Tuesday , October 17 2017
Home / ہندوستان / ہندوستان بات چیت کا پابند لیکن جوابی خیرسگالی ضروری

ہندوستان بات چیت کا پابند لیکن جوابی خیرسگالی ضروری

سی پی آئی ایم کا بات چیت منسوخ کرنے کا مطالبہ ،عمرعبداللہ کی تنقید
جئے پور ۔ 21 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے آج فیصلہ پاکستان پر چھوڑ دیا۔ مشیران قومی سلامتی سطح کی بات چیت کے بارے میں کافی شوروغل برپا ہے کیونکہ کشمیری علحدگی پسندوں کے ساتھ پاکستانی مشیر قومی سلامتی کی بات چیت اوفا مشترکہ اعلامیہ کے جذبہ کی مغائر ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے کہا کہ ہندوستان بات چیت کرنا چاہتا ہے اور پاکستان کو تین دن قبل ایجنڈہ بھی روانہ کیا جاچکا ہے لیکن پاکستان کا جواب ہنوز عدم وصول ہے۔ بات چیت کیلئے پاکستان کی جوابی خیرسگالی بھی ضروری ہے۔ سی پی آئی ایم نے آج حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مجوزہ بات چیت منسوخ کردیں۔ چاہے پاکستانی عہدیدار کشمیر کے علحدگی پسندوں سے ملاقات کریں یا نہ کریں۔ پہلے اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ سرحدوں پر کشیدگی دور کی جائے۔ سی پی آئی ایم کا مستقل موقف یہ ہیکہ پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رہنی چاہئے لیکن یہ عمل سرحد پر کشیدگی میں کمی کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا۔ سکریٹری جنرل سی پی آئی ایم سیتارام یچوری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر شخص جانتا ہیکہ علحدگی پسندوں سے پاکستان کی بات چیت ماضی میں بھی ہوسکتی تھی لیکن حکومت ہند نے اس کی منظوری نہیں دی تھی۔ سرینگر سے موصولہ اطلاع کے بموجب جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ علحدگی پسندوں سے پاکستانی مشیر قومی سلامتی کی مجوزہ ملاقات کے مسئلہ کو حد سے زیادہ مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔ حریت ۔ پاکستان بات چیت میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے بلاگنگ ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر آج اپنا تبصرہ تحریر کیا۔

TOPPOPULARRECENT