Thursday , August 17 2017
Home / دنیا / ہندوستانی بیورو کریسی کا ’’سرخ فیتہ‘‘ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل

ہندوستانی بیورو کریسی کا ’’سرخ فیتہ‘‘ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل

مودی حکومت میں ترقی کے بلند دعئوں کے باوجود سرکاری عہدیداروں کا تساہلی اور سردمہری برقرار: امریکہ

واشنگٹن۔ 23 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وائیٹ ہاؤز نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی 15 ماہ پرانی حکومت میں ’’قابل قدر‘‘ پیشرفت کی ہے۔ بیرونی کمپنیوں کے لئے سرخ قالین بچھاکر ان کا خیرمقدم کرنے کی راہیں کشادہ کی ہیں لیکن ہندوستانی بیورو کریسی کا بدنام ’’سرخ فیتہ‘‘ اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس لئے سرمایہ کاری کے لئے یہ سرخ فیتہ مسلسل رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے۔ وائیٹ ہاؤز میں جنوبی ایشیائی اُمور کے سینئر ڈائریکٹر قومی سلامتی کونسل سربراہ و صدر امریکہ کے خصوصی معاون مسٹر پیٹر آر لیوے سے جب سوال کیا گیا کہ مودی حکومت کے بارے میں آپ کا تجزیہ کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ مودی حکومت کا مطلب سرمایہ کاروں کے لئے سرخ قالین کے ساتھ خیرمقدم کرتا اور سرخ فیتہ دونوں متوازی طور پر ایک ساتھ جاری ہیں۔ لیوے نے کہا کہ میں نے کسی بھی ہندوستانی حکومت کو اتنی کم مدت میں اتنی تیزی سے ترقی کرتے ہوئے کئی مسائل پر پیشرفت کرتے نہیں دیکھا، لہٰذا یہ حقیقی طور پر قابل قدر کوشش ہے مگر ہندوستانی بیورو کریسی کے سرخ فیتہ نے بیرونی کمپنیوں کے لئے سرمایہ کاری کی راہوں کو مسدود کر رکھا ہے۔

یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی بیورو کریسی بلاشبہ ساری دنیا میں محترم مقام رکھتی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کے اپنے معیارات اور خوبیاں ہیں جو ماباقی دنیا کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوئیں۔ اگرچیکہ ہندوستان مسلسل ترقی کی سمت گامزن ہے، ہم کو بھرپور ایقان ہے کہ حکومت اپنی جانب سے وزیراعظم سے ویژن کو بروئے کار لانے میں کامیاب کوشش کرے گا۔ انہوں نے نئی حکومت کی پالیسیوں پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کی پالیسیوں بیرونی کمپنیوں کے لئے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کررہی ہیں۔ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے بارے میں خاص کر مئی 2014ء کو جب مودی نے اقتدار سنبھالا، انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات شاندار نوعیت کے ہیں۔ وزیراعظم مودی ایک مضبوط موقف رکھتے ہیں، اب تک ہند ۔ امریکہ کے درمیان جو تعلقات تھے، ان میں مزید مضبوطی آئی ہے، نہ صرف یہ بلکہ ہمارے قائدین بارک اوباما اور ہر کوئی وزیراعظم مودی اور ان کی کابینہ کو دونوں ملکوں کے بہتر مستقبل کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کا مستقبل نہایت ہی روشن ہے۔ ہم ہندوستان کے ساتھ باہمی تعاون کو وسعت دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہم مل جل کر کام کررہے ہیں، خاص کر علاقائی مسائل اور بین الاقوامی مسائل پر دونوں ملکوں نے ایک دوسرے سے تعاون سے اتفاق کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے تعلقات شاندار ہیں۔ پیٹر آر لیوے نے اس سال قومی سلامتی کونسل میں شمولیت اختیار کی ہے۔ وہ پورے جنوبی ایشیا کے لئے وائیٹ ہاؤز میں ایک خاص شخص ہیں۔ ان کے ذمہ افغانستان اور پاکستان کے امور کو بھی دیکھنا ہے۔ ان سے لئے گئے وسیع تر انٹرویو میں مختلف اُمور پر بات چیت کی گئی خاص کر ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات، این ڈی اے حکومت کی پالیسیوں اور علاقائی و عالمی سطح پر ہندوستان کے رول پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT