Thursday , October 19 2017
Home / مضامین / ہندوستانی ورکرس کا بحران شاہ سلمان کا جذبہ خیر سگالی

ہندوستانی ورکرس کا بحران شاہ سلمان کا جذبہ خیر سگالی

محمد قیصر، ریاض
صدر تنظیم ہم ہندوستانی
خادمین حرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی دلچسپی اور خیرسگالی کے نتیجہ میں ہندوستانی ورکرس کو راحت ملی ہے۔ گزشتہ عرصہ سے جاری ہندوستانی ورکرس کا بحران خوشگوار انداز میں حل ہوگیا اور پریشان حال ہندوستانی ورکرس کی واپسی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ جدہ اور دیگر مقامات پر روزگار سے محروم ہندوستانی ورکرس حکومت کی امداد کے منتظر تھے تاکہ ان کی باعزت طریقہ سے گھر واپسی ہوسکے۔ ایک اندازہ کے مطابق 7 تا 8 ہزار ہندوستانی ورکرس جو مختلف اداروں کے بند ہوجانے سے بیروزگار ہوگئے، وہ فاقہ کشی کا شکار تھے۔ ہندوستانی حکومت نے فوری اس سلسلہ میں توجہ مرکوز کی اور منسٹر آف اسٹیٹ امور خارجہ جنرل وی کے سنگھ کو سعودی عرب روانہ کیا۔ وی کے سنگھ نے ہندوستانی سفارت کاروں کے ہمراہ سعودی حکام بالخصوص وزارت لیبر سے بات چیت کی اور فوری امداد کے طور پر غذا اور ادویات کا انتظام کیا۔ سعودی حکومت جو ہمیشہ ہی فلاحی کاموں میں پیش پیش رہی ہے، اس نے ہندوستانی ورکرس کی دشواریوںکو محسوس کرتے ہوئے مصیبت کی اس گھڑی میں دستِ تعاون دراز کیا۔ خادمین حرمین شریفین نے وزارت سماجی بہبود کو ہندوستانی ورکرس کی امداد کی ہدایت دی جس کے تحت انہیں اگزٹ ویزا جاری کیا جائے گا اور حکومت سعودی عرب اپنے خرچ پر وطن واپسی کا انتظام کرے گی۔ ہنرمند افراد کو دوسری کمپنیوں میں ملازمت تلاش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا اور کفیل تبدیل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ہندوستانی حکومت کو اپنے شہریوں کی واپسی کیلئے ایک روپیہ بھی خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ اس طرح حکومت ہند اور حکومت سعودی عرب نے انسانی ہمدردی جذبہ کا غیر معمولی مظاہرہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 2500 ہندوستانی ورکرس واپسی کیلئے آمادہ ہیں اور ہندوستانی سفارت خانہ انہیں وطن واپسی کے انتظام کو قطعیت دے گا۔ متاثرہ افراد کے تنخواہوں کے بقایہ جات اور واجبات کی ادائیگی کیلئے حکومت سعودی عرب نے وکلاء کا انتظام کرنے کا پیشکش کیا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ لیبر نے ملازمین اپنے بقایہ جات کی تفصیلات درج کرسکتے ہیں جس کے لئے ہندوستانی سفارت خانہ کارروائی کرے گا۔ خادم حرمین شریفین نے متاثرہ افراد کیلئے جس پیکیج کا اعلان کیا ہے ، اس سے دیگر ہندوستانی تارکین وطن میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ حکومت سعودی عرب کو اس بات کا احساس ہے کہ ہندوستانی تارکین وطن اور این آر آئیز سعودی معیشت کے استحکام میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ سابق میں بھی متحدہ عرب امارات میں اس طرح کی صورتحال پیدا ہوئی تھی اور اس وقت کی آندھراپردیش حکومت نے ورکرس کی واپسی کا انتظام کیا تھا۔ سعودی عرب ہو یا کوئی اور خلیجی ملک اس طرح کی صورتحال سے بچنے کیلئے عوام کو چاہئے کہ وہ مکمل معلومات کے بعد ہی ان ممالک کا رخ کریں۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ دھوکہ باز ایجنٹس بھولے بھالے عوام کو بھاری تنخواہ اور اچھی ملازمت کا لالچ دیکر روانہ کرتے ہیں لیکن یہاں پہنچنے کے بعد وہ پریشان ہوجاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ خلیجی ممالک میں روزگار کے خواہشمند افراد مکمل معلومات کے بعد ہی کوئی قدم اٹھائیں اور ہندوستانی سفارتخانہ سے مذکورہ کمپنی کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں۔ سعودی عرب میں ہنرمند افراد کیلئے آج بھی روزگار کے بہتر مواقع موجود ہیں۔ حالیہ عرصہ میں بن لادن کمپنی کے بحران اور سعودیائزیشن کی پالیسی کے سبب بعض مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ حکومت سعودی عرب نے جن اصلاحات کو نافذ کیا ، اس کے تحت کمپنیوں میں مقامی افراد کیلئے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستانی ورکرس بعض اوقات خود اپنے ہم وطن افراد کے استحصال کا شکار ہوجاتے ہیں، جو اپنی تجارتی سرگرمیوں کیلئے نوجوانوں کو بلاکر انہیں معقول تنخواہ اور سہولیات سے محروم رکھتے ہیں۔ سعودی عرب میں سرگرم مختلف رضاکارانہ تنظیموں میں متاثرہ نوجوانوں کی مدد اور رہنمائی کیلئے باقاعدہ علحدہ سل قائم کر رکھا ہے۔ آجرین اور وعدہ کے مطابق ملازمت اور تنخواہ سے محرومی کی شکایت کو یہ تنظیمیں ہندوستانی سفارت خانہ سے رجوع کرتی ہے۔ تلنگانہ حکومت بھی قابل مبارکباد ہے جس نے متاثرہ ورکرس میں تلنگانہ ورکرس کی بازآبادکاری کے سلسلہ میں حکومت ہند سے نمائندگی کی۔ ریاض اور جدہ میں موجود ہندوستانی این آر آئیز اور ان کی نمائندہ تنظیمیں متاثرین کی رہنمائی کیلئے سرگرم ہیں۔

TOPPOPULARRECENT