Wednesday , October 18 2017
Home / دنیا / ہنددشمن طاقتیں ملک کی معیشت کو کمزور بنانے کے درپے

ہنددشمن طاقتیں ملک کی معیشت کو کمزور بنانے کے درپے

اراکونم ( ٹاملناڈو ) ۔9 اکٹوبر۔( سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ ہنددشمن طاقتیں اس ( ہندوستان) کی بڑھتی ہوئی اقتصادی قوت کو برداشت نہیں کرپارہی ہیں اور اس ملک کو نقصان پہونچانا اور حکمت عملی کے موقف کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردی آج سب سے بڑا خطرہ ہے اور وزیراعظم نریندر مودی اس مسئلہ کو پرزور انداز میں عالمی سطح پر پیش کررہے ہیں اور اس سے نمٹنے کیلئے کئی ممالک کی تائید حاصل کررہے ہیں ۔ سنٹرل انڈسٹرئیل سکیورٹی فورسس ( سی آئی ایس ایف) اہلکاروں کی پریڈ کی سلامی لینے کے بعد اپنے خطاب میں راجناتھ سنگھ نے مزید کہاکہ وہ دن دور نہیں ہے جب ہندوستان ی ایک اقتصادی طاقت بن جائے گا ۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کاشمار آج دنیا کی اُبھرتی ہوئی معیشتوں میں کیا جارہا ہے ۔ یہ ( ہندوستان ) دنیاکی تیز رفتار ترقی پذیر اور اُبھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان دنیا کی 10 بڑی معاشی طاقتوں میں شامل ہے ‘‘ ۔ راجناتھ سنگھ نے مزید کہاکہ دنیا اب اس حقیقت کو محسوس کرنا شروع کی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب 2030 ء میں ہندوستان دنیا کی تین سرکردہ معیشتوں میں ایک ہوگا ۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستانی معیشت کا حجم فی الحال دو کھرب ہے اور توقع ہے کہ 2030 ء تک یہ پانچ کھرب تک پہونچ جائے گی ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’تاہم ہندوستان کی دشمن طاقتیں بنیادی طورپر ان تمام رجحان کو پسند نہیں کرتیں۔ وہ ان حساس مقامات کو نقصان پہونچانا چاہتی ہیں جہاں اس (ہندوستان ) کامعاشی اور حکمت عملی استحکام کمزور ہوسکتا ہے ‘‘ ۔ دہشت گردی کو ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہاکہ دہشت گرد تنظیمیں ملک کو نقصان پہونچانا چاہتی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ’’دہشت گردی ایک سنگین خطرہ ہے ۔
امریکہ میں 9/11 حملہ اور ہندوستان میں 26/11 واقعات نے بتادیا ہے کہ دہشت گرد حملوں کے اثرات ایک طویل عرصہ تک محسوس کئے جاتے ہیں ‘‘ ۔ ملک میں حکمت عملی کی کلیدی تنصیبات جیسے ایرپورٹس ، اور صنعتی یونٹوں کی نگرانی و نگہبانی کی ذمہ داری نبھانے والے صنعتی سکیورٹی فورسیس ( سی آئی ایس ایف ) پر زور دیا کہ وہ دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے غیرمعمولی صلاحیت و مہارت اختیار کریں۔ راجناتھ سنگھ نے سائبر حملو کو دہشت گردی کا ایک نیا چہرہ قرار دیا ۔ انھوں نے سی آئی ایس ایف کی خدمات اور کارناموں کی ستائش کی ۔انھوں نے سی آئی ایس ایف پر زور دیا کہ وہ کلیدی تنصیبات کی موثر نگرانی کیلئے جدید ٹکنالوجی کا بھرپور استعمال کرے ۔

TOPPOPULARRECENT