Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / ہندوستانی ’جاسوس‘ جادھو کو پاکستانی فوجی عدالت میں سزائے موت کا حکم

ہندوستانی ’جاسوس‘ جادھو کو پاکستانی فوجی عدالت میں سزائے موت کا حکم

فوجی عدالت کی توثیق ، ہندوستان کا احتجاج ، سخت پیغام : وزیر دفاع پاکستان ، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی : ایمنسٹی
اسلام آباد ۔ 10 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کی طاقتور فوج کے سربراہ نے ایک اشتعال انگیز قدم اُٹھاتے ہوئے ہندوستانی شہری کلبھوشن جادھو کو دی گئی سزائے موت کو آج منظوری دیدی ۔قبل ازیں ایک فوجی عدالت نے رازداری میں چلائے گئے مقدمہ میں جادھو کو شورش زدہ بلوچستان اور کراچی میں جاسوسی، سبوتاج کی سرگرمیوں میں مبینہ طورپر ملوث ہونے پر سزائے موت دی تھی ۔ انٹر سرویس پبلک ریلیشنز شعبہ ( آئی ایس پی آر ) میں فوجی ذرائع ابلاغ کے شعبہ نے کہاکہ 46 سالہ جادھو کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی طرف سے تمام الزامات کا خاطی قرار دیئے جانے کے بعد فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوا نے اس کو دی گئی سزائے موت کی توثیق کردی ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’اس جاسوس پر فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعہ پاکستانی فوجی قانون ( پی اے اے) کے تحت مقدمہ کی سماعت کی گئی اور سزاء دی گئی ۔ فوجی اسٹاف کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا نے کورٹ مارشل کی طرف سے اس کو دی گئی سزائے موت کی آج توثیق کی‘‘۔ یہ پیشرفت ہند ۔ پاک تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کرسکتی ہے اگرچہ پاکستان میں موجود دہشت گردوں کی طرف سے گزشتہ سال اُڑی اور پٹھان کوٹ میں ہندوستانی تنصیبات پر دہشت گرد حملوں کے بعد باہمی تعلقات میں پہلے سے کشیدگی جاری ہے۔ پاکستانی فوج کے بیان کے مطابق جادھو نے ، جو ہندوستانی بحریہ کا ایک کمانڈر ہے ، عدالت اور مجسٹریٹ کے روبرو اعتراف کیا ہے کہ ہندوستانی جاسوس ادارہ ریسرچ اینڈ انالائیسیس ونگ (راء) اُس کو کراچی اور بلوچستان میں عالمی امن کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانے والی کوشوں میں رخنہ اندازی کے ذریعہ پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے اور اس ملک کو غیرمستحکم کرنے کے مقصد سے جاسوسی و سبوتاج کی سرگرمیوں میں تعاون ، راربطہ کاری کا منصوبہ بنانے کی ذمہ داری دی تھی‘‘۔ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے سکیورٹی فورسیس نے جادھو کو شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں گزشتہ سال 3 مارچ کو اُس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ مبینہ طورپر ایران سے وہاں داخل ہوا تھا ۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’’وہ (جادھو) ہندوستانی بحریہ کا ایک برسرخدمت افسر ہے‘‘ ۔ پاکستانی فوج نے جادھو کا ایک اعترافی ویڈیو بھی جاری کیا ۔ قبل ازیں ہندوستان نے توثیق کی تھی کہ جادھو نے بحریہ میں کام کیا تھا لیکن حکومت سے اس کے کسی رابطہ کی تردید کی تھی۔ وزارت خارجہ نے گزشتہ سال مارچ میں جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ ’’اس فرد کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے چونکہ وہ ہندوستانی بحریہ سے قبل از وقت سبکدوشی اختیار کرچکا تھا ‘‘ ۔ ہندوستان نے جادھو تک اپنے قونصل خانہ کی رسائی کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا لیکن پاکستان نے یہ مطالبہ مسترد کردیا تھا ۔ آئی ایس پی آر کے بیان نے تاہم کہا کہ جادھو عرف حسین مبارک پٹیل کو قانونی گنجائش کے مطابق دفاعی افسر ( وکیل صفائی ) کی خدمات فراہم کی گئی تھی ۔ پاکستانی فوج کا تازہ ترین فیصلہ ہند۔ پاک تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کرسکتا ہے ۔ دونوں ممالک پہلے سے کئی مسائل پر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔ ان میں دہشت گردی کو پاکستان کی تائید و حمایت کا مسئلہ بھی شامل ہے کیونکہ کشمیر کے اُڑی علاقہ میں ہندوستانی فوجی اڈہ پر گزشتہ سال ستمبر میں ہوئے ایک دہشت گرد حملے میں ہندوستان کے 18 سپاہی ہلاک ہوئے تھے ۔ اس حملے کے 10 دن بعد ہندوستان نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کے اڈوں کو ’’سرجیکل حملوں‘‘ کا نشانہ بنایا تھا ۔ علاوہ ازیں گزشتہ سال جولائی میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی انکاؤنٹر میں ہلاکت کے بعد کشمیر میں پیداگڑبڑ اور بے چینی کے دوران یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف لفظی جنگ میں اُلجھ گئے تھے ۔ پاکستان کے سرکردہ ماہرین نے جادھو کو دی گئی سزائے موت کے اعلان کو ایک ایسا سخت قدم قرار دیا ہے جس کی ماضی میں نظر نہیں ملتی اور کہاکہ اس سے ان تمام بیرونی ملکوں کو ایک سخت پیغام جائے گا جو اس ملک ( پاکستان ) میں سبوتاج و جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔انھوں نے کہاکہ یہ ہندوستان کیلئے ایک انتباہ ہونا چاہئے ۔ جادھو کی سزائے موت کے بعد ہندوستان نے پاکستان کو انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستانی قیدیوں کو رہا نہیں کرے گا ۔ دریں اثناء تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے لندن سے جاری کردہ اپنے بیان میں کہاکہ پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے جادھو کو سزائے موت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے جبکہ اس کی دہلی شاخ نے سخت لب و لہجہ میں اپنے ایک بیان کے ذریعہ کہا کہ انسانی حقوق کی یہ تنظیم فوجی عدالتوں کے استحصالی نظام کی مذمت کرتی ہے ۔ اُسے فوجی جرائم کے علاوہ دیگر جرائم کے مقدموں کی سماعت کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT