Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / ہم نے سناتھا اس بستی میںدل والے بھی رہتے ہیں…

ہم نے سناتھا اس بستی میںدل والے بھی رہتے ہیں…

محمد مبشر الدین خرم

ملک کے حالات میں پیدا ہو رہے بگاڑ کیلئے حکمراں طبقہ پر جتنی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اتنی ہی ذمہ داری ملک کے ان غیرذمہ دار شہریوں پر بھی عائد ہوتی ہے جو تمام حالات جانتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں یا پھر برداشت کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے خود کو بے پرواہ لوگوں کے زمرے میں شامل کئے ہوئے ہیں۔ان حالات میں اگر عوام کا وہ سنجیدہ طبقہ جو ملک سے محبت رکھتا ہے وہ بھی خاموش ہو جائے تو اس ملک کی تباہی اور جمہوری تانے بانے کو بکھرنے سے بچایا جانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہو جائے گا۔ 2014کے بعد سے جو حالات سامنے آرہے ہیں وہ اس بات کی غمازی کر رہے ہیں کہ ملک میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے بلکہ 2019تک اگر اسی طرح برداشت کیا جانے لگے توکچھ بھی ٹھیک ٹھاک نہیں رہے گا ۔ملک کے جمہوری نظام کو کھوکھلا کرتے ہوئے ملک کو تباہی کی سمت لیجانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف اپوزیشن کی آواز نہ اٹھنا سیاسی مفادات پر مبنی ہو سکتا ہے لیکن وہ لوگ جو سیاسی مفادات سے پرے ملک میں یکجہتی کی سیاست اور قانون کی بالا دستی قائم رکھنے کی جدوجہد کرتے ہیں ان کی خاموشی ایک بھیانک طوفان کے خطرات کی سمت اشارہ کر رہی ہے۔

ملک میں 2014عام انتخابات کے نتائج نے سنجیدہ شہریوں کے تفکرات میں اضافہ کردیا تھا اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات ملک کے ان تمام طبقات کو خوف و ہراس میں مبتلاء کردیا ہے جو حق بیانی کے معاملہ میں کسی طاقت سے خائف نہیں ہوتے تھے مگر 2014میں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والوں نے سب سے پہلے اسی طبقہ کو نشانہ بنایا جو طبقہ مذہبی بنیادوں سے ہٹ کر ان مظلوموں کے لئے آواز اٹھایا کرتا تھا جنہیں سب دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اپنا دامن جھاڑنے لگتے تھے۔ بیرونی امداد کے نام پر کئے جانے والے چھاپوں اور FCRAمیں دھاندلیوں کے نام پر تیستا سیتلواد کو ہراساں کرتے ہوئے ان جیسی دیگرحرکیاتی شخصیات کو خوف میں مبتلاء کر دیا گیا لیکن اس ملک کے خمیر میں موجود حب الوطنی اور ہم آہنگی کو ختم نہیں کیا جاسکا لیکن اب ایسے اداروں کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے جو ادارے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی و انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں۔ان اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے یہ تصور کیا جار ہا ہے کہ عوامی شعور کو جگانے کا سلسلہ ترک ہو جائے گا لیکن حکومت کے ان گوشوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ ملک میں عوامی شعور کو جگانے کیلئے وقت نہیں صلاحیت درکار ہے اور ایسے باصلاحیت لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور ان کے جگانے پر جب ملک جاگ جائے گا تو جو حالات ہوں گے اسے روک پانا حکومت کیلئے نا ممکن ہو جائے گا۔
ملک میں غیر معلنہ ایمرجنسی کی صورتحال ہے اور اس ایمرجنسی صورتحال کا شکار ملک کے ایسے ادارے بھی ہو رہے ہیں جنہیں جمہوریت کے ستون کہا جاتا ہے۔ جن میں عدلیہ اور صحافت بھی شامل ہیں۔ ملک میں زیر دوراں مقدمات کی یکسوئی کیلئے چیف جسٹس کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسوں اس ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھے گئے ‘ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی ٹی وی چیانل کے اینکر نے خود کو اسکرین پر چھائے رکھنے کے بجائے اپنے ناظرین کو اندھیرے میں لیجاتے ہوئے ان میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کی ‘ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ادیبوں‘ صحافیوں‘ شعراء  اور مصنفین نے اپنے ایوارڈ واپس کرتے ہوئے عوام کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی اور اسی طرح ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شہریوں کے غذائی امور میں سرکاری مداخلت ہوتی دیکھی گئی لیکن اس کے باوجود عوام میں کوئی جنبش نہیں ہوئی بلکہ وہ خاموش رہے۔ ملک کی ریاست تلنگانہ میں ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑے 5نوجوانوں کو موت کی نیند سلاتے ہوئے انصاف کا نیا طریقہ قائم کیا گیا جس پر کسی نے کوئی آواز نہیں اٹھائی اسی طرح ریاست مدھیہ پردیش میں 8نہتے نوجوانوں کو جو مبینہ طور پر سیمی کے کارکن تھے انہیں کس طرح قتل کیا گیا دنیا نے دیکھا ہے۔
دنیا میں کہیں بھی صحافتی اداروں پر حقائق کے انکشاف پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن افسوس کے عالمی سطح پر سب سے بڑی جمہوریت سمجھے جانے والے اس ملک کے اقدار کی تنزلی کا عالم یہ ہے کہ حکومت کے دعوؤں کو جھٹلانے والے ٹی وی چیانلس پر پابندی عائد کی جانے لگی ہے اور انہیں جھوٹا ثابت کئے جانے کے باوجود ان اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہندستان میں کوئی طبقہ یہ دعوی کرنے کے موقف میں نہیں ہے کہ وہ ان تین برسوں کے دوران خوشحال رہا ہے جب سے ملک میں ایک مخصوص فکر کے حامل افراد کو اقتدار حاصل ہوا ہے۔ کچھ تجارتی گھرانوں کے حالات تبدیل ہوئے ہیں لیکن جن لوگوں کو اس حکومت سے امیدیں وابستہ تھیں وہ بھی اب مایوس ہونے لگے ہیں لیکن مجبوری میں وہ بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ این ڈی ٹی وی ہندی پر عائد ایک روزہ پابندی نے ملک کی ایمرجنسی صورتحال کو واضح کردیا ہے۔ کشمیر میں جاری مظالم کو دکھانے پر حکومت نے پابندی عائد کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ اداروں کو سخت کاروائی کا انتباہ دیا اور پھر کشمیر میں پلیٹ گن کے استعمال سے جو ننگا ناچ کیا گیا اس کی شہادت وہ معصوم دیرہے ہیں جن کی آنکھیں ضائع ہو چکی ہیں۔
راوش کمار سینیئر جرنلسٹ این ڈی ٹی وی نے ایک ایسے دور میں حق پرستی اور بے باک صحافت کا ثبوت دیا ہے جب حکومت کسی کو بخشنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ کنہیا کمار جے این یو طلبہ یونین لیڈر نے ملک کے اقتدار پر لرزا طاری کر دیا تھا اور آج بھی کنہیا کا خوف برقرار ہے۔ دہلی میں عام آدمی نے مرکزی حکومت کی ناک کے نیچے حکومت کو چیالنج کردیا ۔ بہار میں ناخواندہ سمجھی جانے والی ریاست کے رائے دہندوں نے ملک کے’ وزیراعظم ‘کے اعلانات کو مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ انہیں ملک کے مفاد عزیز ہیں۔ پنجاب میں سکھ برادری مقتدر طبقہ کو نظر انداز کر رہی ہے ۔ کشمیر میں عوام کے درمیان قائدین نہیں پہنچ پا رہے ہیں لیکن ان تمام حالات کے باوجود حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ سب کچھ حسب معمول ہے اور عوام افیون کی گولی کے نشہ میں بد مست ہیں لیکن حکومت کو ان کی یہ بد مستی مہنگی پڑ سکتی ہے کیونکہ یہ وہ شہری ہیں جن کی تربیت گوری چمڑی ادھیڑتے ہوئے کی گئی ہے۔اس کے باوجود ملک کے مقتدر طبقہ اور اہل سیاست کا یہ احساس کے ملک کے عوام خواب غفلت میں ہیں ان کے لئے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ محکوم جب حاکم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو محکموں کا طاقت کا اندازہ کرنا حاکم کے لئے مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے اسی لئے عوام کو بھی اپنی طاقت کا اندازہ کرنا چاہئے۔

بھوپال میں فرضی انکاؤنٹر ہو یا آلیر میں کیا گیا فرضی انکاؤنٹر ہو دونوں میں ہی انسانی جانوں کا اتلاف ہوا ہے اسی طرح اڑیسہ و آندھرا پردیش سرحد پر کئے گئے انکاؤنٹر میں بھی انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں لیکن ان انسانی جانوں کو تلف کرنے کا احتیار وردی پوش غنڈوں کو کس نے دیا ہے؟ ملک میں جو ذہن حکمرانی کر رہا ہے اس کے پاس انسانی جان کی کولی قیمت نہیں ہے جس کا ثبوت 2002کا جلتا گجرات ہے۔ ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ عدالتوں میں ججس و عمل نہ ہونے کے سبب مقدمات میں تاخیر سے نمٹنے کیلئے ان پولیس عہدیداروں کو اختیارات دے دئے گئے ہیں کہ وہ اپنے طور پر ان نوجوانوں کے فیصلہ کریں جو جیلوں میں بند ہے۔ راوش کمار نے بھوپال انکاؤنٹر پر جو سوالات کھڑے کئے ہیں وہ بجا ہیں اوراب یہ بات ثابت ہونے لگی ہے کہ  مسلم طبقات اپنے لئے تیستا سیتلواد‘ راوش کمار ‘ راج دیپ سردیسائی ‘ ہرش مندر یا مہیش بھٹ کی آوازوں پر خوش ہوتے ہیں لیکن کیوں ان کی طرح بے باکی مسلم صحافیوں ‘ دانشوروں اور قائدین میں نہیں ہے ؟ مسلم نوجوانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے یہ لوگ ہمارے ساتھ تو آتے ہیں لیکن کیا ہم ان کو اس کا بہتر بدل ادا کر پا رہے ہیں؟

حکومت مسلمانوں کو فرقوں میں بانٹنے کی سازش میں کامیاب ہوتی جا رہی ہے بظاہر تحفظ شریعت کے نام پر مسلمان متحد ہوتے نظر آرہے ہیں لیکن ان کے اس اتحاد میں کس حد تک سنجیدگی باقی ہے اس کا اندازہ ان زر خرید ٹولیوں سے لگایا جا سکتا ہے جو سنگھی فکر کے حامل لوگوں سے یارانہ استوار کرتے ہوئے ملک کو تباہ کرنے میں اعانت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک کی بقاء درس محبت کو عام کرنے میں ہے۔ اب تک ہندستان میں مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں ماخوذ کرتے ہوئے انہیں جیلوں میں بند کیا جاتا رہا تھا لیکن اب انہیں جیلوں سے نکال کر ہلاک کرنے کا نیا سلسلہ شروع کیا جا چکا ہے۔ مساجد و دیگر مذہبی مقامات کے متعلق کوئی فیصلہ کرنے سے قبل حکومت مسلم قائدین سے مشاورت کیا کرتی تھی لیکن اب ایسا نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے کوئی خوف نہیں رہا ‘ اب تو حکومت نے یکساں سیول کوڈ کے نام پر مسلمانوں کے قوانین شریعت میں بھی مداخلت کے جرأت کرلی ہے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ منظم سازش کے تحت مسلمانوں کو بیک وقت کئی ایک محاذ پر سرگرم رکھنے کی کوشش کی جار ہی ہے تاکہ کسی ایک محاذ پر تو انہیں چوک دی جا سکے۔

ملک کے موجودہ حالات نہ صرف مسلمانوں کیلئے آزمائش کی گھڑی ہیں بلکہ ملک کے ان 80تا90کروڑ عوام کیلئے بھی انتہائی صبر آزما ہیں جو دستور اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتے ہوئے اس ملک کے شہری کی حیثیت سے زندگی گذار رہے ہیں۔ہندستان میںمظالم کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا اور ہندستانی شہری برداشت کرتے رہے تو اس آگ کی گرمی ان تک بھی پہنچے گی جو دستور‘ اصول ‘ تہذیب‘ تمدن‘ یکجہتی اور اخلاق کو جلاتے ہوئے بھڑکائی جا رہی ہے۔ جب اس آگ کی گرمی ملک کے شہریوں کو محسوس ہونے لگے گی تو اس سے محفوظ رہنے کے لئے کوئی راہ باقی نہیں رہے گی۔ ان حالات سے بچنے کیلئے اگر ہندستانی عوام بالخصوص سنجیدہ طبقات متحدہ طور پر ایک ہی محاذ پر حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو ایسی صور ت میںملک کے آئین اور جمہوری ستونوں کا تحفظ ممکن ہو پائے گا بصورت دیگر جب جمہوریت کے ستون ہی محفوظ نہیں رہیں گے تو جمہور کو برباد ہونے سے کو بچا سکے گا؟

 

کبھی راوش کمار مت بننا

سینیئر صحافی راوش کمار نے ملک کی آزاد اور نظریاتی صحافت کی مثال کو قائم رکھنے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے اور وہ تیزی سے ملک کے نامور صحافیوں کو پیچھے چھوڑ کر حق بیانی اور جرأت مندی کے ساتھ سوال کرنے کے سبب دیانتدار صحافیوں کے آئیڈیل بننے لگے ہیں۔ بھوپال انکاؤنٹر ‘ بیف کا مسئلہ‘ سرجیکل اٹیک‘ عدم رواداری‘ فرضی حب الوطنی‘ حکومت کی کارکردگی ہو یا پھر کسی ریاست کے انتخابات راوش کمار نے سوال پوچھنے کی جو روایات کو برقرار رکھا ہے اس کے سبب حکومت ہی نہیں بلکہ عوام کی آنکھیں کھلنے لگی ہیں۔ راوش کمار صحافتی دنیا میں ایک ایسا نام بن چکا ہے جو بے خوف و خطر سوال کرتا ہے اور وہ غیر جانبداری کی بات نہیں کرتا بلکہ حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش میں سرگرم رہتا ہے۔
بھوپال میں 8نوجوانوں کے انکاؤنٹر پر جو سوالات راوش کمار نے کھڑے کئے ہیں ان سوالوں کے جواب وزیر داخلہ مدھیہ پردیش بھوپیندر سنگھ کے پاس بھی نہیں ہیں ۔ انہوں نے مبینہ طور پر جیل سے فرار ہونے کے دوران مارے گئے گارڈ رما شنکر یادو کی موت پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ راوش کمار نے جو استفسار کئے ہیں ان کے جواب دینے میں وزیر داخلہ کامیاب تو نہیں ہوئے لیکن راوش نے اپنے ناظرین و شہریوں کو ایک نئی فکر دینے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔آئی ایس او سرٹیفیکیٹ کی حامل جیل سے 8قیدیوں کا بہ آسانی فرار ہونا اور تین علحدہ بیرکس میں بند قیدیوں کے یکجا ہونے کے علاوہ 16تا21فیٹ بلند دیوار پھاندنے پر کئے گئے سوال کے خاطر خواہ جواب اب تک نہیں مل پائے ہیں۔
جاریہ سال کے اوائل میں ملک میں عدم رواداری اور عدم برداشت کے موضوعات پر ٹی وی اینکر چیخ چیخ کر اپنی بات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے اس وقت اس صحافی نے اپنے ناظرین کو اندھیرے میں لے جاتے ہوئے یہ کہا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ کچھ نہیں بدلے گا لیکن کوشش کرتے رہنا ان کا کام ہے۔ راوش کمار نے یہ بھی کہا تھا کہ صحافی کا کام پوچھنا ہے اور وہ پوچھتے رہیں گے اور آپ کو بدلنا ہوگا تب ہی کچھ بدل سکے گا۔انہوں نے اپنے ناظرین کو اندھیرے میں لے جاتے ہوئے ان سے بات کی اور کہا تھا کہ ملک کے موجودہ حالات میں وہ اپنے ناظرین سے تنہائی میں بات کرتے ہوئے ان سے سوال کرنا چاہتے ہیںاور ان کے ان چبھتے سوالوں کو کئی لوگوں نے محسوس کیا اور ٹی وی اسکرین پر کچھ نظر نہ آنے کے باوجود اسکرین کو تکتے رہے۔
29تا31جولائی 2016کے دوران جئے پور میں منعقدہ ایک پروگرام میں راوش کمار نے ملک کے برسراقتدار طبقہ سے جو سوالات کئے ان سوالات کا جواب نہیں دیا گیا لیکن انہوں نے اس پروگرام کے ذریعہ اپنے درد کو ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہوئے اپنی جو شخصیت اور صحافتی دیانتداری ہے اسے منوانے میں کامیابی حاصل کرلی۔ صحافت میں لوگ چیخ کر اپنی بات منوانے میں کے قائل ہیں یا پھر کسی ایک سیاسی فکر کے ساتھ چلتے ہوئے ترقی کے زینے طئے کرنے لگتے ہیں لیکن راوش عوام کے درمیان رہتے ہوئے ان کے مسائل اٹھانے اور ان سے راست ملاقات کے ذریعہ ان کے سوال حکومت تک پہنچانے کے قائل ہیں۔ راوش کمار کی ایک تحریر ’’ کبھی راوش کمار مت بننا‘‘ کے ذریعہ انہوں نے اپنے پیشہ کے تلخ حقائق کو اجاگر کیا۔
راوش کمار ایک سینیئر صحافی کی حیثیت سے این ڈی ٹی وی میں پرائم ٹائم کے دوران سلگتے مسائل پر مباحث کے اینکر ہونے کے ساتھ ایک سنجیدہ صحافی ہونے کے باعث ہندستانی شہریوں کے پسندیدہ ہیں لیکن وہ نہیں چاہتے کہ ان کا شمار ان  لوگوں میں ہو جنہیں ”Celebrity”کہا جاتا ہے اسی لئے وہ بہار انتخابات کے دوران ان گلیوں میں بھی نظرآتے ہیں جہاں ووٹ کی بھیک مانگنے والے قدم رکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔اسی لئے ان کا کہنا ہے کہ’ کبھی راوش کمار مت بننا‘۔

TOPPOPULARRECENT