Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / ہندوستان ایک سیکولر مملکت اور کثیر تہذیبی معاشرہ

ہندوستان ایک سیکولر مملکت اور کثیر تہذیبی معاشرہ

تمام عقائد اور مذاہب کا مساویانہ احترام ہندوستانی تہذیب کا اٹوٹ حصہ ، بالی یونیورسٹی میںحامد انصاری کا خطاب
بالی ۔ 4 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدرجمہوریہ محمد حامد انصاری نے عدم رواداری کے موضوع پر اپنے ملک میں جاری بحث کے درمیان آج کہا کہ ہندوستان کثیر ثقافتی معاشرہ ہے اور دستور میں تنوع کو یقینی بنانے کے علاوہ ایک سیکولر مملکت کی ضمانت دی گئی ہے جس سے تمام مذاہب اور عقائد کیلئے مساویانہ احترام کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہندوستانی تہذیب کو پھلنے پھولنے اور مختلف نظریات کے اظہار کی اجازت دینے کیلئے ہر ممکنہ کوشش کی گئی ہے۔ نائب صدر حامد انصاری نے انڈونیشیا کے خوبصورت جزیرہ بالی کی اڈیانا یونیورسٹی میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کی نقاب کشائی کے بعد طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تہذیب کو یک قطبی بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جانی چاہئے۔ محمد حامد انصاری نے جو فی الحال انڈونیشیاء کے دورہ پر ہیں، کہا کہ ’’ہندوستان ایک کثیر ثقافتی معاشرہ ہے۔ تنوع ایک حقیقت ہے اور ہم اس بات کو یقینی بنائے ہیں کہ ہمارا ملک بدستور سیکولر رہے بہ الفاظ دیگر یہ کہا جاسکتا ہیکہ ہمارے ملک میں تمام مذاہب اور عقائد کا مساویانہ احترام کیا جاتا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’دستور میں اس کی ضمانتیں دی گئی ہیں جن سے ان روایات پر عمل آوری یقینی بنائی جاتی ہے۔ یہی وہ راستہ جس پر چلتے ہوئے ہم کثیر تہذیبی معاشرہ اور تنوع پر عمل پیرا ہیں‘‘۔ محمد حامد انصاری اپنے خطاب کے بعد طلبہ کے مختلف سوالات کا جواب دے رہے تھے۔

ان سے پوچھا گیا تھا کہ ہندوستان آیا کس طرح اپنے تنوع کو برقرار رکھا ہے۔ نائب صدر ہند نے ہمہ تہذیبی معاشرہ کی تفصیل اور تشریح بیان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے اکثر ممالک کے کرنسی نوٹوں کے برخلاف ہندوستانی کرنسی نوٹوں پر 18 زبانوں میں کرنسی کی قدر درج ہے جبکہ اکثر ممالک میں ایک یا دو زبانوں میں کرنسی کی قدر درج کی جاتی ہے۔ یہ بھی ایک مثال ہے کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں کس طرح تنوع کی روایات پر عمل کیا کرتے ہیں۔ سماجی زندگی میں گاندھیائی اقدار پر ہندوستان کی عمل آوری کے بارے میں ایک طالب علم کے سوال پر محمد حامد انصاری نے کہا کہ ’’ہمارے معاشرہ کے تمام شعبوں میں گاندھیائی تعلیمات اثاثی اقدار کی حامل ہیں اور یہ ہمارے دستوری ڈھانچے کا غیر تحریر شدہ ذیلی جز ہیں۔ اس کے باوجود بھی یہ کہنا بجا نہ ہوگا کہ ہم اس پر عمل آوری میں صدفیصد کامیاب ہوچکے ہیں۔ تاہم ہم اس عہد کے پابند ضرور ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس پر عمل آوری کی امنگ رکھتے ہیں اور اس پر نام جاری ہے تو بدستور جاری رہے گا کیونکہ سماجی زندگی میں کاملیت جیسی اور کوئی چیز نہیں ہوتی‘‘۔ نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور انڈونیشیاء دونوں ہی ہمہ تہذیبی جمہوریتیں ہیں جہاں نوجوانوں کی اکثریت ہیں۔ دونوں اقدار میں ہم آہنگی ہے۔ دونوں ممالک کے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے سے مربوط ہوکر ایک خوشحال مستقبل کی تشریح بیان کریں۔ نائب صدر حامد انصاری نے کہا کہ ہندوستان اور بالی کی تہذیبیں امن اور آفاقی اخوت کے فلسفہ پر یقین رکھتی ہیں اور گاندھیائی نظریہ سے بھی ان ہی اقدار کی سمت رہنمائی ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT