Tuesday , October 24 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستانی پہلوانوں کو ’پرو کشتی لیگ‘ کا بے صبری سے انتظار

ہندوستانی پہلوانوں کو ’پرو کشتی لیگ‘ کا بے صبری سے انتظار

نئی دہلی، 26اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ریو اولمپکس میں کانسے کا تمغہ جیتنے والی ساکشی ملک اور ان کے منگیتر ستیہ ورت کادیان سمیت ہندوستانی پہلوانوں کو پرو کشتی لیگ کا بے صبری سے انتظار ہے اور سب کا خیال ہے کہ اس ٹورنامنٹ نے ان کی زندگی کو ایک نئی سمت فراہم کی ہے ۔ گونڈا (اترپردیش) کے نندنی نگرا سپورٹس کامپلیکس میں منعقد قومی چیمپئن شپ کے دوران ان پہلوانوں نے بتایا کہ اس لیگ نے ہندوستانی کشتی کو ایک سمت دی ہے ۔ یہ لیگ 15 دسمبر سے ملک کے آٹھ شہروں میں منعقد کی جائے گی، جو مہینے بھر چلے گی۔ ساکشی نے کہا: ’’اس لیگ کے بعد ہی ان کی اولمپکس، اس سے پہلے اولمپک کوالی فائنگ اور دیگر مقابلوں میں شاندار کارکردگی رہی ہے ۔ یہ لیگ ہندوستانی پہلوانوں کے لئے نیک شگون ثابت ہوئی ہے ۔‘‘ وہیں نیشنل چیمپئن شپ کے 97 کلوگرام کی فری اسٹائل میں طلائی تمغہ جیتنے والے اور حال ہی میں ساکشی سے منگنی کرنے والے ستیہ ورت نے کہا:’’ پی ڈبلیو ایل نے پہلوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دیا ہے جس میں انہیں اولمپک اور ورلڈ چمپئن شپ کے تمغے جیتنے والوں سے مقابلہ کرنے کے لئے نفسیاتی طور پر تیار ہونے میں مدد ملی ہے ۔ ‘‘ 57کلو کی فری اسٹائل کشتی میں طلائی تمغہ جیتنے والے سندیپ تومر نے کہا: ’’پی ڈبلیوایل کا تجربہ ان کے لئے بہترین رہا ہے ۔ اس لیگ کے بعد ہی وہ مسلسل دوسری بار نیشنل چیمپئن بنے اور لیگ کے بعد ہی انہیں ایشیائی چیمپئن اور اولمپین بننے کا موقع ملا۔ لیگ کے تجربے نے انہیں ایک مقام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ تین سال پہلے عالمی چمپئن شپ کے تمغہ فاتح رہے بجرنگ نے کہا: ’’لیگ میں اولمپک تمغہ جیتنے والوں سے مقابلہ کرنے کا موقع ان کے لئے ہمیشہ یادگار رہے گا۔ ان سے لڑ کر ہمارا اعتماد بڑھا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہمیں اپنی کمزوریوں سے نجات حاصل کرنے میں بھی مدد ملی ہے ۔

‘‘انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ لیگ کے بعد ذہنی طور پر کشتی کے لئے اور مضبوط ہوئے ہیں۔ اس سال ایک کروڑ روپے کی انعامی رقم جیتنے والے ’بھارت کیسری‘ ایم کھتری نے کہا: ’’لیگ کے بعد ہمیں اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ ہم دنیا میں کسی بھی پہلوان کو ہرا سکتے ہیں۔ لیگ میں یوکرین کے پہلوان کو اتنا قریب سے دیکھا تو مجھے احساس ہو گیا کہ وہ بھی کسی لحاظ سے اس سے کم نہیں ہیں۔ اس لیگ نے ہمارے اندر مقابلے کو ہر حالت میں جیتنے کا جذبہ پیدا کیا ہے ۔ ‘‘  وہیں ایشین چمپئن شپ کی رنراپ رہ چکیں نوجوت کور نے کہا: ’’اس لیگ نے ہمیں اولمپک اور عالمی چمپئن شپ کے تمغہ فاتح کھلاڑیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ہے ۔ مشرقی ایشیائی چمپئن امت دھنکڑ نے کہا کہ اس لیگ نے انہیں بہترین کارکردگی کرنے کی ترغیب دی ہے اور اس نے ان کے حوصلے کو بھی بڑھایا ہے ۔ انہیں یقین ہے کہ اس لیگ کا دوسرا سیزن گزشتہ سیزن سے بھی زیادہ اثر دار ہوگا۔  57کلو گرام زمرے میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے اتکرش کالے نے کہا کہ لیگ سے پہلوانوں کی اقتصادی حالت مضبوط ہوئی ہے ۔ 65 کلو گرام میں یہی کامیابی حاصل کرنے والے راہل مان نے کہا کہ اس لیگ سے ہندوستانی پہلوانوں کی سماجی حیثیت بنے گی جبکہ سوپر ہیوی ویٹ زمرے میں کانسے کا تمغہ جیتنے والے دیوورت چودھری نے کہا کہ اس لیگ سے پہلوانوں کو کافی مقبولیت ملی ہے اور انہیں مالی طور پر بھی مضبوط بنایا ہے اور اس کے علاوہ بین الاقوامی اسٹار پہلوانوں کے خلاف خود کو تیار کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے ۔ اسی طرح 55 کلو گرام میں قومی چمپئن للیتا سبھراوت اور بالترتیب 48 اور 53 کلو گرام میں کانسے کا تمغہ جیتنے والی پوجا اور ارپنا نے بھی تسلیم کیا کہ لیگ ہر سطح پر ہندوستانی پہلوانوں کے لئے مددگار ثابت ہوا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT