابھی کوئی دیڑھ ماہ قبل ہمارے ایک دوست کے رفیق کار نے دوپہر کی چھٹی میں اسکول سے اپنی چھ سالہ بچی کو اٹھایا اور گھر کے راستے میں کسی دکان پر روٹی خریدنے کیلئے گاڑی روکی۔ گاڑی آف کی نہ چابی نکالی ۔ دو منٹ بعد روٹی لے کر پلٹے تو گاڑی غائب تھی اور تاحال نہ گاڑی ملی نہ بچی ہی کا کوئی پتہ چلا ۔ نئے ماڈل کی گا ڑیاں چونکہ نقلی چابی سے نہیں کھلتیں، اس لئے اب اس طرح سے گاڑیاں چوری کی جارہی ہیں ۔ پرانے ماڈل کی گاڑیاں نقلی چابی سے کھل جاتی ہیں۔ لہذا پارکنگ لاٹس یا دیگر مقامات پر پا رک کی ہوئی گاڑیاں اب بھی نقلی چابی سے کھول کر سرقہ کی جارہی ہیں ۔ یہ گا ڑیاں عادی سارق راستے چلتے افراد کے لیاپ ٹاپ ، بیاگس و غیرہ چھین کر فرار ہونے کیلئے چند دن استعال کرتے ہیں یا پھر بڑے قسم کے  جرائم انجام دینے والے گاڑی کا نمبر پلیٹ نکال کر دوسری گاڑی پر لگاکر جرائم کرتے ہیں۔ لہذا بدقسمتی سے اگر گاڑی چوری ہوجائے تو سب سے پہلے متعلقہ پولیس ا سٹیشن میں رپورٹ درج کرانی چاہئے تاکہ گاڑی استعمال کر کے کئے گئے جرائم آپ کے سر نہ آجائیں۔ گاڑی کے اندر یا ڈکی میں کبھی کوئی قیمتی سامان بھی نہیں چھوڑنا چاہئے ۔

یہاں کچھ دیدہ دلیر سارق پستول یا چاقو کی نوک پر بھی لوگوں سے گا ڑی حاصل کرتے ہیں۔ کبھی رات اور کبھی دن دہاڑے کم ٹرافک والے یا سنسان قسم کے علاقوں میں اگر کوئی سگنل پر رکے تو یہ سارق ہتھیار دیکھا کر دھمکاتے ہیں اور بندے کو گاڑی سے اتار کر گاڑی لیکر فرار ہوجاتے ہیں یا جو لوگ شہر سے باہر واقع انڈسٹریل ٹاؤنس میں کام کرتے ہیں جہاں عام طور پر سڑ کیں سنسان رہتی ہیں۔ راستہ روک کر رقم ، موبائیل فون و غیرہ چھین لیتے ہیں یا بعض اوقات گاڑی بھی چھین کر فرار ہوجاتے ہیں ۔ ابھی ہمارے ایک واقف کار کو اس قسم کے سارقوں نے راستہ میں روکا اور مزاحمت کرنے پر ان ہیں شدید زخمی کردیا اور پرس ، فون اور گاڑی لیکر چل دیئے ۔ اب آیئے سرقہ کی وارداتوں کے کچھ سرکاری اعداد و شمار سے آپ کو واقف کرائیں۔ یہ اعداد و شمار بہت تازہ ترین نہیں بلکہ چھ (6) ماہ قبل کے ہیں لیکن پھر بھی آپ کیلئے حیران کن ضرور ہوں گے ۔ ویسے تازہ اعداد و شمار حاصل ہوتے تو ضرور ان میں اضافہ ہی نظر آتا کیونکہ چھوٹے بڑے جرائم میں یہاں روز بروز اضافہ ہی ہوتا نظر آرہا ہے ۔ نیٹ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1034 گاڑیاں صرف ایک ماہ کے عرصہ میں چوری ہوئیں جس میں مکہ مکرمہ جہاں دنیا کے کونے کو نے سے لوگ اپنے گناہوں سے توبہ کرنے حاضر ہوتے ہیں اور یہ مقدس شہر گا ڑیوں کے سرقہ کی وارداتوں میں سرفہرست رہا ۔ جہاں ایک ماہ میں چوری ہونے والی 1034 گاڑیوں میں سے صرف مکہ مکرمہ میں 389 گاڑیاں سرقہ کی گئیں اور مملکت کا دارالحکومت ریاض دوسرے نمبر پر رہا ۔ جہاں 290 گاڑ یاں سرقہ کی گئیں جس کے بعد مدینہ منورہ 110 ، دمام 85 ، جیزان 83 ، مملکت کے مصروف ترین شہر جدہ میں بھی گاڑیاں چوری ہونے کے بے شمار واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے تین ماہ میں جدہ شہر میں 1000 گاڑیوں کے سرقہ کے واقعات پیش آئے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق سن 2013 ء میں مملکت بھر میں 9100 گاڑیاں سرقہ ہوئیں جس میں ریاض پہلے مقام پر رہا۔ جہاں 4000 گاڑیاں ، دوسرے نمبر پر مکہ مکرمہ جہاں 2600 اور باقی دیگر شہروں میں سرقہ کی گئیں۔

ہم چونکہ کمپیوٹر کے استعمال سے بہت زیادہ واقف نہیں ہیں نہ کمپیوٹر پر بہت زیادہ وقت دیتے ہیں۔ جب کبھی ہمیں کسی بھی موضوع پر معلومات درکار ہوں ہم اپنے قریب ترین دوست سید مسعود صاحب کو زحمت دیتے ہیں۔ وہ چند منٹ میں ساری معلومات کمپیوٹر سے حاصل کر کے ہمیں روانہ کردیتے ہیں۔ ان کا قوت حافظہ بھی غضب کا ہے۔ انہیں اعداد و شمار بڑے یاد رہتے ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ مسعود صاحب ایک زمانے میں Encyclopedia فروخت کیا کرتے تھے۔ کمپیوٹر کے عام ہونے کے بعد انسائیکلو پیڈیا کے کاروبار دنیا سے ختم ہوگئے ۔ شاید انہوں نے اپنے پاس بچے سارے نسخے دھوکر پی لیئے ۔ تب ہی تو ان کے پاس معلومات کا اتنا ذخیرہ ہے ۔ نیز وہ اپنی فرصت کا سارا وقت کمپیوٹر کی کھڑکیوں کی تاک جھانک میں صرف کرتے ہیں اور اپنی معلومات میں مسلسل اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ یہاں گا ڑیوں کے سرقہ سے متعلق دیئے گئے اعداد و شمار یا دیگر معلومات کے ساتھ ان کے حصول کا ذریعہ کا ذکر کرنے کا مقصد صرف ’’ دروغ برگردن راوی‘‘ قارئین کے حوالے کرنا ہے کیونکہ یہ اعداد و شمار کا معاملہ ہے۔
آخر میں ہم آپ کو یہ خوشخبری بھی دے دیں کہ ہماری سرقہ ہوئی گا ڑی کوئی تین ہفتہ بعد واپس مل گئی ۔ جب یہ گا ڑی سرقہ ہوئی تھی تب ہم نے اس کی اطلاع سوشیل میڈیا پر دی تھی تاکہ یہ گاڑی اگر کسی کو نظر آئے تو وہ ہیں اطلاع کرسکیں۔ جب گاڑی واپس مل گئی تو ہم نے اسے اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھی کہ گاڑی ملنے کی اطلاع بھی سوشیل میڈیا پر دیدی جائے ۔ جب ہم نے سرقہ کی اطلاع شائع کی تھی تو بے شمار احباب نے ہمیں اس نقصان پر پرسہ اور تسلی کے پیامات بھیجے اور فون کالس کئے ۔ گاڑی چوری ہونا ہمارے لئے واقعی ایک مالی اور ذہنی صدمہ تھا ۔ ہم سلام کرتے ہیں ، اپنی کمیونٹی اور اپنے احباب کو جن کی کرم فرمائیوں اور جذبہ ہمدردی نے ساری تکلیف اور نقصان کی تلافی کردی۔
گاڑی کے واپس ملنے کی اطلاع پر بھی بے شمار احباب نے مبارکباد کے پیامات اور فون کالس کئے ۔ ہمارے ایک بے تکلف دوست نے ہم سے مل کر کہا ’ ہم نہ کہتے تھے کہ صبر کریں کچھ دن میں آپ کی گا ڑی ضرور واپس مل جائے گی ۔ ہمیں یقین تھا کہ چور نے کسی مغالطہ میں یہ گا ڑی سرقہ کی ہے ۔ ورنہ سعودی عرب جیسے متمول ملک میں سارق بھی ا تنے گئے گزرے نہیں کہ وہ آپ کی اتنی پرانی گاڑی کا سرقہ کریں۔ ہم نے اپنے اس بے تکلف دوست کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہاں کے چوروں کے ذوق کا اور معیار سرقہ کا کوئی علم نہیں۔ ہماری گاڑی پرانی ضرور ہوئی ہے ۔ اس کی عمر بڑی ہے تو ہم نے اسے بوڑھی نہیں بزرگ کی حیثیت دیدی ہے۔ بغیر کوئی مسائل اور تکلیف دیئے برسوں سے ہمارا ساتھ نبھا رہی ہے ۔ ہمیں اس سے انس ہوگیا ہے ۔ نیز ہم نے یہ بھی سن رکھا ہے کہ لوگ گاڑی اور بیوی کو برابر کی حیثیت دیتے ہیں۔ شاید اسی لئے ہم اس کو بدلنے کے نام سے خوف کھاتے ہیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT