Wednesday , August 23 2017
Home / اے پی ڈائری / ہم تیزی سے ترقی کررہے ہیں

ہم تیزی سے ترقی کررہے ہیں

تلنگانہ ۔ اے پی ڈائری      خیر اللہ بیگ
اسکولوں کو گرمائی تعطیلات کے بعد نئے تعلیمی سال کا آغاز ہونے سے قبل ہی والدین اور سرپرستوں کو اسکولوں کی فیس، یونیفارمس اور کتابوں پرآنے والے مصارف نے پریشان کررکھا ہے۔ اسکولوں میں بچوں کی تعلیم پر زیادہ اور اچھا دھیان دینے کا دعویٰ کرنے والے اسکول انتظامیہ اس محنت کے عوض والدین یا سرپرستوں سے بھاری رقم وصول کرتے ہیں۔ ایسے ہی واقعات کے خلاف حیدرآباد اسکول پیرنٹس اسوسی ایشن HSPA نے 11جون کو اندرا پارک میں مہا دھرنا منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ اس احتجاج کے حق میں تمام والدین اور سرپرستوں کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے زبردست مہم بھی شروع کی گئی ہے۔ ہر سال تعلیم کے نام پر والدین کو لوٹ لینے کی شکایات میں اضافہ کے باوجود متعلقہ حکام کارروائی نہیں کرتے۔ ایک کے بعد دیگر والدین انتظامیہ کی زیادتیوں کا شکار ہوکر چُپ چاپ نخرے برداشت کرتے آرہے ہیں۔ متاثرہ والدین کا تاثر یہ کہ اسکولوں کا کاروبار منفعت بخش ہے اس لئے اب ہر گلی میں اسکول کھول دیا جارہا ہے۔ مقامی لیڈروں کی سرپرستی یا نگرانی میں چلنے والے اسکولوں میں تعلیمی اُصول و ضوابط کو یکسر نظر انداز کرکے اندھا دھند طریقہ سے سالانہ یا ماہانہ فیس کا تعین کیا جاتا ہے۔
تلنگانہ حکومت اپنے اقتدار کے 2سال پورے ہونے کی خوشی میں اتنی مگن ہے کہ اسے خود اپنے وعدے اور سنہرے تلنگانہ کے سپنے پورے کرنے کی فکر نہیں۔ وہ والدین اور سرپرستوں کی پریشانیوں پر دھیان نہیں دے گی، اس لئے والدین نے از خود اسکول انتظامیہ کے خلاف مورچہ بند ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس طرح کے احتجاج سے اسکول انتظامیہ پر اثر پڑے گا۔؟ جمہوری طریقہ تو یہی ہے کہ زیادتیوں کے خلاف احتجاج کیا جائے مگر جب سامنے کی طاقتور لابی جمہوریت اور قانون کو بالائے طاق رکھ کر اپنی من مانی کرتی ہے تو پھر اس کے لئے سرکاری سطح پر ہی سخت کارروائی کی ضرورت پڑتی ہے ۔ لیکن تلنگانہ میں سرکار نام کا مطلب فارم ہاؤز میں آرام ، سال پورا ہونے پر جشن منانا ہے۔ اس مرتبہ بھی آندھرا پردیش حکومت نے یوم تاسیس تقاریب نہیں منائی، اس کا کہنا ہے کہ عوام کو مطلوب ضروریات کی تکمیل کے بغیر جشن منانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس کے برعکس تلنگانہ حکومت نے عوام کے لئے جشن منایا۔ سنہرے تلنگانہ کے نام پر کروڑہا روپئے کی تشہیر کی۔ ہورڈنگس، اشتہارات، ٹی وی پبلسٹی، جلسہ اور جلوسوں میں روپیہ خرچ کیا گیا۔ ہر ضلع میں تقاریب کے انعقاد کیلئے لاکھوں روپئے جاری کئے گئے۔

آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی حکومتیں اس وقت اپنی پہلی میعاد کے درمیانی حصہ سے گذر رہی ہیں اور ان دونوں کے لئے اپنی اپنی ریاستوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کا بہترین موقع ہے کہ ان دو برسوں میں انہوں نے کیا کیا ہے اور آئندہ دو سال میں انہیں کیا کرنا ہے، کیونکہ چار سال ختم ہونے کے بعد مابقی ایک سال کی حکمرانی میں سرکاری کارکردگی کا سارا زور آئندہ انتخابات کی تیاری پر لگایا جاتا ہے۔ کسی بھی حکومت کے لئے کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور اس کے بہتر نتائج کی اُمید رکھنے کی مدت صرف چار سال کی ہوتی ہے۔ ابتدائی دو سال اسکیمات اور پروگراموں کا اعلان اور عمل آوری اور باقی دو سال ان اسکیمات و پروگراموں کے ذریعہ ریاست کی خوشحالی اور عوام کی ترقی کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ پانچواں سال آئندہ کی انتخابی تیاری کرنے کے لئے صرف ہوتا ہے لہذا دونوں تلگو ریاستوں کے پاس اب کچھ کرنے اور بہتر نتائج کے ساتھ نیک نامی حاصل کرنے کے صرف دو سال باقی ہیں اور ان دو سال میں اگر انہوں نے عوام کے دل جیتنے والے کام انجام دیئے تو 2019 کے اسمبلی انتخابات میں دوبارہ اقتدار کی توقع پیدا ہوگی ورنہ لوگوں کو مستردکردینے کا بھی کامل اختیار ہوتا ہے۔ اس وقت دونوں ریاستوں کے دو سال کی کارکردگی کا خوش کن پہلو کچھ بھی نہیں ہے۔ جس ترقی اور خوشحالی کے لئے ریاست کے تکڑے کئے گئے تھے اس مقصد کو عوام نے ابھی تک حاصل نہیں کیا ہے ۔

دونوں ریاستوں میں عوامی مسائل جوں کے توں ہیں۔ البتہ دونوں جگہ بلا امتیاز غیر سیاسی ڈرامے ایک جیسے ہی ہورہے ہیں کہ عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرو اور حکومت کے مزے لوٹ لو۔ تلگو بولنے والے عوام کے درمیان نفرت پیدا کرتے ہوئے دونوں ریاستوں کے سیاستدانوں نے کوئی خیرخواہی کا کام نہیں کیا ہے، البتہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے انتخابات کے وقت آندھرائی باشندوں کو خوش کرتے ہوئے انہیں حیدرآباد میں رہنے کی اجازت دی تھی۔ دونوں تلگو ریاستوں کے عوام کے اندر اطمینان اور خوشحالی بحال کرنے کے لئے نفرت کے شعلوں کو دبادیا گیا اس کے باوجود دونوں ریاستوں کی دو سال کی کارکردگی کی ناخوش علامتیں ظاہر ہورہی ہیں۔ وفاقی سیاسی کلچر کو بڑھاوا دیا جارہا ہے۔ ووٹ خریدنے دولت کی طاقت کا مظاہرہ اب بھی جاری ہے۔ ووٹ برائے نوٹ کا چلن گذشتہ دو دہوں سے زور پکڑا ہے، اس طرح کے عمل کے درمیان اگر حکمراں پارٹی کے لیڈران غڑیبی ہٹاؤ کا نعرہ بلند کرتے ہیں تو ان کا یہ نعرہ شعبدہ بازی ہی کہلاتا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے یوم تاسیس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے غریبی ہٹاؤ کا نعرہ لگایا، یہ نعرہ گذشتہ نصف صدی سے ہندوستان میں گونج رہا ہے۔ مگر عوام کی غربت دور نہیں ہوئی البتہ کے سی آر جیسے دولت مند لیڈروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا ہے۔اسی دولت کے سہارے نوٹ برائے ووٹ خریدا جاتا ہے۔

تلنگانہ میں چندرا بابو نائیڈو نے بھی یہی گیم کھیلنے کی کوشش کی تھی مگر حالات ان کے لئے موافق نہیں تھے۔ اگر چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ چاہیں تو چندا بابو نائیڈو کو ووٹ برائے نوٹ کے کیس میں جیل بھیج سکتے ہیں مگر ایک طرف نائیڈو نے کے سی آر سے سمجھوتہ کرلیا ہوگا، دوسری طرف کے سی آر کو بھی پڑوسی ریاست سے کچھ راحت حاصل ہورہی ہوگی۔ جشن تلنگانہ کے لئے جو تشہیر اور شور مچایا گیا ہے ایسی تشہیر عوامی فلاحی کاموں کی ہوتی تو جشن کی رونق ہی الگ ہوتی۔ مسلمانوں کو بری طرح ٹھینگا دکھایا گیا، پھر بھی مسلم قیادت اپنے مفادات کی خاطر حکمران پارٹی کی ہاں میں ہاں عادت پر چل رہی ہے۔ جشن تلنگانہ کے لئے اشتہارات اور تشہیر کا راست فائدہ حکومت کو ہی ہوگا۔ اشتہارات کے ثمرات برائہ راست یا بالواسطہ عوام ہی سمیٹتے ہیں لہذا اب انہی کے خرچ پر شائع کرائے جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں عوام کے ٹیکس سے مفاد عامہ کے لئے شائع ہونے والے اشتہارات کو سرکاری اشتہارات کہا جاتا ہے۔ اشتہارات کے ذریعہ حکومت اپنے جھوٹ کو از خود بے نقاب کردیتی ہے۔ حکومت کے جھوٹ کی ایک وسیع وعر یض دنیا ہوتی ہے جو رائے دہندوں کے صبر وتحمل کی بنیاد پر ٹکی ہوئی ہے۔2جون کو یوم تاسیس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر  نے سنہرے تلنگانہ کی جانب گامزن ہونے کا اعلان کیا۔ حکومت کے بہبودی اور ترقیاتی پروگراموں اور چیف منسٹر کے ویژن کو دیکھ کر تو خوشی ہوتی ہے کہ واقعی تلنگانہ سنہرے دور میں داخل ہوگا۔ انہوں نے ٹی ایس آئی پالیسی صنعتی پالیسی، نئی آئی ٹی پالیسی، آسرا پنشن برائے معمرین، بڑی ورکرس اور کلیان لکشمی اسکیم جیسے پسندیدہ پروگراموں پر زور دیا۔ ان کا ادعا تھا کہ برسوں سے تلنگانہ کو نظر انداز کردیا گیا تھا۔ غیر منقسم آندھرا  کے حکمرانوں نے تلنگانہ عوام کو یکسرنظر انداز کرکے  پسماندگی کا شکار بنادیا تھا، اب ان کی حکومت میں تلنگانہ تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان کا نظام حکومت ان گلے سڑے پھلوں کی طرح ہے جس کو چوہے کھارہے ہوں۔ ایسی حکومت اور ایسی پالیسیوں سے اُمید رکھنا ایسے ہی ہے جیسے فالج کے مریض سے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی اُمید رکھنا۔ تلنگانہ میں اب ان لوگوں کو فائدہ ہورہا ہے جو آندھرائی تسلط والی ریاست میں ہوتا تھا۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT