Wednesday , October 18 2017
Home / دنیا / ہندوستانی مسلمان ‘ دہشت گرد گروپس کے بہکاوؤں سے دور

ہندوستانی مسلمان ‘ دہشت گرد گروپس کے بہکاوؤں سے دور

اوباما انتظامیہ نے ستائش کی ۔ خلیجی ممالک کی ہندوستان میں بڑھتی سعودی سرمایہ کاری پر سینیٹر کرس مرفی کو تشویش
واشنگٹن 26 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ جہاں ہندوستان کے ساتھ ملک میں جگہ بنانے دہشت گرد گروپس کی جانب سے استعمال کی جانے والی دولت کا پتہ چلانے کیلئے ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے وہیں اوباما انتظامیہ نے کہا کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی ستائش کرتا ہے کیونکہ انہوں نے دہشت گرد گروپس کی جانب سے رجھائے جانے کے باوجود اچھی مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اسسٹنٹ سکریٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی و وسطی ایشیا نشا دیسائی بسوال نے سینیٹ کی خارجی تعلقات کمیٹی سے جاریہ ہفتہ کے اوائل میںایک سماعت کے دوران کہا کہ ہندوستا میں مسلم برادری نے دہشت گرد گروپس کے خلاف اچھی مزاحمت کا مظاہرہک یا ہے ۔ انہوں نے سینیٹر کرس مرفی کی جانب سے ہندوستان میںاسلامی تخریب کاری میں اضافہ سے متعلق سوال کے جواب میںکہا کہ ہم نے یہ دیکھا ہے کہ ہندوستان میں بحیثیت مجموعی تخریب کار یا انقلابی نظریات جگہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

کرس مرفی نے ہندوستان میں خلیج کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا ۔ مرفی نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے کچھ بڑی سرمایہ کاریاں کی جا رہی ہیں۔ ایک مخصوص مذہبی تحریک کی جانب سے بھی اسکولس اور مدرسوں کا بڑا نیٹ ورک شروع کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص مسئلہ پر اظہار خیال کیا جاسکتا ہے اور پھر وسیع صورتحال کو دیکھ کر رجحانات اور تخریب کار گروپس کے قدم جمالینے کے تعلق سے غور کیا جاسکتا ہے ۔ ۔ اس پر بسوال نے کہا کہ امریکہ واضح طور پر ایسی سرمایہ کاری کا جائزہ لے رہا ہے اور وہ عالمی نیٹ ورکس کی ہندوستان میں رسائی کے مسئلہ پر کافی فکرمند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی محاذ اور انٹلی جنس محاذ پر ہماری مشاورت اور اشتراک میں یہی سب سے اہمیت کا حامل مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہندوستان کے ساتھ ان شعبہ جات میں سرمایہ کاری کے بہاؤ کو روکنے پر کام کر رہے ہیں جو باعث تشویش ہیں اور خود ہندوستانی بھی سرمایہ کے اس بہاؤ کو روکنے کیلئے بہت کچھ کر رہے ہیں ۔ ایسا سرمایہ نہ صرف خلیج سے بلکہ دنیا کے دوسرے حصوں سے بھی آتا ہے اور ہندوستانیوںکو بھی اس پر کافی تشویش ہے ۔ نشا دیسائی بسوال نے کہا کہ اصل چیلنج ہمیشہ ہی یہ رہا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اس طرح کا پیسہ اور سرمایہ کہاں سے اور کس چینل کے ذریعہ آتا ہے اور اس کی نشاندہی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ ‘ جنوبی ایشیا اور ہندوستان میں رسائی حاصل کرنے ان عالمی نیٹ ورکس کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے ایک دوسرے سے بہترین تعاون و اشتراک کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT