Tuesday , August 22 2017
Home / مضامین / ہم وفادار ہیں اور رہیں گے

ہم وفادار ہیں اور رہیں گے

Muslims offer namaz on Eid at the Fatehpuri mosque in Chandni Chowk, Old Delhi on saturday. Express Photo by Tashi Tobgyal New Delhi 180715

 

ظفر آغا

آخر ہندوستانی مسلمانوں سے کب تک وفاداری کا ثبوت مانگا جائے گا؟ آئے دن کوئی نہ کوئی خرافات ہوتی ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمان ملک کے تئیں اپنی وفاداری کا ثبوت دیں۔ اس سلسلے میں تازہ ترین خرافات یوگی حکومت کی جانب سے اترپردیش کے مدارس کے سلسلے میں ہوئی ہے۔ قارئین بخوبی واقف ہیں کہ اتر پردیش وزارت اقلیتی امور نے ایک حکم جاری کیا ہے جس میں صوبہ کے مدارس سے کہا گیا ہے کہ وہ پندرہ اگست کو تقریب یوم ا?زادی منائیں اور اس پروگرام کی ویڈیوگرافی کروا کر بطور ثبوت اس کو وزارت کے پاس بھیجیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس حکم نامے میں دھمکی بھی دی گئی ہے۔ دھمکی یہ ہے کہ اگر مدارس نے ویڈیو نہیں بھیجے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اس قسم کے حکم کو ایک ہندوستانی شہری بے ہودگی نہیں تو اور کیا کہے گا۔ کیا ہندوستانی مسلمان مریخ سے یہاں آئے تھے کہ وہ ملک کے تئیں وفاداری کا ثبوت بذریعہ ویڈیوگرافی پیش کریں۔ ارے یہ ہندوستان کی مسلم اقلیت یہاں پیدا ہوئی، یہیں پروان چڑھی اور یہیں مرے گی۔ ہمارے لیے جیسے کروڑہا مسلمانوں کا وطن العزیز ہے۔ ہمارے آبا و اجداد نے اس ملک پر جانیں نثار کی ہیں۔ وہ پہلی جنگ آزادی ہو یا گاندھی جی کی قیادت میں چلنے والی جنگ آزادی ہو، ہر موقع پر اس ملک کا مسلمان کسی سے پیچھے نہیں رہا۔ جو ثبوت مانگ رہے ہیں ان کے لیے محض بہادر شاہ ظفر اور مولانا ابوالکلام آزاد کا نام کافی ہے۔ یوں تو ایک فہرست ہے جو برسوں لکھی جائے تب بھی مکمل نہیں ہوگی، لیکن فی الحال دو نام کافی ہیں۔

ایک جنگ آزادی ہی کیا، ہندوستانی مسلم اقلیت آزادی کے بعد بھی کسی سے پیچھے ہی نہیں رہی۔ کیا اے پی جے عبدالکلام پاکستانی تھے؟ ہے کسی کی مجال کہ وہ یہ سوال اٹھائے! ارے ہندوستانی نیوکلیئر پروگرام کے رہبر عبدالکلام پر کوئی سوال اٹھا سکتا ہے کیا۔ غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل کیا ہندوستانی نہیں ہیں، کیا وہ پاکستان کے لیے سرگرم ہیں؟ کون سا میدان عمل ہے کہ جس میں سنگھ کو ہندوستانی مسلمان کی وفاداری کا سرٹیفکیٹ چاہیے۔ کرکٹ میں نواب منصور علی خان پٹودی سے لے کر عرفان پٹھان اور ظہیر خان تک درجنوں نام ہیں۔ فلم میں دلیپ کمار سے لے کر شاہ رخ اور عامر خان تک ان گنت اداکار ہیں جن کی نظیر پیش کرنی مشکل ہوگی۔ کیا محمد رفیع کو اس ملک سے وفاداری کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت تھی؟ فہرست لمبی ہے۔ ایسے درجنوں نام اور دیے جا سکتے ہیں جن کے بغیر آج کے ہندوستان کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتالیکن پھر بھی مسلمان سے آئے دن وفاداری کا ثبوت مانگا جاتا ہے۔ آخر کیوں؟ یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ سنگھ اور بی جے پی دونوں بخوبی واقف ہیں کہ جن مسلمان سے وہ وفاداری کا ثبوت مانگتے ہیں وہ اس ملک کے وفادار ہیں۔ ان کا مقصد وفاداری نہیں بلکہ مسلمانوں کو تنگ کرنا ہے۔ یہ ایک سازش ہے جس کے کئی مقاصد ہیں۔ اولاً گھڑی گھڑی اس قسم کی بات اٹھا کر مسلمانوں کو احساس کمتری میں مبتلا کیا جائے اور ان کو اس طرح مسئلہ میں الجھائے رکھا جائے تاکہ اس کی انرجی مثبت کاموں میں صرف ہونے کے بجائے منفی کاموں میں صرف ہوتی رہے اور ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف گامزن رہیں۔
پھر اس طرح کے مختلف حربوں کے ذریعہ پوری مسلم قوم کو نفسیاتی طور پر غلام بنانے کی بھی بھرپور کوشش ہے۔ کبھی یہ بیان دو کہ اذان سے ماحول میں ا?لودگی پیدا ہوتی ہے تو کبھی مسلمان کو بابر کی اولاد کہو یا پاکستانی کہہ کر مخاطب کر دیا۔ پھر مدرسوں میں یوم ا?زادی کا ویڈیوگرافی ثبوت مانگو! ان تمام باتوں کا مقصد یہی ہے کہ مسلمان کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار رہے اور آہستہ آہستہ اس کو خود اپنے اوپر سے بھروسہ اٹھ جائے اور وہ خود کو اس قدر لاچار اور مجبور محسوس کرنے لگے کہ وہ اپنے کو دوسرے درجے کا شہری تسلیم کر لے۔ جب آپ پاکستانی لقب سے نوازے جائیں گے تو پھر کیا آپ کا کسی بھی ہندوستانی پر کوئی حق بچے گا! اور جب ہندوستانیت پر حق نہیں تو کسی اختیار پر کوئی حق کہاں۔ یعنی یہ ایک نفسیاتی حربہ ہے تاکہ مسلمان خود اپنے کو دوسرے درجے کا شہری تسلیم کر لے۔ بالفاظ دیگر وہ نفسیاتی غلام بن جائے۔اس سازش کا ایک دوسرا اہم پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ ہندوؤں کو مشتعل یا باور کرایا جائے کہ مسلمان ملک دشمن ہے۔ بی جے پی اور سنگھ کے مطابق یہ ایک ہندو راشٹر ہے۔ ہر وہ شخص جو ہندو راشٹر کا دشمن یا وفادار نہیں ہوگا، ظاہر ہے کہ وہ ہندو دشمن بھی ہوگا۔ اس طرح مسلمان سے یوم آزادی پر ثبوت مانگنے کا مقصد یہی ہے کہ ہندوؤں میں یہ بات پھیلائی جائے کہ وہ آزادی پر خوش ہیں جب کہ مسلمان خوش نہیں اس لیے وہ ملک اور ہندو دونوں کا دشمن ہے اور اس طرح پھر نفرت کے ذریعہ ہندو ووٹ بینک مضبوط ہوتا ہے۔

سنگھ اور بی جے پی کے یہ پرانے حربے ہیں جو یوگی حکومت ایک بار پھر اتر پردیش میں مدرسوں کو چھیڑ کر استعمال کر رہی ہے۔ لیکن اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوستانی مسلمان تمام اقلیتوں کی طرح ہندوستان اور ہندوستانی آئین کا وفادار تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ اس لیے ایسے سوالوں اور حربوں پر غصہ ہونے کے بجائے ہنس کر ٹاالنے کی ضرورت ہے۔ ہر قوم کی طرح اقلیتوں کو بھی اپنی توانائی مثبت کاموں میں صرف کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ خود ترقی کریں اور ساتھ ہی ملک بھی ترقی کرے۔
سنگھ اور بی جے پی اپنی حرکتوں سے باز آنے والی نہیں ہے۔ مدرسوں سے پندرہ اگست کی ویڈیوگرافی کا ثبوت مانگ کر مسلم اقلیت کو پھر سے چھیڑا جا رہا ہے اس لیے اگر غصہ کیا تو وہ اپنے حربے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ثبوت دے دیجیے اور اپنی توانائی اس بات میں صرف کیجیے کہ فرقہ پرست طاقتوں کو خود اکثریت کے ساتھ مل کر اگلے چناؤ میں کیسے ہرایا جا سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT