Friday , May 26 2017
Home / اداریہ / ہندوستانی مسلمانوں کا صبر و تحمل

ہندوستانی مسلمانوں کا صبر و تحمل

ہندوستانی مسلمان اپنے ملک کے موجودہ حالات کا مطالعہ ، غور و فکر اور تاریخی شعور سے جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ جو طاقتیں ان کا عرصہ حیات تنگ کرنے میں سرگرم ہیں اپنی ہی غلط پالیسیوں اور زیادتیوں کی وجہ ایسے پیچیدہ اور عجیب و غریب بلکہ نازک صورتحال میں پھنس جائیں گے ۔ اس بات کی تصدیق ان حالات سے مل جائے گی جو مرکز میں مودی زیر قیادت بی جے پی حکومت، یو پی انتخابات میں زعفرانی پارٹی کی کامیابی اور چیف منسٹر کی حیثیت سے یوگی آدتیہ ناتھ کو عوام پر مسلط کرنے کے لیے اختیار کردہ سیاسی ترکیب اور اس کے عوامل ظاہر ہوتے ہیں ۔ حکمراں طبقہ اپنی پالیسیوں کے ذریعہ ملک کی اقلیت کو نشانہ بنانے کی فراق میں اکثریت کا بھاری خسارہ کرتے جارہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ ملک کیا بھاگوت ، امبانی ، امیت شاہ اور مودی کی انگلیوں میں رقصاں رہے گا ؟ فی الحال یہ ملک کی اکثریت کو احمق سمجھ کر اندھا دھند طریقہ سے آگے بڑھتے ہوئے معاشی ، سماجی اور سلامتی سطح پر بھیانک غلطیاں کررہی ہے جو آگے چل کر اکثریتی طبقہ کے لوگوں کے لیے ہی خسارہ کا باعث ہوں گی ۔ جب انسان پر معاشی آفت پڑتی ہے تو وہ بھپر جاتا ہے ۔ مندر، گائے، وندے ماترم میں اٹکی ہوئی قیادت اس ملک کے حق میں موثر ثابت نہیں ہوسکتی ۔ مسلمانوں کو نظر میں رکھ کر کی جانے والی کارروائیوں سے صرف چند لوگوں کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے ، تمام کو نہیں۔ انتخابات میں دھاندلیاں ، الکٹرانک مشینوں سے چھیڑ چھاڑ ، ارکان اسمبلی کی سودے بازی، ملک معاشی ترقی کے غلط اعداد و شمار اور پیداوار و ترقی کی شرح میں الٹ پھیر نے ساری دنیا کی آنکھیں کھول دی ہیں ۔ اس کا ایک اشارہ اس سے مل سکتا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کو چیف منسٹر یو پی بنانے پر امریکہ کے اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنے اداریہ میں شبہات کا اظہار کرتے ہوئے تنقید کی تھی ۔ ایک ریاست کے چیف منسٹر کے لیے امریکی اخبار کا اداریہ اور ہندوستانی سیاست میں ہونے والی الٹ پلٹ پر اظہار افسوس نے یہ واضح کررہا کہ اس ملک کی زعفرانی قیادت پر بین الاقوامی نظر ہے ۔ مسلمانوں کے بارے میں بھی عالمی توجہ خاص کر اسلامی ممالک کی فکر کو بھی ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ مودی حکومت کو اندر ہی اندر یہ احساس ہے کہ عالمی سطح پر اسے پسند نہیں کیا جارہا ہے ۔ گجرات فسادات سے نمٹنے میں ناکام نریندر مودی پہلے ہی سے عالمی بدنامی کا شکار ہیں ۔ آر ایس ایس کے اشاروں پر کام کرنے والی حکومت میں ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں اسلامی ممالک یکسر گونگے اور بہرے نہیں ہوسکتے ۔ امریکہ کی ڈونالڈ ٹرمپ حکومت میں مودی حکومت کے تعلق سے جو داخلی رائے پیدا ہوئی ہے اس کا اندازہ کرتے ہوئے ہی وزارت خارجی امور نے اپنے نمائندوں کو وائیٹ ہاوز کی کئی مرتبہ یاترا کروائی اور قومی سلامتی مشیر اجیت دیول کو امریکہ پہونچکر ہندوستان میں سنگھ پریوار کی ہدایت پر ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں وضاحت کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا بلکہ انہوں نے ایک ریاستی اسمبلی انتخابات کے نتائج پر وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکباد دینے کے لیے ڈونالڈ ٹرمپ کی منت سماجت کرنے پڑی جس کے بعد صرف دو منٹ کی بات چیت کا اہتمام کیا گیا ۔ یہ ایسی تبدیلیاں ہیں جو مودی حکومت اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں پیدا شدہ خرابیوں پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے ۔ ہندوستان میں سرمایہ کاری کا عمل ٹھپ ہوچکا ہے ۔ ماہرین معاشیات اپنی تشویش کو ظاہر کرنے سے بھی کترا رہے ہیں کیوں کہ ان کی لب کشائی سے مودی حکومت ناراض ہوگی اور سنگھ پریوار کا ٹولہ کسی بھی حد تک گذر سکتا ہے ۔ کیوں کہ یہ بات واضح ہے کہ جو بھی مودی حکومت کے خلاف جو بھی منہ کھولے گا وہ ملک دشمن متصور ہوگا ۔ بہر حال بی جے پی ، آر ایس ایس کا یہ دور حکومت یو پی کے 4 کروڑ مسلمانوں یا ہندوستان کے 25 کروڑ مسلمانوں کے لیے ایک عبوری دور ہے۔ اصل خسارہ ہندوستان کی اکثریت کا ہے جو گمراہ کن حالات کا شکار ہے ۔ ہندوستانی مسلمان ہر گزرتے ان حکمت عملی ، دانشمندی اور شعوری پن کے مظاہرہ کے ساتھ صبر و تحمل کو اختیار کریں گے تو آگے انہیں والہانہ اور مخلصانہ حمایت ملے گی ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT