Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / ہندوؤں میں 5500 سے زائد ذاتیں ، مسلمانوں میں اسلامی اخوت

ہندوؤں میں 5500 سے زائد ذاتیں ، مسلمانوں میں اسلامی اخوت

مسلم آبادی کو ذات پات میں بانٹنے فرقہ پرستوں کی سازش
دلتوں کے دوسرے مذاہب قبول کرنے کے رجحان پر سنگھ پریوار میں ہلچل
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ملک میں فرقہ پرستوں کو اس بات پر تشویش ہے کہ ہندو ازم میں موجود ذات پات کی تفریق کے نتیجہ میں ملک کے مختلف علاقوں میں دلت اور ہندوؤں کے پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے ہندو مذہب ترک کر کے اسلام ، عیسائیت اور بدھ ازم قبول کررہے ہیں ۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی 125 ویں پیدائشی تقریب کے موقع پر دلت ریسرچ اسکالر روہت ویمولا کی ماں رادھیکا ویمولا اور بھائی راجہ ویولا نے ممبئی میں ہزاروں دلتوں کی موجودگی میں بدھ ازم قبول کرلیا اور ہندو مذہب سے اپنی دوری کا اعلان کردیا ۔ واضح رہے کہ روہت ویمولا نے جو حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کا ایک ریسرچ اسکالر تھا یونیورسٹی میں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی قائدین کی مبینہ ہراسانی سے تنگ آکر 17 جنوری کو اپنے ہاسٹل روم میں مبینہ خود کشی کرلی تھی جس کے بعد نریندر مودی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بچ گئی ۔ روہت ویمولا واقعہ اور پھر کنہیا کمار کی گرفتاری و رہائی نے آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ کس طرح ہندو مذہب میں موجود ذات پات کے نظام پر پردہ ڈالا جائے ۔ فرقہ پرست یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ صرف مٹھی بھر برہمنوں نے دلتوں کو یرغمال بنائے رکھا ہے ۔ ان کا ہر طرح سے استحصال کیا جارہا ہے ۔ صدیوں سے دلتوں کو برہمنوں نے اپنا غلام بناکر رکھا ہے ۔ آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرست تنظیمیں اس بات کو بھی لے کر پریشان ہیں کہ ملک کی جن مندروں میں خواتین کا داخلہ ممنوع تھا وہاں عدالتیں خواتین کو داخل ہونے کی اجازت دے رہی ہیں ۔ عدالتوں کے ان احکامات سے ہندو مذہبی رہنماوں سے لے کر فرقہ پرست قائدین میں ہلچل مچ گئی ہے ۔ انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ آج خواتین کو مندروں میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے مطالبات کئے جارہے ہیں ۔ کل ملک کی تمام بڑی مندروں میں دلت پجاری اور مذہبی رہنما ہوں گے حالانکہ برہمن اور اعلیٰ ذات کے ہندو دلتوں کو انسان ہی تصور نہیں کرتے لیکن ان کی سیاسی مجبوری ہے کہ وہ دلتوں کے ساتھ زبانی ہمدردی کرتے ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ہندو معاشرہ 3000 سے ذاتوں اور 2500 سے زائد ذیلی ذاتوں میں بٹا ہوا ہے ۔ جب کہ مسلمانوں میں ذات پات ، اونچ نیچ کا کوئی نظام نہیں ہے ۔ مسلمانوں میں وہی اعلیٰ ہے جس کے اعمال اچھے ہوں جو متقی پرہیزگار ہوں اب یہی طاقتیں مسلمانوں میں ذات پات کی بنیاد پر تفرقہ پیدا کرنے کی خواہاں ہیں اور اس کے لیے باضابطہ ایک بہت بڑی سازش رچی گئی ہے ۔ دوسری جانب مندروں میں ہندو خواتین کے داخلہ کے مسئلہ پر سے توجہ ہٹانے کے لیے بھومتا رنگ راگنی بریگیڈ تروپتی دیسائی میدان میں کود پڑی ہیں ۔ ممبئی میں درگاہ حضرت حاجی علیؒ میں مسلم خواتین کے داخلہ کی مہم چلا رہی ہیں ۔ حالانکہ مسلم معاشرہ میں ایسا کوئی مسئلہ ہی نہیں ۔ عورتیں پہلے ہی سے درگاہ میں داخل نہیں ہوتیں ۔ اس ضمن میں ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندو معاشرہ میں ذات پات کے بڑھتے جھگڑوں سے پریشان فرقہ پرست عناصر بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں ۔ نتیجہ میں ان لوگوں نے مسلم معاشرہ کی جانب اپنی توجہ مرکوز کردی ہے ۔ وہ چاہتی ہیں کہ سنی ، شیعہ ، سید ، شیخ ، پٹھان ، انصاری کے خانوں میں مسلمانوں کو بانٹ کر اپنا اُلو سیدھا کرے لیکن ان بیوقوفوں کو پتہ نہیں کہ مسلمانوں میں ذات پات کی تفریق نہیں بلکہ اخوت کا مضبوط رشتہ پایا جاتا ہے اور مسلمان ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد و مضبوط ہوتے ہیں ۔۔ ( سلسلہ جاری ہے )

TOPPOPULARRECENT