Sunday , August 20 2017
Home / فیچر نیوز / ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

اُری حملہ… جوانوں کی قربانی پر خاموشی کیوں؟
دوستی کے جواب میں دہشت گردی

رشیدالدین
پاکستان کی سرپرستی میں ہندوستان میں جاری دراندازی ثابت کرنے کیلئے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں کیونکہ ثبوت ان کیلئے ہوتاہے جو سچائی اور حقائق تسلیم کرنے کیلئے تیار ہوں۔ جو ملک ثبوت کے باوجود سرے سے انکار کرے اس کو مطمئن کرنے کیلئے توانائیاں صرف کرنا سوائے وقت کے زیاں کے کچھ نہیں۔ سرحد پار دہشت گردی کے معاملہ میں پاکستان کا ملوث ہونا ایسا ہے جیسے ہر رات کے بعد دن کا طلوع ہونا۔ پاکستان کی یہ سرگرمیاں بجائے اس کے کہ کم ہوں ، دن بہ دن شدت اختیار کررہی ہے ۔ دراندازی اور سرحد پر پاکستانی فوج کی فائرنگ تو معمول بن چکا تھا لیکن اندرون ملک حملوں کے واقعات ہندوستان کے صبر و تحمل کا امتحان لے رہے ہیں۔ کشمیر کے اُری علاقہ میں فوجی ہیڈکوارٹر پر حملہ اور اس کے بعد بھی سرحد پر دراندازی کیلئے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اری حملہ میں 18 جانباز سپاہیوں نے ملک پر اپنی جان نچھاور کردی۔ اس بزدلانہ کارروائی کے بعد خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے ہندوستان کو جوابی کارروائی کا حق محفوظ ہے۔ ہندوستان کی جگہ کوئی اور ملک ہوتا تو فوری جوابی کارروائی کرتا لیکن ہندوستان نے اس نازک گھڑی میں بھی قوم کی برہمی کے باوجود کوئی جذباتی قدم اٹھائے بغیر جوش کی جگہ ہوش سے کام لیتے ہوئے سفارتی سطح پر پاکستان کو دہشت گرد سرگرمیوں کی سرپرستی سے باز رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ہندوستان نے پاکستان اور دنیا کے اہم ممالک کے سامنے ٹھوس ثبوت پیش کرتے ہوئے جس دانشمندی اور پرامن بقائے باہم کے جذبہ کا مظاہرہ کیا ہے ، اس کو دنیا یقیناً قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے ۔ ہندوستان جوابی کارروائی کیلئے ہر طرح سے اہل ہے اور اس کے کسی بھی فیصلہ کو قوم کی مکمل تائید حاصل ہے ۔ پھر بھی سمجھداری اور سفارتی تقاضوں کی تکمیل کرتے ہوئے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کیا گیا اور انہیں ثبوت حوالے کئے گئے ۔ اگرپاکستان ثبوتوں کے باوجود مثبت قدم نہ اٹھائے تو سفارتی تعلقات بگڑ سکتے ہیں اور اندیشہ ہے کہ دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ ہندوستان کی جانب سے ضابطہ کی تکمیل کے باوجود پاکستان کی ہٹ دھرمی کی صورت میں ہندوستان دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں پر کارروائی کیلئے آزاد رہے گا ۔ اری کا حملہ ہندوستان کیلئے ناقابل برداشت اور ملک کی سالمیت اور سلامتی پر حملہ اور دفاعی طاقت کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں ۔ پاکستان نے حملہ کے فوری بعد خود کو لا تعلق کرنے کی کوشش کی جو اس کی پرانی عادت ہے۔ سوال یہ ہے کہ حملہ آور دہشت گرد پاکستان کی سرحد سے ہی ہندوستان میں داخل ہوئے تھے اور وہ پاکستانی فوج کی مدد کے بغیر کس طرح سرحد عبور کرسکتے تھے ، جب سرحد پار دہشت گردوں کے تربیتی مراکز ہیں تو پھر یہ کس کی سرپرستی میں چل رہے ہیں؟ 1965 ء اور 1971 ء کے بعد 1999 ء کارگل جنگ میں ہندوستان سے ہزیمت اٹھانے کے بعد کم از کم پاکستان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئے ۔ صرف نیوکلیئر طاقت کے زعم پر ہندوستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کرنا خود اس کیلئے زیادہ نقصاندہ ثابت ہوگا ۔ ہندوستان کے خلاف سازش سے قبل پاکستان پہلے اپنا گھر کو متحدہ رکھے جو نام ایک ہونے کے باوجود کئی آزاد مملکتوں میں تقسیم ہوچکا ہے ۔ اُری حملہ کے ساتھ ہی ہندوستان کو فوجی کارروائی کے ذریعہ سرحد پار دہشت گرد ٹھکانوں کو تباہ کرنا چاہئے تھا اور اس کارروائی کیلئے اس کا حق بھی بنتا ہے ۔ ساری قوم کا یہی موقف تھا لیکن اب کافی دیر ہوچکی ہے ۔ امریکہ کے دباؤ میں ہندوستان نے  کارروائی سے گریز کیا اور حالیہ برسوں میں امریکہ سے بڑھتی قربت نے پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا کردی ہے ۔ پاکستان بار بار ہندوستان کے اندرونی علاقوں میں حملوں کو انجام دے رہا ہے اور حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔ جہاں تک پاکستان کو ثبوت فراہم کرنے کا سوال ہے ، اس سے کسی کارروائی کی امید کرنا فضول ہے۔ پارلیمنٹ پر حملہ ، ممبئی میں 26/11 حملہ اور حال میں پٹھان کوٹ ایر بیس پر حملے کے سلسلہ میں پاکستان کو ثبوت فراہم کئے گئے تھے لیکن اس نے کیا کارروائی کی جو اُری حملہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ پاکستان پر ہرگز بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اور ہندوستان اس سے آخر کتنی مرتبہ دھوکہ کھائے گا۔ ہندوستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے ذمہ دار پاکستان میں کھلے عام گھوم رہے ہیں اور حکومت کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ حالانکہ ان کے خلاف ہندوستان نے ثبوت فراہم کئے تھے لیکن پاکستان انہیں سماجی کارکن کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے ۔ نریندر مودی حلف برداری سے لیکر حال ہی میں نواز شریف کی ہارٹ سرجری کے لئے مودی کی دعاؤں تک بھی پاکستان نے دہشت گرد سرگرمیوں کی تائید کو جاری رکھا تھا۔ پھر بھی ہندوستان نے ہمیشہ بڑے بھائی کی طرح درگزر سے کام لیتے ہوئے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے ۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ہندوستان کو مذاکرات سے دستبرداری اختیار نہیں کرنی چاہئے کیونکہ سارک کا جذبہ بھی یہی ہے کہ باہمی مشاورت سے تنازعات کا حل تلاش کیا جائے ۔ اگر پاکستان کے خلاف کڑا رخ اختیار کرنا ہی ہو تو  افغانستان ، بنگلہ دیش ، سری لنکا اور نیپال کے تعاون سے نومبر میں اسلام آباد کی سارک چوٹی کانفرنس کا بائیکاٹ کیا جائے یا پھر سارک کی تحلیل کا اعلان کیا جائے۔ اُری حملہ کے باوجود ہندوستان نے سفارتی تعلقات کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ تجارت کیلئے سرینگر۔ مظفر آباد سڑک راستہ اور بس سرویس کو بھی جاری رکھا ۔ ہندوستان نے پاکستان کو دیئے گئے ’’انتہائی پسندیدہ ملک‘‘ موسٹ فیورٹ نیشن کے موقف کو بھی ختم نہیں کیا ہے جو کہ 1996 ء میں دیا گیا تھا جبکہ پاکستان نے ہندوستان کو آج تک یہ موقف نہیں دیا ہے ۔ جس ملک کو پسندیدہ قرار دیا گیا، اس کی ناپسندیدہ سرگرمیاں ہندوستان کے صبر کا امتحان لے رہی ہیں۔
ہندوستان اس بات پر خوش ہے کہ امریکی کانگریس میں دو ارکان نے پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے کی قرارداد پیش کی ہے۔ اس سے قبل بھی اس طرح کی قرارداد پیش کی جاچکی ہے لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ پاکستان کو جب تک امریکہ اور چین کی سرپرستی حاصل ہے ، اسے نہ ہی دہشت گرد ملک قرار دیا جائے گا اور نہ اس پر تحدیدات عائد ہوں گی ۔ امریکہ اور چین کبھی بھی ہندوستان کو ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرتا نہیں دیکھ سکتے ۔ لہذا پاکستان کو نیوکلیئر طاقت کے ساتھ ہندوستان کے خلاف کھڑا کردیا گیا ۔

امریکہ نے ایران کو نیوکلیئر پروگرام سے روکا لیکن پاکستان کو نیوکلیئر طاقت بننے میں مدد کی تاکہ ہندوستان کو دھمکاکر مرعوب رکھا جائے۔ دراصل پاکستان دونوں ممالک کے ہاتھوں کٹھ پتلی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ہندوستان کو اپنی حکمت عملی صرف پاکستان کو پیش نظر رکھ کر نہیں بلکہ امریکہ اور چین کو نمٹنے کے اعتبار سے تیار کرنا چاہئے ۔ امریکہ کی حکمت عملی کامیاب رہی اور کسی بھی تنازعہ پر دونوں ممالک اسی سے رجوع ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ دور حکومت میں امریکہ سے اس قدر قربت ہوگئی کہ ہندوستان اپنے روایتی حلیف روس سے دور ہوگیا ۔ نریندر مودی حکومت کو دوبارہ روس کے ساتھ تعلقات کے استحکام پر توجہ دینی چاہئے تاکہ توازن برقرار رہے۔ نواز شریف نے اقوام متحدہ میں اپنی اشتعال انگیز تقریر کے ذریعہ ہندوستان سے چھڑخانی کی ہے۔ ایسے وقت جبکہ سرحد پار دہشت گردوں نے اُری فوجی کیمپ پر حملہ کیا۔ نواز شریف نے کشمیر کو موضوع بناکر صورتحال کو مزید کشیدہ کردیا ہے ۔ نواز شریف اپنی تقریر کے وقت نریندر مودی کی محبت اور دوستی کو بھول گئے۔ مودی کا سالگرہ کی مبارکباد دینے اچانک لاہور جانا اور پھر ہارٹ سرجری کی کامیابی کیلئے دعائیں دینا بھی نواز شریف کو یاد نہیں رہا۔ پتہ نہیں کیوں سرجری کے بعد نواز شریف کا دل ہندوستان کے تعلق سے بدل گیا ہے۔ دراصل پاکستانی فوج کے ہاتھوں نواز شریف مجبور ہیںاور وہ پاکستان کے آخری منتخب وزیراعظم ہوسکتے ہیں۔ ان کے بعد قومی سطح پر وزارت عظمی کیلئے کوئی قابل قبول شخصیت نظر نہیں آتی۔ اس طرح آنے والے دنوں میں پاکستان کی فوجی حکومت سے ہندوستان کو مزید مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ لہذا ہندوستان کو اپنی حکمت عملی اور لائحہ عمل انہی خطوط پر تیار کرنا ہوگا ۔ اُری حملہ میں ملٹری انٹلیجنس کی ناکامی کے شبہات بھی ظاہر کئے گئے جس کی جانچ کی جارہی ہے ۔ ابھی یہ معاملہ تازہ تھا کہ ممبئی میں ساحل پر مسلح مشتبہ افراد نظر آئے اور فوج نے چوکسی اختیار کرلی۔ ممبئی میں مشتبہ افراد کا دکھائی دینا یقیناً ایک حساس مسئلہ ہے اور دوبارہ انٹلیجنس کی کارکردگی پر سوال اٹھتے ہیں۔ دراصل ہندوستان کے وزیر دفاع ایک ناتجربہ کار شخص ہیں جنہیں گوا کے چیف منسٹر سے اٹھاکر ملک کے دفاع کی ذمہ داری دیدی گئی۔ نریندر مودی نے حلف برداری سے لیکر آج تک بھی پاکستان کے بارے میں اپنی ہمدردی اور نرم گوشہ برقرار رکھا ہے، اس کا ثبوت یہ ہے کہ اُری حملہ کے بعد بھی مودی نے پاکستان کا نام لیکر مذمت نہیں کی بلکہ صرف یہ کہا کہ خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا ۔ سوال یہ ہے کہ وزیراعظم ذمہ دار ملک کی حیثیت سے پاکستان کا نام لینے سے کیوں گریز کر رہے ہیں ۔ وہ شاید بھول گئے کہ اٹل بہاری واجپائی نے جب ’’صدائے سرحد‘‘ بس کے ذریعہ لاہور پہنچ کر نواز شریف کو امن کا پیام دیا تھا، اس کے جواب میں پاکستان نے کارگل کا تحفہ دیا۔ اب جبکہ مودی نے سالگرہ کی مبارکباد دینے کیلئے اچانک لاہور کا دورہ کیا تو انہیں پٹھان کوٹ حملہ تحفہ میں ملا۔ نریندر مودی نے وزیراعظم بننے سے قبل گجرات کے چیف منسٹر کی حیثیت سے پاکستان کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا تھا۔ انہوں نے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کو لولیٹر لکھنے کے بجائے پاکستان کے اندر حملہ کرنے کی وکالت کی تھی۔ مودی نے ممبئی حملہ کا ثبوت اوباما کو پیش کرنے کا بھی مذاق اُڑایا تھا لیکن آج  نریندر مودی وزیراعظم کی حیثیت سے وہی کچھ کر رہے ہیں جس کی انہوں نے مخالفت کی تھی۔ حکومت کے رویہ پر مرزا غالب کا یہ شعر صادق آتا ہے    ؎
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

TOPPOPULARRECENT