Sunday , August 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستان اور دھونی کی آج پروٹیز کیخلاف سخت آزمائش

ہندوستان اور دھونی کی آج پروٹیز کیخلاف سخت آزمائش

جنوبی افریقہ کے مقابل مسلسل ناکامی پر ’کیپٹن کول‘ دھونی پر شدید دباؤ ۔ انفرادی کارکردگی کیساتھ قائدانہ صلاحیتوں پر بھی نقادوں کی نظر

اندور ، 13 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) اپنی کرکٹ سے متعلق زندگی کے مشکل ترین مرحلے سے دوچار مہندر سنگھ دھونی جن پر مختلف گوشوں سے تنقیدیں ہونے لگی ہیں، اپنے کریئر کو سنبھالنے اور پست حوصلہ انڈین ٹیم کی قسمت بدلنے کوشاں ہوں گے جب میزبانوں کا سامنا جنوبی افریقہ سے دوسرے او ڈی آئی میں کل یہاں ہوگا۔ ہندوستان کو جنوبی افریقہ کی اس ملک میں آمد کے بعد سے ہنوز کامیابی کا مزہ چکھنا ہے، جیسا کہ وہ دو ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنلس (تیسرا ترک کردینا پڑا) ہارے اور پھر پہلے ونڈے میں صرف پانچ رنز سے ناکام ہوگئے۔ چونکہ نقادوں نے خاص طور پر دھونی کو ٹیم سے ہٹا دینے کی بات کہی ہے، اس لئے وہ خود کو بہت ہی چیلنج بھری صورتحال میں محسوس کررہے ہوں گے۔ سال 2015ء دھونی کیلئے ورلڈ کپ میں سیمی فائنل ناکامی کے بعد کچھ اچھا نہیں رہا ہے۔ آئی پی ایل فائنل میں شکست کے بعد بنگلہ دیش میں او ڈی آئی سیریز میں ہتک اٹھانی پڑی اور پروٹیز کے خلاف T20Is ایک اور عدم مقابلہ ثابت ہوا ہے۔ خود اُن کا فام شکستہ رہا ہے اور ’دھونی بحیثیت بیٹسمن‘ بولروں کے دلوں میں اب کوئی خوف پیدا نہیں کررہے ہیں۔ایسا لگتا ہے دھونی جو کبھی میچ کا کامیاب اختتام کرنے والا بیٹسمن تھا، اب کہیں کھوچکا ہے۔

کانپور میں پہلے او ڈی آئی میں ہندوستانی کپتان کیلئے بہت موزوں حالات تھے کہ اپنے نقادوں کو خاموش کریں لیکن وہ ٹارگٹ کے اناڑی پن والے تعاقب میں غلطی کربیٹھے۔ آخری اوور میں ہندوستان کو جیت کیلئے 11 رنز کی ضرورت کے ساتھ دھونی کیلئے کامیاب اختتام کیلئے ماحول تیار تھا جیسا کہ وہ ماضی میں کئی بار کرچکے تھے، لیکن ’’کیپٹن کول‘‘ کا لقب رکھنے والے دھونی شاید اپنی جارحانہ بیٹنگ کی صلاحیتیں کھوچکے ہیں اور وہ زیادہ تر ایک، ایک اور دو، دو رنز جوڑنے والے بیٹسمن نظر آئے۔ انھوں نے اپنی 30 گیندوں میں 31 رنز کی اننگز میں صرف ایک چوکا لگایا۔ چونکہ ورلڈ T20 زیادہ دور نہیں، اس لئے دھونی کیلئے وقت نکلا جارہا ہے، جنھیں کبھی لمیٹیڈ اوورز کے فارمٹس میں ناگزیر سمجھا جاتا تھا۔ کل جب ڈے؍ نائٹ میچ شروع ہوگا تو ساری نظریں دھونی اور اُن کی قائدانہ صلاحیتوں پر مرکوز ہوں گی اور او ڈی آئی سیریز کے بقیہ چار مقابلے بلاشبہ انڈین کیپٹن کیلئے کڑی آزمائش رہیں گے۔ حسب معمول ہندوستانی بیٹنگ لائن اپ طاقتور ہے جس میں اوپنر روہت شرما زبردست فام میں ہیں۔

مگر دھونی کے ممکنہ جانشین ویراٹ کوہلی کو رنز کی ضرورت ہے ۔ لیکن جو چیز دھونی کو سب سے زیادہ پریشان کرے گی، وہ ان کے بولروں کا پرفارمنس اور اُن کے اہم کھلاڑی روی چندرن اشوین کی عدم دستیابی ہے، جنھیں کانپور میچ کے دوران پکھوے میں تکلیف پر پوری سیریز کیلئے خارج از امکان قرار دیا جاچکا ہے۔ اشوین کی جگہ ویٹرن ہربھجن سنگھ کو ملنے کا امکان ہے، جنھیں او ڈی آئی ٹیم میں طلب کیا گیا ہے۔ دوسری طرف جنوبی افریقہ اس وقت پُراعتماد ٹیم ہے اور ہندوستانی سرزمین پر اپنی اولین او ڈی آئی سیریز جیت کیلئے کوشاں ہیں۔ جنوبی افریقی بولنگ اٹیک بہت طاقتور معلوم ہوتا جس میں پیس بولرز مورنے مورکل اور ڈیل اسٹین کی واپسی ہولی، جنھیں مختصر ترین فارمٹ میں آرام دیا گیا تھا۔ لیگ اسپنر عمران طاہر اپنے کپتان اے بی ڈی ولیرز کیلئے مشکل حالات کے کھلاڑی بن کر ابھرے ہیں۔ جہاں تک ریکارڈز کا معاملہ یہاں کا ہولکر اسٹیڈیم میزبانوں کیلئے کامیابی والا میدان ثابت ہوا ہے۔ ہندوستان نے اس 27 ہزار نشستی اسٹیڈیم میں اپنے تمام تینوں بڑے اسکور والے او ڈی آئی میچز جیتے ہیں۔    ڈے ؍ نائٹ میچ کا آغاز دوپہر 1:30 بجے ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT