Friday , September 22 2017
Home / مضامین / ہندوستانی بچوں کی شرح اموات میں پچاس فیصد تک کمی

ہندوستانی بچوں کی شرح اموات میں پچاس فیصد تک کمی

رتنا  چوٹرانی
پاتھ پروگرام لیڈر ڈاکٹر سائرل اینگ مان نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ گزشتہ 25 برسوں میں پانچ سال کی عمر کے اندر گروپ کے بچوں کی شرح اموات میں نصف درجہ تک کمی درج کی گئی ہے ۔ فی ایک ہزار میں سے 112 اموات کے مقابلے فی ایک ہزار 47 اموات تک کی کمی آئی ہے ۔ یعنی اس اموات کی شرح میں نصف فیصد کمی آئی ہے۔ عالمی سطح پر ہندوستان میں شرح اموات میں کمی سب سے زیادہ ہندوستان میں ریکارڈ کی گئی ہے جب ہندوستان کا دنیا کے دوسرے ممالک سے تقابل کیا جائے تو اس سلسلے میں ہندوستان میں کافی سدھار دیکھنے کو مل رہا ہے ۔
ڈاکٹر سائرل اینگ مان دی گلوبل پروگرام لیڈر برائے پاتھس میٹرنل نیو بورن چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیٹریشن پروگرام یو ایس کے ایشیا ، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں اسٹاف کی ڈائرکٹنگ کا کام انجام دے ر ہے ہیں ، انھوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ یو این میں ایسے 139 دستخط کنندہ ممالک شامل ہیں ۔ وہ ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں ان 993 ممالک میں جہاں نومولود بچوں کے کیئر پر توجہ دی جاتی ہے ۔ اس بات پر بھی توجہ دی جاتی ہے کہ اس سلسلے میں کس حد تک پیشرفت ہوئی ہے ۔ اور اس کے ہدف کو پانے کی خاطر کس حد تک کارگر اقدامات کئے گئے ہیں ۔ یہ تمام ممالک پاتھ کے اقدامات کو نمایاں خطوط تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں ۔ پاتھ عالمی پیمانے پر اسٹرٹیجک طور پر آئندہ متعدد برسوں تک عالمی پیمانے پر کوشاں رہے گا ۔

اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ہر سال 3 ملین اموات درج کی جاتی ہیں ، جن میں سے بیشتر دیہی علاقوں میں پیش آتی ہیں ، اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہر ایک ایکشن پلان اپنے ہدف کو مقرر کرے اور اس بات کا تیقن فراہم کرے کہ وہ اموات کی شرح صفر تک لانے کی کوشش کرے گا ۔ علاوہ ازیں وہ یہ بھی یقینی بنائے کہ میٹرنل ہیلتھ کو بھی ترجیحی بنیادوں پر رکھے گا ۔سال 2014 کے ستمبر میں ایکشن پلان کا آغاز ہوا تھا اور ایک ایکشن پلان خاص طور پر ہندوستان کے لئے مدون کیا گیا ۔ بہت سے ممالک اپنا اپنا ایکشن پلان رکھتے ہیں۔ اس کا آئیڈیا یہ ہے کہ اس سلسلے میں کافی گہرائی سے نظر رکھی جائے اور ملک کی مختاریت کو بھی مدنظر رکھا جائے ۔ ہر ملک اپنے اپنے ملک کی معاشی حالات کے پیش نظر اقدامات کرتا ہے اور وہ اس کے حل کی تدابیر اور رپورٹ بعد میں ورلڈ کمیونٹی کو پیش کرتا ہے ۔
پاتھ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سائرل اینگ مان نے کہا کہ پاتھ عالمی تنظیم ہے جو 70 مختلف ممالک میں خدمات انجام دے رہی ہے اور اس میں 1200 پر مشتمل ایک ٹیم کام کررہی ہے ۔ یہ ٹیم اپنے ہیڈ کوارٹر اور ان ممالک میں خدمات انجام دیتی ہے جہاں پاتھ سرگرم عمل ہے ۔ یہ ٹیم پانچ اہم پلیٹ فارمس پر کام کرتی ہے جن میں ڈرگس ڈائگناسیس ، ٹیکہ کاری ، پبلک ہیلتھ ، ڈیوائسس اینڈ سسٹم اینڈ سرویس اِنّویشن شامل ہیں ۔ یہ ہیلتھ اکویٹی کے لئے انٹرپرنیویل انسائٹ اور پیشن کو فروغ دینے کا کام کرتی ہے ۔

ٹیکہ کاری کے زمرہ میں اس تنظیم نے متعدد ٹیکوں مثلاً جاپانی انسفلائٹس (جے ای) روٹا وائرس وغیرہ 166 ملین افراد تک رسائی کو ممکن بنایا ہے ۔ پبلک ہیلتھ سسٹم زمرے میں پاتھ کافی اہم خدمات انجام دے رہا ہے ۔ اس سلسلے میں یہ متعددی ممالک کے ملین افراد تک کو اپنی خدمات فراہم کررہا ہے ۔ ماں اور بچے ’’پاتھ کے اسٹار‘‘ ہیں ۔ ہم اس ملک کے لیڈرشپ کے ساتھ کام کرتے ہیں جو اپنی ضروریات اور خلاء کی نشاندہی کرتا ہے اور جو کبھی کبھی پارٹنر ممالک کے ساتھ مل جل کر بھی کام کرتے ہیں ۔ ہم ساؤتھ ٹو ساتھ لرننگ کے انٹرومنٹل تھے جہاں برازیل ہیومن ملک بینکنگ میں مصروف کار تھا ۔
انھوں نے بتایا کہ ہندوستان نے ہیومن ملک بینکنگ میں بھی اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے ۔انھوں نے کہا کہ بریسٹ فیڈنگ کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔ انھوں نے یہ بات بھی بتائی کہ ہندوستان میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد بڑی تعداد میں پائی جاتی ہے اور یہاں اس کے علاوہ تشخیص پر کافی توجہ دی جارہی ہے ۔ یہاں نٹریشن پر بھی کافی کام ہورہا ہے اور فورٹی فائیڈ رائس پر بھی کام جاری ہے جو وٹامن بی 12اور دیگر نیوٹرنٹ سے مزین ہوتا ہے ۔ ہندوستان میں آئرن کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ پاتھ پروگرامس کے بارے میں مزید بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس نے متعدد ممالک میں ٹکنیکل کمیٹیز بھی وزارت صحت کے ساتھ مل کر تشکیل دی ہیں اور کمیونٹی ایمپاورمنٹ کے لئے بھی کوشاں ہے ۔ یہ تنظیم اس بات کے لئے بھی کوشش کررہی ہے کہ ٹیکہ کی زیادہ سے زیادہ مقدار میں فراہمی کو ممکن بنایا جائے اور اس بات پر بھی توجہ مرکوز کررہی ہے کہ اس بیماری سے نمٹنے کے لئے خوراک صحیح وقت پر دیئے جارہے ہیں کہ نہیں  یا یہ اشیاء صحیح جگہ پر پہنچ پارہی ہیں کہ نہیں؟ یو کے میں نیوٹریشن کے فروغ کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر کام کئے جارہے ہیں ۔ یہ ملک میں کافی انالیٹکس کے زاویئے سے کام کررہے ہیں اور ملک کے لوگوں کو یہ بتارہے ہیں کہ پالسیی فراہم ورک کو کیسے حاصل کیاجاسکتا ہے ۔ گیانا میں نوزائیدہ بچوں پر بڑا پراجکٹ کام کررہا ہے جو پالیسی کی عمل آوری پر کافی مدد فراہم کررہا ہے اور اس کے پارٹنرس اس پر بھروسہ بھی کرتے ہیں ۔ پاتھ صحت کے تمام شعبوں میں اپنی دخل اندازی کو ممکن بناتا ہے مثلاً ایچ آئی وی ری پراڈکٹو ہیلتھ ، ملیریا کیئر وغیرہ ۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے ذریعہ دس ملین افراد کو ہیلتھ سسٹم کے ذریعہ سروس فراہم کی جاچکی ہے ۔

ڈاکٹر سائرل اینگ مان پاتھ کو جوائن کرنے سے قبل بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نیوبورن ہیلتھ اسٹرٹیجی کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ وہ ایک نہایت متحرک فزیشن اور ماہر تعلیم کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں ۔ 2015 میں انھیں یونیورسٹی آف واشنگٹن کے اسکول آف میڈیسن میں خدمات انجام دینے پر مامور کیا گیا جہاں وہ پیڈیاٹرک کے پروفیسر کے طورپر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT