Friday , May 26 2017
Home / مضامین / ہندوستانی مسلمانوں کیلئے اچھی تعلیم تاریخی پس منظر

ہندوستانی مسلمانوں کیلئے اچھی تعلیم تاریخی پس منظر

آر اپادھیائے                چوتھی اور آخری قسط

مسلمانوں کا یہ نیا طبقہ بھی بنیاد پرستوں کے اثر میں آگیا ۔ یہ طبقہ در اصل ایلیٹ مسلمانوں کیلئے معاون بنا رہا اور بتدریج عام مسلمان عوام کے ذہنوں پر اثر انداز ہونے میں کامیاب رہا ۔ سر سید احمد خان نے 1885 میں انڈین نیشنل کانگریس کے قیام کی شدت سے مخالفت کی تھی اور اسے ہندو اکثریتی تنظیم قرار دیا تھا ۔ انہوں نے مسلمانوں کے اعلی طبقہ کو اس میں شمولیت سے روکا ۔ ایک معروف مسلم اسکالر ایم آر اے بیگ نے بھی اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ ’’ مغلیہ خاندان سے تعلقات کی وجہ سے سر سید جذباتی طور پر یہ بات قبول نہیںکرسکتے تھے کہ مسلمانوں پر ہندووں کی حکمرانی ہو جو ان کے زیر دست رہے تھے ۔ انہیں یہ بھی اندیشہ تھا کہ ہندو اقتدار کے نتیجہ میں آریہ ۔ دراوڑی کلچر کو مسلمانوں کی فارسی ۔ عربی تہذیب پر مسلط کردیا جائیگا ۔
بین الاقوامی شہرت رکھنے والے مورخ آر سی مجمدار نے اپنی کتاب ’’ آزادی کیلئے جدوجہد ‘‘ کے صفحہ 127 میں تحریر کیا ہے کہ علیگڈھ تحریک نے بتدریج مسلمانوں کو سیاسی میدان میں ہندووں سے علیحدہ کردیا ۔ انڈین نیشنل کانگریس کے قیام سے ہی اس کے تعلق سے مسلمانوں کا جو نظریہ رہا ہے اس میں مخالف ہندو جذبات کو ترجیح حاصل رہی ۔ ان کا کہنا تھا کہ سر سید احمد خان کی تحریک کا مسلمانوں پر اثر تھا ۔ شائد ہی کوئی طبقہ ایسا تھا جو اس کو قبول نہے کرتا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے مسلمان ہیں اور پھر ہندوستانی ہیں۔ انہوں نے سر پرسی وال گرفتھ کے حوالے سے یہ بات کہی جن کا کہنا تھا کہ مسلمانوں یہ مانتے تھے کہ ان کے مفادات کا ہندووں سے بالکل الگ ہوکر ہی تحفظ ہوسکتا ہے اور دونوں برادریوں کا میل ملاپ ممکن ہی نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ امینہ اے سعید نے اپنے ایک انٹرویو میں جو 2003 میں شائع ہوا تھا یہ کہا تھا کہ مڈل کلاس مسلمانوں کی قوم پرستی نے انتخابی جمہوریت کے فطری عمل کو متاثر کرکے رکھ دیا ۔ سر سید احمد خان کی تعلیمی پالیسی نے اسلامی گروپس کو پرتشدد رد عمل پر مجبور کیا تھا لیکن ان کے حامیوں نے بتدریج اس مسئلہ پر قابو حاصل کرلیا ۔ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی نے مسلمانوں کے طبقہ اولی کی قیادت میں پاکستان تحریک میں ایک اہم رول ادا کیا ۔ اسے مڈل کلاس مسلمانوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا ۔ اس وقت کی مسلم قیادت نے اس نئے طبقہ کو عام مسلمانوں پر اسلامی قدامت پسندی کو مسلط کرنے کیلئے استعمال کیا اور اس کا مقصد سیاسی بالادستی حاصل کرنا ہی تھا ۔
علاقہ اقبال کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ ان کے مزاج میں تضاد تھا ۔ ان کی نظمیں قدامت پسندوں اور ترقی پسندوں دونوں میں پسند کی جاتی تھیں اور ان کی نمائندگی کرتی تھیں۔ وہ قرآن کے ساتھ آگے بڑھنے اور اسلامی سیاست کے احیاء کے خواہشمند تھے ۔ انہیں تاہم اس بات کا احساس نہیں تھا کہ سابق میں سادہ سی اسلامی موجودہ عصری تہذیب کی پیچیدگیوں کو حل کرنے میں کامیاب نہیں تھی ۔ انہوں نے ایک منظم اسلامی بنیاد ہندوستانی مسلمانوں کو فراہم کرنے کی کوشش کی تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں طبقہ اولی کے مفادات کا تحفظ کرنے میں جٹے ہوئے تھے اور عام ہندوستانی مسلمانوں کو ان کے زیر اثر لانا چاہتے تھے ۔ ہر چیز کو طبقہ اولی کے مفادات کے تابع کردیا گیا تھا ۔ جو دبا کچلا طبقہ تھا اس کے مساوات اور آزادی کے حقوق عملا سلب تھے ۔ سرسید احمد خان کے دو قومی نظریہ کو آگے بڑھاتے ہوئے علامہ اقبال اپنی آزادانہ سوچ کو جمہوریت کے عالمی نظریہ سے جوڑنے میں ناکام رہے اور وہ اپنے آپ کو اسلام کی قدیم روایت سے الگ بھی نہیں کرسکے ۔ انہوں نے مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کی سیاسی وابستگی کی کوشش کی جو در اصل مسلمانوں کی ایک مخصوص طبقہ کیلئے مفید تھا ۔ اسی طبقہ کو ملک کی تقسیم کے بعد پاکستان میں آزادانہ طاقت مل گئی تھی ۔ جن ہندوستانی مسلمانوں نے اقبال کے نظریہ کی تائید کی لیکن وہ ہندوستان میں رہ گئے انہیں اپنے قائدین سے صرف حوصلہ شکنی اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں ملا ۔ اس طرح کے دھوکہ سے کوئی سبق لینے کی بجائے مسلمانوں کے رویہ میں شائد ہی کوئی تبدیلی آئی ہے کیونکہ انہوں نے مابعد انگریزوں کے ہندوستان میں مدرسوں کی تعداد میں اضافہ پر کوئی مزاحمت نہیں کی تھی ۔ انہوں نے مذہبی رہنماؤں کو ساری برادری پر اپنی گرفت مضبوط بنائے رکھنے کا موقع فراہم کیا ۔
نتیجہ:افسوس کی بات یہ ہے کہ شیخ احمد سر ہندی سے لے کر شاہ ولی اللہ اور پھر سر سید احمد خان سے لے کر سر علامہ اقبال تک ہندوستانی مسلمانوں نے خود کی علیحدہ شناخت کیلئے جدوجہد کی ہے ۔ دوسری جانب کچھ سکیولر مسلم دانشور بھی مابعد آزادی ہندوستان میں اس رجحان کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوئے حالانکہ وہ اس کی کوشش کرسکتے تھے ۔ انہوں نے مسلم ایلیٹ کلاس یا طبقہ اولی کو مسلمانوں کی علیحدہ شناخت برقرار رکھنے میں مدد فراہم کی  در اصل مسلمانوں کے ایسے دانشوروں کی کوئی کمی نہیں ہے جو اس تلخ حقیقت کو آج بھی تحریر کرتے ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب وہ مسلم اجتماع میں جاتے ہیں تو اس پر کوئی واضح انداز میں اظہار خیال نہیں کرتے ۔ وہ اکثر و بیشتر مولانا ابوالکلام آزاد کے تقسیم کے وقت جامع مسجد دہلی سے کئے گئے خطاب کا حوالہ دیتے ہیں لیکن یہ لوگ یہ عوام میں یہ تاثر عام کرنے کی کوشش نہیں کرتے کہ انہیں اپنے قدیم خیالات سے آزاد ہونے کی ضرورت ہے ۔ اگر وہ واقعی آگے بڑھنے کیلئے سنجیدہ ہیں تو انہیں ایک جامع تحریک اور دانشورانہ جہاد کی ضرورت ہے تاکہ مسلم عوام کو علماء کی گرفت سے آزاد کروایا جاسکے ۔
ایسا اسی وقت ممکن ہے جب مدارس کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کیا جائے اور یہاں عصری اور سائینسی علوم کی تعلیم دی جائے ۔ مذہب پر تعلیم کو اختیاری کیا جاسکتا ہے ۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے ؟ ۔ کیا طبقہ اولی مسلم برادری کیلئے عصری تعلیم کی اجازت دیگا ؟ ۔ یہ ایک حساس مسئلہ ہے اور اس پر کھلے عام اور بے خوف مباحث کی ضرورت ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT