Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ہندوستانی طلبہ کے لیے امریکہ اعلیٰ تعلیم کا پسندیدہ ملک

ہندوستانی طلبہ کے لیے امریکہ اعلیٰ تعلیم کا پسندیدہ ملک

امریکی قونصل خانہ حیدرآباد میں اسٹوڈنٹ ویزا ڈے تقریب ، مائیکل مولنس اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد 9 جون (سیاست نیوز) ہندوستانی طلباء کیلئے امریکہ اعلیٰ تعلیم کے حصول میں پسندیدہ ملک ہے اور چین کے بعد ہندوستان دوسرا ملک ہے جہاں کے طلبہ  تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ حیدرآباد کے امریکی قونصل خانہ میں گزشتہ 5 سال میں اسٹوڈنٹ ویزا کے حصول کے لئے درخواستوں میں 80 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ہندوستان کے تمام امریکی قونصل خانوں واقع کولکتہ، حیدرآباد، ممبئی اور چینائی کے علاوہ نئی دہلی ایمبیسی میں آج اسٹوڈنٹ ویزا ڈے منایا گیا۔ اس موقع پر آج صرف طلبہ کی ویزا درخواستیں حاصل کی گئیں۔ اِس سلسلہ میں امریکی قونصل خانہ برائے حیدرآباد میں اسٹوڈنٹ ویزا ڈے منعقد کیا گیا جس کے دوران امریکی قونصلیٹ جنرل برائے حیدرآباد مسٹر مائیکل مولنس نے بعض طلبہ کو امریکی ویزا کے حامل پاسپورٹ حوالے کئے۔ مسٹر مولنس نے اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ روانہ ہونے والے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ امریکہ میں موجود معیاری اعلیٰ تعلیم سے بھرپور استفادہ کریں۔ بعدازاں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کونسلر چیف مسٹر جنیسن فوس نے بتایا کہ امریکہ میں 1,32,000 ہندوستانی طلبہ مختلف یونیورسٹیوں اور کالجس میں زیرتعلیم ہیں جس کے نتیجہ میں امریکی معیشت کو 3.6 بلین ڈالر کی آمدنی ہوئی۔ اُنھوں نے بتایا کہ امریکی قونصل خانہ برائے حیدرآباد میں اسٹوڈنٹ ویزا کی درخواستوں میں کافی اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے اور روزانہ 700 تا 1000 ویزا درخواست گزاروں سے انٹرویو لئے جاتے ہیں۔ مسٹر جنیسن نے مزید بتایا کہ امریکی قونصل خانہ برائے حیدرآباد میں موجودہ 16 قونصل عہدیدار موجود ہیں جس میں صرف 7 عہدیدار نان ایمگرینٹ ویزا کی اجرائی سے متعلق انٹرویو لیتے ہیں۔ گچی باؤلی فینانشیل ڈسٹرکٹ میں سال 2020 ء تک قونصل خانہ کی نئی عمارت تعمیر ہوجائے گی جس میں 51 قونصل عہدیدار موجود رہیں گے جس کے سبب یومیہ دو تا ڈھائی ہزار ویزا درخواستوں کے انٹرویو لئے جاسکیں گے۔ انھوں نے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جعلی بینک اسٹیٹمنٹس اور جعلی تعلیمی صداقت نامے فراہم کرنے والے بروکرس اور کنسلٹنٹس سے چوکس رہیں۔ چونکہ فرضی دستاویزات کی بنیاد پر ویزا کا حصول جرم ہے اور اِس میں ملوث ہونے پر تاحیات امریکی ویزا کے حصول سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ امریکی قونصل خانہ یا ایمبیسی کی جانب سے ویزا کی اجرائی کے بعد امریکہ میں داخلہ کا فیصلہ بارڈر سکیورٹی اور کسٹمز کے عہدیدار کرتے ہیں جس میں قونصل خانہ کا کوئی رول نہیں ہوتا۔

TOPPOPULARRECENT