Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / ہندوتوا تنظیموں پر دلت مکت بھارت بنانے کا الزام

ہندوتوا تنظیموں پر دلت مکت بھارت بنانے کا الزام

گجرات میں دلتوں پر حملے کیخلاف پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا شدید احتجاج
نئی دہلی۔20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) گجرات میں ایک مردہ گائے کی کھال اتارنے پر بعض دلتوں پر حملہ کے خلاف آج لوک سبھا میں کانگریس نے آر ایس ایس اور بی جے پی کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ہندوتوا تنظیم دلتوں سے پاک ہندوستان (دلت مکت بھارت) کے لئے کام کررہی ہے جبکہ بی جے پی گجرات میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات کے پیش نظر فرقہ بندی کی کوشش میں ہے۔ اگرچیکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے لیکن وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے مذکورہ الزامات کو مسترد کردیا اور یہ دعوی کیا ہے کہ ریاست میں سال 2001 ء سے دلتوں کے خلاف مظالم کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ اس وقت نریندر مودی چیف منسٹر تھے ، انہوں نے دلتوں پر حملہ کے خلاف ریاستی حکومت کی فی الفور کارروائی کی ستائش کی۔ مسٹر کے سریش (کانگریس) نے وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھایا جس کے ساتھ کانگریس ارکان نے ایوان کے وسط میں پہنچ کر اس واقعہ پر احتجاج شروع کردیا۔ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاست میں دلتوں کے احتجاج اور ایمرجنسی جیسی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوںن ے کہا کہ حکومت پر سے دلتوں کا بھروسہ اٹھتا جارہا ہے ۔

آر ایس ایس اور اعلی ذات کے مفاد حاصلہ تشدد کو بھڑکارہے ہیں جس پر حکمراں بینچوں نے شدید اعتراض کیا۔ کانگریس رکن نے الزام عائد کیا کہ کئی ایک دلتوں نے خودکشی کی کوشش بھی کی ہے کیوں کہ انہیں ریاستی حکومت پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد، آر ایس ایس کا ایجنڈہ ہے اور یہ تنظیم دلت مکت بھارت تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ریاستی حکومت دلتوں کی حفاظت میں یکسر ناکام ہوئی ہے اور یہ بی جے پی کی ایماء پر کیا گیا حملہ ہے۔ یہ کیا ہورہا ہے ۔۔۔ آیا یہ گجرات ماڈل ہے۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کانگریس کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے دلتوں پر حملہ کو بدبختانہ قرار دیا اور کہا کہ میں سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کانگریس پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ گجرات میں اس کے دور اقتدار میں دلتوں پر مظالم کے واقعات بڑھ گئے تھے اور جبکہ ریاست میں 1991-99 ء کے دوران دلتوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا لیکن 1995 ء میں کیشو بھائی پٹیل کی زیر قیادت بی جے پی حکومت تشکیل پانے کے بعد یہ مظالم ختم کردیئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT