Monday , September 25 2017
Home / اداریہ / ہندوستانی نقشہ اور مسودہ بل

ہندوستانی نقشہ اور مسودہ بل

سرحدی تنازعہ میں ہندوستان کو ہمیشہ پڑوسی ملکوں پاکستان اور چین کی حرکتوں پر غصہ آتا رہا ہے۔ سرحدی حد بندیوں یا دراندازی کے واقعات نئے نہیں ہیں۔ اس مرتبہ ہندوستان کے نقشہ کو لے کر اقوام متحدہ میں پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے الزامات پر ہندوستان نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ مرکز میں نریندر مودی حکومت کے دو سال پورے ہونے پر دونوں جانب کے عوام کی عام رائے جو بھی ہو سرکاری سطح پر ہندوستان نے پاکستان کی مخالف ہند کوششوں کا بروقت نوٹ لیا ہے۔ پاکستان نے ہندوستان کے میاپ ریگولیشن بل پر اقوام متحدہ کے سامنے تشویش ظاہر کی۔ اس سلسلہ پر پاکستان کو اعتراض ہے کہ ہندوستانی پارلیمنٹ میں جو مسودہ بل پیش کیا جارہا ہے یہ اقوام متحدہ کی توجہ کا محتاج ہے۔ اس مسودہ بل کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کو فوری حرکت میں آنا چاہئے کیوں کہ پاکستان کے بقول نقشہ کے بارے میں میاپ ریگولیشن بل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ہندستان نے پاکستان کے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے داخلی معاملہ میں مداخلت سے گریز کا مشورہ دیا۔ حکومت ہند کے مجوزہ قانون کو منظوری ملنے کے بعد ہندوستانی نقشہ سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کو سخت سزا اور جرمانہ ہوگا۔ 100 کروڑ کے جمرانے یا 7 سال کی جیل ہوگی۔ کسی بھی ملک کے نقشہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعات اکثر بیرون ملک سے آئے والے نقشوں میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ ہندوستان کا نقشہ بھی جب بیرونی ملک سے ہندوستان کسی بھی ذرائع سے پہنچتا ہے تو یہاں کی متعلقہ اتھاریٹی ایسے نقشوں کو روک دیتی ہے۔ اس کی بل کو خصوصی طور پر تیار کیا جارہا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل تصاویر سے سختی سے نمٹا جاسکے۔ کسی کی بھی ویب سائٹ پر اگر نقشہ مسخ کردہ ہو تو یہ قانوناً جرم ہوگا۔ اس کے لئے سرکاری عہدیداروں کی کڑی نگرانی جاری ہے۔ مملکتی وزیر داخلہ رجیجو نے یہی بتانے کی کوشش کی کہ اس قانون سے بیرون ملک ہندوستان کی تجارتی فضاء پر کوئی آنچ آنے نہیں دی جائے گی یہ تو ابتدائی مسودہ ہے اگر اس مسودہ بل کے تعلق سے کوئی تشویش ہو تو اسے دور کردیا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعہ قانون سازی کرنے اور قانون پر عمل کرنے والوں کو سزا دینے کے بارے میں اب تک کئی بل منظور ہوچکے ہیں۔ پھر بھی ہندوستان میں قانون کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ پارلیمنٹ میں ارکان کی تائید و حمایت سے ایسے بھی قانون ہیں کہ ملک میں بعض مخصوص چرند پرند کا شکار شہریوں کو جیل پہونچاسکتا ہے۔ سڑکوں پر تھوکنے کے خلاف جرمانے عائد کرنے کا بھی قانون ہے مگر سڑکوں کو گندہ کرنے، جنگلات کاٹنے، چرند پرند کا شکار کرنے کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔ قانون سازی الگ چیز ہے اور اس پر سختی سے عمل کرنا ایک اہم بات ہے۔ جہاں تک ہندوستانی نقشہ کے تعلق سے پاکستان کی چھیڑ چھاڑ کا معاملہ ہے یہ برسوں سے چل رہا ہے۔ 1955 ء میں بھی ہندوستانی نقشہ کے بارے میں پاکستان نے بہت بڑا چیلنج کھڑا کردیا تھا۔ پاکستان میں ایک ٹریڈفیر کے موقع پر جب ہندوستان کے اسٹال پر نقشہ کو لہراکر اس میں جموں و کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بتایا گیا تھا تو پاکستان نے شدید اعتراض کرکے نقشہ ہٹانے کی کوشش کی تھی۔ 1960ء میں بھی پاکستان نے ہندوستانی نقشہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ اس وقت دونوں ملکوں کے عہدیداروں نے ملاقات کرکے سرحد کی حدبندی پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ پاکستان نے پھر ہندوستان کے ساتھ کئی موقع پر سرحدی مسائل کی یکسوئی کے لئے بات چیت کی ہے مگر چین کے اکثر سرحدی خلاف ورزیاں کی ہیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ لیکن اب حکومت سے اس طرح کے معاملوں کا غلط فائدہ اٹھانے کی کوششوں کو روکنے اور نقشہ سے چھیڑ چھاڑ کرنے والوں پر بھاری جرمانہ اور سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ بھی لازمی قراردیا گیا ہے کہ کوئی بھی ادارہ ہندوستان کی جغرافیائی معلومات کی اشاعت، تقسیم اور انہیں اکٹھا کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اس کی اجازت لینی ہوگی۔ کوئی بھی فرد یا ادارہ ہندوستانی جغرافیائی حدود، نقشہ یا مواد کو من مانی طریقہ سے شائع یا تقسیم یا پروپگنڈہ نہیں کرسکتا۔ فی الحال مرکز میں مودی زیر قیادت بی جے پی حکومت ہے تو پاکستان کے معاملہ میں کچھ نرم موقف ہی ہوگا اور جب دوسری پارٹی حکومت میں آئے گی اور بی جے پی اپوزیشن میں رہے گی تو پاکستان کے ساتھ مسائل کا شور بڑھے گا۔

TOPPOPULARRECENT