Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / ہندوستانی فوج کے پاس اسلحہ کی کمی، معیاری ہتھیار بھی نہیں

ہندوستانی فوج کے پاس اسلحہ کی کمی، معیاری ہتھیار بھی نہیں

ٹرینوں میں ناقص کھانا سربراہ کیا جاتا ہے، پارلیمنٹ میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پیش
نئی دہلی، 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں پیش کردہ آڈٹ رپورٹ میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل نے ٹرینوں میں خراب اور غیر معیاری غذا کی سربراہی، فوج کے پاس اسلحہ کی کمی، معیاری ہتھیار بھی نہیں ہے۔ ملک کے سب سے اعلیٰ ترین آڈیٹر نے 10 تاثرات پیش کئے ہیں ان میں ہندوستانی فوج میں اسلحہ کی سربراہی میں ہونے والی سنگین خامیوں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ سی اے جی نے سرکاری آرڈیننس فیکٹری بورڈ پر شدید تنقید کی کہ اس نے فوج کو مطلوب اسلحہ فراہم نہیں کئے اور مارچ 2013 ء سے فوج کو اسلحہ کی غیر مناسب و غیر معیاری فراہمی کی جارہی ہے۔ سی اے جی نے کہاکہ 2015 ء میں فوج میں اسلحہ انتظامات پر تیار کردہ اعلیٰ سطح رپورٹ میں متعلقہ سنگینیوں اور کوتاہیوں کا تذکرہ کیا گیا تھا اس کے باوجود فوج کو نظرانداز کردیا گیا۔ سرکاری آرڈیننس فیکٹری بورڈ کی جانب سے اسلحہ کی تیاری میں کمی اور سربراہی میں کوتاہی پر تبصرہ کرتے ہوئے سی اے جی نے کہاکہ جنوری 2017 کی رپورٹ کے مطابق سال 2009 ء سے سال 2013 ء کے دوران فوجی ہیڈکوارٹرس کی جانب سے آرڈیننس فیکٹری کو مطلوب ہتھیاروں کی فہرست بھی روانہ کی گئی تھی لیکن اس کی تیاری اور سربراہی نہیں ہوسکی۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل نے ٹرینوں میں سربراہ کئے جانے والے کھانوں کو بھی غیر معیاری قرار دیا۔ لکھنؤ کا سفر کرنے والے ایک مسافر کو سربراہ کردہ کٹ لیٹس کے ایک پلیٹ میں لوہے کی کیل پائی گئی۔ لکھنؤ آنند وہار ٹرمنل ڈبل ڈیکر ٹرین میں گزشتہ سال یہ واقعہ پیش آیا تھا۔

سی اے جی انڈین ریلوے پر تنقید کی کہ وہ غیر معیاری غذا سربراہ کررہی ہے جیسے باسی کھانا، آلودہ کھانا، غیر مجاز والے پانی کے بوتل انسانی استعمال کے لئے غیر موزوں ہوتے ہیں۔ انڈین ریلویز کے عہدیداروں کے ساتھ مشترکہ طور پر انجام دیئے گئے سروے اور معائنہ میں پتہ چلا ہے کہ انڈین ریلویز کی خدمات خراب ہوتے جارہی ہیں۔ ملک کے 74 اسٹیشنوں اور 80 ٹرینوں میں جولائی اور اکٹوبر 2016 ء کے دوران معائنہ کیا گیا تھا۔ ملک کے سب سے اعلیٰ ترین آڈیٹ ادارہ نے احساس ظاہر کیاکہ غذا کی سربراہی میں ناقص پن کا مظاہرہ سنگین خامی ہے۔ کھانے میں بُجھ پن اور مسافروں کو دیئے جانے والے میٹھا میں بھی کھٹاس پائی جاتی ہے۔ باسی اشیاء کی وجہ سے مسافروں کی طبیعت بگڑ جاتی ہے۔ جھینگر، چوہے، مکھیاں اور دھول میں لت پت کھانا اور پلیٹس سربراہ کی جاتی ہیں۔ ایک ٹرین میں 100 غیر فروخت شدہ پراٹھے رکھے ہوئے پائے گئے۔ مختلف ٹرینوں اور اسٹیشنوں میں بھی کئی خامیاں پائی گئیں۔ چھاپرا اسٹیشن کی کینٹین پر بغیر ڈھنکے ہوئے غذائی اشیاء رکھے گئے تھے۔ ہندوستانی بحری بیڑہ کو بھی غیر معیاری سامان فراہم کیا جاتا ہے۔ آبدوز حکام نے اپنے عملہ کی تکان کا اندازہ نہیں کیا ہے۔ اس طرح ملک کی 6 ٹیلی کام کمپنیوں میں اضافہ سے بھی سال 2010 ء تا 2015 ء کے دوران کا مالیاتی 61,000 کروڑ روپئے تھا اس طرح سرکاری ٹیلی کام بی ایس این ایل کو خسارہ ہوا ہے۔ سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹروں کی قلت اور غیر معیاری سہولتیں ایک مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ سرکاری دواخانوں میں ناقابل استعمال دوائیں جیسے جن کے معیار مدت ختم ہوتی ہے سربراہ کیا جاتا ہے۔ وزارت صحت کے سکریٹری نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مصدقہ رپورٹ نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT