Wednesday , September 27 2017
Home / دنیا / ہندوستانی مصنفین کو 150 ممالک کی تائید

ہندوستانی مصنفین کو 150 ممالک کی تائید

مصنفین اور مستعفی ارکان اکیڈیمی کو پن انٹرنیشنل کا سلام ‘ حکومت ‘ اکیڈیمی ‘ صدر اور وزیراعظم کو مکتوبات

واشنگٹن۔18اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی مصنفین اور فنکاروں کے ساتھ جنہوں نے اپنے باوقار ایوارڈس واپس کردیئے ہیں ۔ 150ممالک نے مصنفین نے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ’’ تعصب کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا ‘‘ اور بطور احتجاج اپنے ایوارڈس واپس کرتے ہوئے بی جے پی حکومت سے بہتر تحفظ برائے آزادی تقریر فراہم کرنے کا مطالبہ کرنے میں ہم اُن کے ساتھ ہیں ۔ پی ای این انٹرنیشنل دنیا کی صف اول کی مصنفین کی انجمن ہے جو ادب کے فروغ اور آزادی اظہار کے دنیا بھر میں دفاع کیلئے جدوجہد کرتی ہے ۔ اس نے اپنے ایک بیان میں کل کہا کہ حکومت ہند کو ایم ایم کلبُرگی ‘ نریندر ڈابھولکر اور گویند پنسارے کے قاتلوں کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کرنا چاہیئے ۔ پی ای این انٹرنیشنل کے صدر جان رائسٹن سال نے صدر جمہوریہ ہند ‘ وزیراعظم اور ساہتیہ اکیڈیمی کے نام اپنے مکتوب میں اُن پر زور دیا ہے کہ فوری اقدامات کریں تاکہ ہر ایک کے حقوق بشمول مصنفین اور فنکاروں کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے ۔

مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ہم 50سے زیادہ ناول نگاروں ‘ محققین ‘ شعراء اور عوامی دانشوروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں ۔ جنہوں نے اپنے اکیڈیمی ایوارڈس واپس کردیئے ہیں اور ان کے جرات اور دلیری کی ستائش کرتے ہیں ۔ سال نے تحریر کیا کہ 150 ممالک کے مصنفین کا کینیڈا کے شہر کیوبک میں پن انٹرنیشنل کی 81ویں کانگریس کے موقع پر اجتماع منعقد ہوا جس میں نامور محقق اور دانشور ایم ایم کلبُرگی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے بحران پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ۔ انہوں نے تحریر کیا کہ  مصنفین نے مجھ سے خواہش کی کہ بحیثیت صدر پن انٹرنیشنل آپ کو مطلع کروں کہ حکومت ہند کو ہر ایک کے حقوق کے تحفظ بشمول مصنفین اور فنکار کیلئے فوری اقدامات کرنے چاہیئے ۔ تمام مصنفین کا یہ پُرزور نظریہ تھا ۔ ہندوستانی سماج کی بہترین روایات اور تمدن اور درحقیقت دستور ہند کے الفاظ و معنی کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ مطالبہ کیا گیا ہے ۔ حکومت ہند کو مصنفوں اور فنکاروں کی برادری کو ایک بار پھر تیقن دینا چاہیئے کہ اُس کے وزراء مختلف نظریات کیلئے رواداری کا ذہن رکھتے ہیں ۔ اس کو یہ بھی تیقن دینا چاہیئے کہ ایم ایم کلبرگی ‘ نریندر ڈابھولکر اور گویند پنسارے کے قاتلوں کی شناخت کی جائے گی ‘ انہیں گرفتار کیا جائے گا ۔ مقدمہ منصفانہ انداز میں اور تیز رفتاری سے منعقد کیا جائے گا ۔ قاتلوں کو انصاف کے کٹھہرے  کھڑا کیا جائے گا ۔

کلبرگی ‘ پنسارے اور ڈابھولکر کے انتقال پر سوگ ظاہر کرتے ہوئے انجمن نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ ان جرائم کے خاطیوں کی شناخت کی جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ کلبرگی کو ہندوستان کا اعلیٰ ترین ادبی ایوارڈ ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ حاصل ہوا تھا ۔ اس کے باوجود ان کے قتل کے بعد اکیڈیمی ’’ خاموش رہی ‘‘ حالانکہ اس کے ارکان نے بطور احتجاج استعفی دے دیا ۔ کئی ایوارڈ یافتگان نے اپنے ایوارڈس واپس کردیئے ۔ پن انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کے وزراء کو مصنفین کے ایوارڈس واپس کرنے پر اعتراض ہے ۔انہیں اتنی ہمت آگئی ہے کہ ہندوستان کے موجودہ ماحول میں وہ عوامی ناراضگی عام آدمی کی حیثیت سے ظاہر نہیں کرتے ۔ پن انٹرنیشنل مصنفین کی جرات اور اظہار خیال کو سلام کرتا ہے اور  ہر طرح سے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے ۔ چاہے انہوں  نے بطور احتجاج  اپنے ایوارڈس واپس کئے ہوں یا اکیڈیمی کی مجلس عاملہ کی رکنیت سے استعفی دیا ہو ۔

TOPPOPULARRECENT