Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / ہندوستان ،جنوبی ایشیا میں ’’دہشت گردی کی ماں‘‘ : پاکستان

ہندوستان ،جنوبی ایشیا میں ’’دہشت گردی کی ماں‘‘ : پاکستان

عالمی برادری دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان خطرناک جنگ کو روکنے کی خواہاں ، پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی کا جواب

٭ ہندوستان پر ’’شکاری طرز‘‘ اختیار کرنے کا الزام
٭ اشتعال انگیز ی اور جارحانہ کارروائیاں روکی جانی چاہئے
٭ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کیلئے ہندوستان ذمہ دار
٭ سشما سوراج نے مسئلہ کشمیر کو دانستہ نہیں اُٹھایا
٭ سلامتی کونسل قراردادوں کی پابندی ہندوستان کی ذمہ داری
٭ بلوچستان میں مداخلت سے ہندوستان باز رہے

 

اقوام متحدہ۔ 24 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے آج ہندوستان پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’شکاری طرز‘‘ کا رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ اگر عالمی برادری دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان خطرناک جنگ کو روکنا چاہتی ہے تو ہندوستان کو اس کی اشتعال انگیزیوں اور جارحانہ کارروائیوں سے روکنا ضروری ہے۔ ہندوستان کو جنوبی ایشیا میں ’’دہشت گردی کی ماں‘‘ قرار دیتے ہوئے پاکستانی سفیر برائے اقوام متحدہ ملیحہ لودھی نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان ہی اُن (پاکستان) کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی سرپرستی کررہا ہے۔ کل اقوام متحدہ میں وزیر خارجہ ہند سشما سوراج کی پاکستان پر کی گئی تنقیدوں کا جواب دینے کا اپنا حق استعمال کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے ہندوستان پر شدید تنقید کی۔ سشما سوراج نے کل پاکستان پر نکتہ چینی کی تھی کہ وہ لشکر طیبہ، جیش محمد، حزب المجاہدین اور حقانی نیٹ ورک جیسے دہشت گرد گروپس کو پیدا کررہا ہے۔ ملیحہ لودھی نے الزام عائد کیا کہ سشما سوراج نے اپنی تقریر میں کشمیر جیسے اہم مسئلہ کو دانستہ طور پر نظرانداز کردیا۔ سشما سوراج نے اپنے ریمارکس میں کشمیر کا حوالہ نہیں دیا تھا۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ اگر عالمی برادری، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خطرناک تصادم کو روکنا چاہتی ہے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہندوستان کو اس کی اشتعال انگیزیوں اور جارحانہ کارروائیوں سے باز رکھے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو روکنا ضروری ہے۔ خط قبضہ پر ہندوستان مسلسل خلاف ورزیاں کررہا ہے، اسے پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی بھی روکنا ہوگا۔ عام طور پر اس طرح کا ردعمل کم مرتبہ کے خارجہ خدمات کے عہدیدار کی جانب سے ہوتا ہے، لیکن غیرمعمولی طور پر پاکستان کی اعلیٰ سفیر نے ہندوستان کے خلاف اس طرح کا بیان دیا ہے۔ ہندوستان نے ملیحہ لودھی کے ریمارکس کا فوری طور پر جواب دینا ہنوز اپنے حق کو استعمال نہیں کیا۔ پاکستان نے دوسری مرتبہ قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول پر الزام عائد کیا کہ وہ بلوچستان میں مداخلت کررہے ہیں۔ لودھی نے کہا کہ اگر فریقین اس تنازعہ کو حل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو نہ صرف یہ حق حاصل ہے بلکہ وہ تنازعہ حل کرنے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنے کیلئے مداخلت کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر وقت پر عمل نہیں کیا گیا ہے اور وقت گذرتا جارہا ہے۔ ہندوستان کا طریقہ ایک ’’شکاری کی طرح‘‘ ہے، وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو پابندی کرنے اپنی جائز اور اخلاقی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا۔ دہشت گردی پر سشما سوراج کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کوہی دہشت گردی کی تعریف و تشریح کا تعین کرنا چاہئے۔ دراصل ہندوستان ہی اپنے تمام ہمسایوں کیخلاف دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT