Sunday , August 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستانی فٹبال کے فروغ کیلئے عالمی ٹیموں سے اشتراک بے مقصد

ہندوستانی فٹبال کے فروغ کیلئے عالمی ٹیموں سے اشتراک بے مقصد

پوشیدہ صلاحیتوں کے حامل ہونہار بچے غربت زدہ اور دیہاتوں کے ساکن : پربھاکرن
نئی دہلی۔ 13 اگست (سیاست ڈاٹ نیوز) ہندوستانی فٹبال نے حالیہ برسوں کے دوران مختلف سرکردہ یوروپی کلبس سے الحاق و اشتراک کیا لیکن ان کی اس رفاقت کے اس ملک کے فٹبال پر کوئی موثر و مثبت نتائج برآمد نہیں ہوسکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ساجھیداری دراصل تجارتی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔ ایف سی بارسیلونا، پی ایس جی مینٹ جرمین آرسٹیل اور لیوریول وغیرہ جیسے بڑے عالمی فٹبال کلبوں کے ناموں کے ملوث ہونے سے قطع نظر ایسے کئی فٹبال رابطے جن میں اکثر تیکنیکی بھی تھے جہاں تک اس ملک میں فٹبال کے فروغ کا تعلق ہے، کوئی خاص جوش و خروش جذبہ یا دلچسپی پیدا کرنے میں ناکام رہے۔ ہسپانوی کلب اٹلیٹکو میڈرڈ نے نوجوانوں کے فروغ پر اختلافات کے سبب ہندوستانی سوپر لیگ فٹبال ٹیم اٹلیٹکو ڈی کولکتہ سے اپنی وابستگی ختم کردی۔ جنوبی و وسطی ایشیاء کے لئے فیفا کے سابق ریجنل ڈیولپمنٹ آفیسر شاجی پربھاکرن نے کہا کہ ’’یہ تمام تجارتی وابستگیاں ہیں جن کا فٹبال کے فروغ پر شاید ہی کوئی اثر مرتب ہوسکتا ہے‘‘۔ پربھاکر دو دہائیوں تک اس کھیل سے وابستہ رہے ہیں۔ وہ آل انڈیا فٹبال فیڈریشن اور ایشیائی فٹبال کانفیڈریشن میں خدمات انجام دینے کے بعد فیفا کے ریجنل ڈیولپمنٹ آفیسر مقرر کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بنیادی طور پر یہ بااثر مراعات یافتہ افراد کے لئے ہے جو اس کی استطاعت رکھتے ہیں‘‘۔ پربھاکرنے کہا کہ ’’ملک میں پوشیدہ صلاحیتوں کے حامل کئی بچے دور دراز کے اندرونی علاقوں میں بدترین غریبی کی زندگی بسر کررہے ہیں جو حتی کہ ایسے پراجیکٹوں کے بارے میں جانتے تک نہیں اور کبھی بھی اس کی اسطاعت نہیں رکھتے۔ یہ بنیادی طور پر برینڈ حاصل کرنے کا عمل ہوتا ہے‘‘۔ مجوزہ انڈر 17 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی اور آئی ایس ایل کے انعقاد کے بشمول حالیہ برسوں کے دوران اس کھیل کو فروغ دینے کی سرگرم کوششوں کے باوجود ورلڈ کپ مقابلوں میں ہندوستانی ٹیم کی رسائی ہنوز ایک دور کا خواب ہے حالانکہ اس دلچسپ کھیل کے چاہنے والے اس ملک میں کثیر تعداد میں ہے۔ ہندوستانی نوجوانوں میں اس کھیل کے تئیں جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے یوروپ کے بڑے فٹبال کلبس نے ملک کے چند سرکردہ اسکولوں سے اشتراک کیا تھا اور خانگی ساجھیداروں کے ساتھ تربیتی اسکولس قائم کئے گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT