Sunday , April 23 2017
Home / مضامین / ہندوستانی مسلمانوں کیلئے اچھی تعلیم تاریخی پس منظر

ہندوستانی مسلمانوں کیلئے اچھی تعلیم تاریخی پس منظر

آر اپادھیائے                 تیسری قسط
سید احمد بریلوی 1786-1831
شاہ ولی اللہ کے فرزند عبدالعزیز 1746-1823 نے اپنے والد کی روایت کا سلسلہ برقرار رکھا اور ان کے شاگرد رائے بریلی سے تعلق رکھنے والے سید احمد بریلوی کو آگے بڑھایا تاکہ شاہ ولی اللہ اور سعودی عرب کے مولانا وہاب کے عقیدہ کے جہادی جذبہ کو آگے بڑھایا جاسکے ۔ اسی سلسلہ میں بریلوی نے دارالسلام کے قیام کے مقصد سے غیر اسلامی طاقت راجہ رنجیت سنگھ کی سکھ مملکت پر حملہ کردیا ۔ حالانکہ وہ بالکوٹ کی جنگ میں کام آگئے جو مئی 1831 میں ہوئی تھی ۔ انہیں ہندوستانی مسلمان اسلام کے کاز کیلئے اب بھی شہید مانتے ہیں۔ مسلم اقتدار کو بحال کرنے اپنی کئی کوششوں میں مسلسل ناکامی کے بعد عقیدہ میں جہادی جذبہ رکھنے والے عناصر نے ملک میں کئی دہوں تک اپنی مہم کو معطل رکھا کیونکہ سارے ملک پر برطانوی سامراج نے اپنا تسلط جما لیا تھا ۔ 1857 میں سپاہیوں کی بغاوت کی ناکامی کے بعد مسلم انقلابی عناصر کے حوصلے پست ہوگئے اور وہ ہندوستان میں اسلامی اقتدار بحال کرنے کی امید چھوڑ بیٹھے ۔ انہوں نے اس کے بعد منظم اسلامی تحریک شروع کی ۔ انہوں نے اسلامی ادارے جیسے دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنو میں قائم کیا اور یہ ادارے مولانا وہاب اور شاہ ولی اللہ کے مذہبی ۔ سیاسی نظریہ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ لکھنو میں فرنگی محل مغل حکمران اورنگ زیب کے دور اقتدار ہی میں قائم ہوگیا تھا ۔ یہ ادارے مسلمانوں کے نمائندہ بنے ہوئے ہیں۔ ان اداروں میں اکثریت ایسے طلبا کی ہوتی ہے جو غربت کا شکار خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر لوور مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملک میں اسلامی سیاسی نظام کو رائج کرنا تو دور کی بات ہے یہ نظریاتی مذہبی ادارے آج ہزاروں بے روزگار اسلامی مولوی پیدا کررہے ہیں ۔ کچھ ایسے بھی جن کی ملازمت خاطر خواہ نہیں ہے ۔ ان اداروں کو اپنے فارغ التحصیل طلبا کی مادی خوشحالی کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ سماج میں جمہوریت ‘ سکیولر ‘ سائنٹفک ‘ صنعتی اور عصری صورتحال کیلئے مذہب میں کوئی خاطر خواہ امیدیں محسوس نہ کرتے ہوئے عام مسلمان مسجد یا مدرسوں سے آگے نہیں دیکھتے ۔ ایسے میں یہ ادارے اپنے عقیدہ کے خود ساختہ مجاہد ہی پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کی ثقافتی شناخت یا تشخص کا تحفظ کرنے کے نام پر یہ مجاہدین در اصل مسلمانوں کے اعلی طبقات کے کاز کو پورا کرنے میں مصروف ہیں۔
سر سید احمد خان 1817-98
ادارہ جاتی نظریاتی تعلیم کے ذریعہ اسلامی احیاء کی تحریک کے متوازی سر سید احمد خان 1817 – 98 نے ایک مثالی مسلم علیحدہ تحریک شروع کی جو عام طور پر علیگڈھ تحریک کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ سر سید احمد خان مغل خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور وہ برطانوی اقتدار کے وفادار تھے ۔ علیگڈھ تحریک ایک سیاسی اور تعلیمی نظریہ کیساتھ شروع کی گئی تھی جس کا مقصد ہندوستانی مسلمانوں کو عصری تعلیم فراہم کرنا تھا ۔ حالانکہ سر سید احمد خان سنی اسلام کے کٹر حامی تھے لیکن ان کے خیالات میں1857 کی بغاوت کے بعد خاطر خواہ تبدیلی آئی کیونکہ انہوں نے اس بغاوت میں اپنی برادری کے افراد کو جو نقصانات ہوئے تھے وہ دیکھے تھے ۔ ان پر جو مصائب توڑے گئے تھے وہ دیکھے تھے ۔ برطانوی سامراج نے اس وقت بے تحاشہ ظلم کیا تھا ۔ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل اور مغل حکمرانی کے ختم ہونے کا احساس کرتے ہوئے سر سید احمد خاں بہت فکرمند تھے ۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کا کھویا ہوا وقار بحال کیا جائے ۔ وہ ہندوستان میں اسلام کو عصری شکل دینے کے بانی سمجھے جاتے ہیں اور انہوں نے مسلمانوں کو برطانوی سامراج سے قریب کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ اس برادری کا ہندووں پر تسلط برقرار رہ سکے ۔ سر سید احمد خان نے انگریز حکمرانوں کو یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی تھی کہ ہندوستان میں دو بڑی مذہبی برادریاں کبھی متحد نہیں ہوسکتیں۔ ( ماخذ : حالی کی حیات جاوید ۔ ترجمہ کے ایچ قادری اور ڈیڈو میتھیو نے 1979 میں کیاتھا ۔ صفحہ 199 ادارہ ادبیات دہلی ‘ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۔ حوالہ پائینیر تاریخ 20-10-2004 ۔ مراسلہ کا کالم ‘ از روپا کوشل ) ۔ برطانوی اقتدار سے ان کے تعلقات ان کی موت تک رہے ۔ شیخ سرہندی ‘ شاہ ولی اللہ اور سید احمد بریلوی کے نظریات سے متاثر ہوکر سر سید احمد خان ‘ اسلام کو عصری ڈھانچہ میں ڈھالنے کے حامی تھے اور انہوں نے دو قومی نظریہ تیار کیاتھا ۔ مسلمانوںکو سائینسی اور عصری تعلیم دلانے ان کی کاوشوں کے نتیجہ میں مڈل کلاس مسلمانوںمیں ڈَاکٹرس ‘ انجینئرس ‘ سائینسدانوں اور عصری علوم کے اسکالرس بھی خاطر خواہ تعداد میں ہوئے تھے ۔     ( جاری ہے )

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT