Monday , October 23 2017
Home / اداریہ / ہندوستانی مبلغین اسلام

ہندوستانی مبلغین اسلام

عالم اسلام کو کمزور کرنے کی عالمی صیہونی مہم کے حصہ کے طور پر ہندوستان کی بعض سیاسی طاقتوں نے بھی اپنے مخالف مسلم منصوبہ کو بروئے کار لانے کی پہل کی تھی جس کا تسلسل مختلف عنوانات کے ذریعہ مسلمانوں کو پریشان کرتے ہوئے اب مسلم نمائندہ مذہبی شخصیتوں اور دینی مدارس، مساجد اور مفکرین اسلام کے خلاف گمراہ کن پروپگنڈہ کے ذریعہ جاری و ساری ہے۔ ہندوستان میںدینی مدارس، ائمہ کرام اور مفکرین اسلام کو نشانہ بنانے کی گھناؤنی سازشوں پر اب تیزی سے عمل کرنے والی طاقتوں نے دہشت گردی کے حوالے سے مسلمانوں کو مزید کمتر اور رسوا کرنے کے ناپاک کرتوت شروع کئے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند، بریلوی اور دیگر موضوعات میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش اور اس پر مسلمانوں کے مخالف عقائد میں منقسم گروپس آسانی سے طاقتوں کا شکار ہورہے ہیں جو اسلام اور مسلمان دونوں کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائک اور دہشت گردی کے حوالے سے ان دنوں جس طرح کی مہم اور پروپگنڈہ شروع کیا گیا وہ ایک خاص اور منظم گروہ کی سازش کا حصہ نہیں ہوسکتی

بلکہ یہ دیرینہ اور عالمی منصوبہ کا تسلسل ہے جو ہندوستان کی موجودہ طاقتور سیاسہ گروہ اور تنظیموں نے روبہ عمل لانا شروع کیا ہے۔ اقتدار حاصل ہوتے ہی مخصوص طاقتوں کو سیاسی و مذہبی توانائی حاصل ہوئی ہے اور پورے اختیارات کا استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ میڈیا اور دیگر تشہیری ذرائع کے استعمال کی آزادی نے حکمراں طبقہ کا کام آسان کردیا ہے۔ اس لئے ذاکر نائک یا ان کی طرح مذہبی شخصیتوں کے حوالے سے دہشت گردی کی کہانیاں مؤثر طریقہ سے عوام کے ذہنوں میں پیوست کی جارہی ہے۔ اس طرح کی مہم کا مقصد دھیرے دھیرے ابنائے وطن میں ایک طبقہ کے خلاف نفرت پیدا کرنا اور اسلام کو بدنام کرنا ہے۔ اس طرح کی کھلی اور خفیہ کوششوں کے مشاہدہ کے باوجود مسلمانوں نے ہوش میں نہ آنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ جب کسی گھناؤنی سازش کو حکمراں طاقت کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے تو اس سازش کو آسانی سے انجام دیا جاسکتا ہے۔ آج یہی سب کچھ ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے ہورہا ہے۔ جو طاقت مسلم کش فسادات کے ذریعہ ہندوستان کے سیکولر مزاج کو تار تار کرچکی ہے آج وہی طاقت پورے زعم سے یہ کہہ رہی ہے کہ نفرت اور تشدد سماج کے تانے بانے کے لئے خطرہ ہے۔ ذاکر نائک پر بالواسطہ طور پر نفرت اور تشدد کا درس دینے کا الزام ہے۔ تنگ نظری اور انتہا  پسند نظریات کی تعلیم دینے کا بھی الزام عائد کرکے یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہندوستان یا دیگر ملکوں میں نوجوانوں کا ذہن خراب کرنے والے یہی لوگ ذمہ دار ہیں۔ مبلغین اسلام کے وجود کو خطرہ پیدا کرنے کے لئے اس طرح کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ آیا اسلام کی تبلیغ کے نام پر جو ٹولے اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے شکوک پیدا کررہے ہیں، آیا یہ ٹولے واقعی اسلام اور مسلمانوں کے حق میں بہتر کام کررہے ہیں؟ اس تعلق سے منفی یا مثبت ہر دو پہلو کو نظرانداز کرنے کی عادت نے ہی مسلمانوں کو اپنے خلاف ہونے والی سازشوں سے اتنا غافل رکھا ہے کہ اب اسلام دشمن گروہ پوری شدت کے ساتھ ان کے وجود کو ہلاکر رکھ دینے کی سطح پر پہونچ چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ہندوستان کے اندر ایسے واقعات رونما کروائے جاسکتے ہیں جن کے حوالے سے مسلمانوں پر شکنجہ کسا جائے گا اور پھر وہ ہندوستان میں اپنی حب الوطنی اور قوم پرستی کے جذبہ کا اظہار کرتے ہوں تو وہ سب مشکوک سمجھا جائے گا۔ ابنائے وطن کی نظروں کو مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی اس گھناؤنے سازش کا مطلب سماج میں ازخود مسلمانوں سے نفرت پیدا کی جائے تو مسلم دشمن طاقتوں کا کام آسان ہوجائے گا۔ ہندوستان کے بعض اخبارات اور ٹی وی چیانلوں نے ذاکر نائک کے بارے میں جس طرح کی بحث چھیڑی ہے یہ ہندوستان کے حق میں ہرگز بہتر نہیں ہے۔ میڈیا کا غلط استعمال کرنے والوں کو اندازہ ہونا چاہئے کہ ہر غلط مہم کا نتیجہ بھیانک ہوتا ہے مگر جب حقیقت منکشف ہوتی ہے تو اس مہم کا سرغنہ ٹولہ ازخود تباہ کن صورتحال سے دوچار ہوتا ہے۔ ہندوستان کے سیکولر کردار کا تحفظ کرنے اور مسلمانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں چوکنا رہنے کے لئے کچھ نہ کچھ ہوشمندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ہر آنے والے کل کے لئے اسلام دشمن طاقتوں نے اپنے ناپاک منصوبوں کو تیار کر رکھا ہے ان کی ہر سازش کو ناکام بنانے کے لئے مسلمانوں نے کیا تیاری کی ہے یہ غور طلب ہے۔

TOPPOPULARRECENT