Thursday , August 17 2017
Home / ہندوستان / ہندوتوا گروپ کی مجرمانہ سرگرمیاں عروج پر

ہندوتوا گروپ کی مجرمانہ سرگرمیاں عروج پر

ملک کے حالات ناگفتہ بہ ۔جماعت اسلامی ہند کے سہ روزہ اجلاس میں قرارداد منظور
نئی دہلی، 22جولائی(سیاست ڈاٹ کام)جماعت اسلامی ہند نے بنگلور میں منعقدہ تین روزہ اجلاس میں متفقہ طورپر منظورقرارداد میں کہا ہے کہ ملک کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں اور اقلیتوں کو دیدہ دانستہ طور پر اور منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے جو انتہائی تشویش کا باعث ہے ۔ ترقی کے پرفریب اعلانات کے باوجود ملک متعدد مسائل سے دوچار ہے ۔ ہندوتوا سے خود کو منسوب کرنے والے گروہوں کی مجرمانہ سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اُن کو کنٹرول کرنے کے بجائے انھیںتخریبی سرگرمیوں کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔ مذہبی اقلیتوں اور دلت برادریوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے ، جس کے نتیجے میںاندرون ملک شہریوں کے مابین منافرت بڑھی ہے ، بیرونی دنیا میں ملک کی شبیہ خراب ہوئی ہے اور سماجی و معاشی سطح پر عوام کے مسائل الجھ گئے ہیں۔جی ایس ٹی قانون اور نوٹ بندی نے معاشی مسائل حل کرنے کے بجائے ان کو پیچیدہ بنانے کا ہی کام کیا ہے ۔ جماعت اسلامی ہند کا یہ اجلاس اس صورت حال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ خود کو کسی ایک پارٹی یا شہریوں کے ایک مخصوص عنصر کی حکومت نہ سمجھے بلکہ پورے ملک اور یہاں کے تمام باشندوں کی بہتری کا ذمہ دار سمجھ کر کام کرے ۔ حکومت عوام کے اس احساس کو بھی ختم کرے کہ وہ عوام کے مسائل حل نہیں کرناچاہتی بلکہ کارپوریٹ سیکٹر اور سرمایہ داروں کے مفاد کیلئے کام کر رہی ہے ۔ خارجی سطح پر امریکہ اور کئی مغربی ملکوں کے ساتھ قریبی تعلقات کی استواری سے شاید فوجی و معاشی میدانوں میں فوائد حاصل ہو جائیں لیکن پاس پڑوس کے ملکوں میں ملک کی تصویر خراب ہوئی ہے ۔ چین کے ساتھ نئی پیدا شدہ کشیدگی تشویش کی بات ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ چین کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے پڑوسی ممالک کے ساتھ حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرے ۔ خصوصاًپاکستان، سری لنکا، نیپال اور مالدیپ کو اعتماد میں لینے اور خوش گوار روابط کی کوشش کرے ۔ اسرائیل کے ساتھ دوستی سے آگے بڑھ کر سرگرم تعاون کے نئے دورکا جو آغاز ہوا ہے ، اس اجلاس کی نظر میں وہ ملک کی آزادی کیلئے سخت نقصان دہ ہے ۔ اسرائیل کی تاریخ ہے کہ وہ اپنے مفادکا خادم ہے ، اس کے وجود سے کبھی کسی ملک کو فائدہ نہیں پہنچا۔ یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ موہوم فوائد کی بنیاد پر عرب ملکوں سے اپنے دیرینہ تعلقات کو کم زور نہ کرے ۔ افسوس کی بات ہے کہ وزیر اعظم ہند نے اپنے حالیہ دورئہ اسرائیل میں فلسطین کا کوئی ذکر نہیں کیا، جو ہماری حق پسندانہ روایت کے خلاف اور فلسطینی موقف سے چشم پوشی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT