Saturday , September 23 2017
Home / اداریہ / ہندوستان سے بھرپور تعاون

ہندوستان سے بھرپور تعاون

ہر اک غم کی پذیرائی بھی کرنا
نہیں تیرا یہ میرا مسئلہ ہے
ہندوستان سے بھرپور تعاون
وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموںکے خلاف سختی سے نمٹنے کیلئے عالمی کوششوں کے حصہ کے طور پر پٹھان کوٹ حملہ کے خاطیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے ہندوستان کے فراہم کردہ ثبوتوں پر تحقیقات کرنے کا حکم دے کر تعاون عمل کی جانب پہل کی ہے۔ دہشت گردوں نے پٹھان کوٹ اور مزار شریف میں ہندوستانی اثاثہ جات پر حملے کرکے جو نقصان پہنچایا ہے اس سے ہند ۔ پاک تعلقات میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی قیادت نے اس واقعہ کے بعد ہندوستان کے غم و غصہ کا بروقت اندازہ کرکے حالات کو کشیدہ ہونے سے روکنے کی بہتر کوشش کی۔ وزیراعظم نواز شریف نے دو دن کے اندر دوسرا اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرکے ہندوستان کی جانب سے فراہم کردہ سراغ پر تحقیقات میں ہوئی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ پاکستان نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اس کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے ہندوستان کے ساتھ مکمل تعاون کیلئے اپنے عہد کا اعادہ بھی کیا ہے۔ اس خطہ سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنے کا عہد اور اس کی تکمیل کی جانب پیشرفت ایک بہتر تبدیلی ہے۔ نواز شریف نے اپنے قومی سلامتی مشیر ناصر خاں جنجوعہ کو  ہدایت دی کہ ہندوستانی قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول سے رابطہ رکھتے ہوئے مذاکرات کے احیاء کیلئے جاری کوششوں کو کامیاب بنائیں۔ پاکستان کو اس وقت دہشت گردی کے مسئلہ پر عالمی برادری خاص کر امریکہ کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ امریکی قانون سازوں نے پٹھان کوٹ واقعہ کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے میں پاکستان کی ناکامی کی مذمت کی ہے۔ دراصل پاکستان پر الزام ہیکہ اس نے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ امریکہ کے بشمول کئی ممالک القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن، طالبان قائد ملا عمر اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے سربراہوں کو پناہ دے کر دہشت گردی کو ہوا دینے میں تعاون کا پاکستان پر الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ ایوان نمائندگان کے نئے اسپیکر پاول ریان نے پٹھان کوٹ حملے کی مذمت کی ہے۔ یہ تاثر عام ہیکہ پاکستان نے ہندوستان دشمن دہشت گرد تنظیموں جیسے جیش محمد کے سربراہوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا ہے۔ اب پٹھان کوٹ دہشت گرد حملے نے پاکستان کے لئے مزید پریشان کن صورتحال پیدا کردی تھی اسی لئے وزیراعظم نواز شریف نے حالات کا اندازہ کرتے ہوئے پڑوسی ملک ہندوستان سے تعاون کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان حملے کی مکمل شفاف اور جامع تحقیقات کو اس وقت ہی یقینی بنایا جاسکتا ہے جب اصل خاطیوں کو گرفتار کرکے مقدمہ چلایا جائے مگر پاکستانی عدالتوں میں جب دہشت گردی کا مقدمہ پہنچتا ہے تو قانون کے نکتہ نظر سے ٹھوس ثبوت کی کمی کے باعث خاطیوں کی رہائی عمل میں آتی ہے۔ اس مرتبہ ہندوستانی انٹلیجنس ایجنسیوں نے پٹھان کوٹ حملے کے ذمہ داروں کے تعلق سے ٹھوس ثبوت پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ لہٰذا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہیکہ وہ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خاتمہ کیلئے اپنے تمام اداروں کے درمیان موجود ہم آہنگی پر اطمینان بخش طریقہ سے تحقیقات میں تعاون کرے۔ حالیہ دہشت گرد حملوں نے ایک بار پھر ہندوپاک مفاہمتی عمل کو خطرے سے دوچار کردیا تھا۔ دونوں ملکوں کے تعلقات کی تاریخ ایک ناقابل تغیرقانون کی طرح دکھائی دیتی تھی لیکن وزیراعظم نواز شریف نے دونوں ملکوں میں مزید کشیدگی پیدا ہونے سے گریز کرنے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرکے اپنی حکومت کی ذمہ داریوں کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ 2008ء کے ممبئی حملوں کے 8 سال بعد دونوں ممالک میں سردمہری ختم ہوتے جارہی تھی کہ دہشت گرد تنظیموں نے پٹھان کوٹ میں حملہ کردیا۔ تاہم وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی گذشتہ جولائی میں روس میں ہوئی ملاقات اور نریندر مودی کا دورہ لاہور دونوں جانب باہمی مذاکرات کے آغاز کی طرف سفارتی رابطوں کو تقویت دینے میں اہم معاون ثابت ہوا۔ اس لئے دہشت گردوں نے ان تعلقات کو سبوتاج کرنے کا  منصوبہ بنایا تھا مگر اب دونوں ملکوں کو چاہئے کہ وہ دہشت گردی کے منصوبوں کو کامیاب ہونے نہ دیں بلکہ مذاکرات کے احیاء کیلئے جذبات و احساسات کی جو نئی سطح قائم ہوئی ہے اس پر برقرار رہتے ہوئے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ وزیراعظم مودی بھی اب ان شریر اور شرانگیز آوازوں کی جانب دھیان نہ دیں جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کیلئے رخنہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نواز شرف کو بھی اپنے قول و فعل پر دیانتداری سے مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہندوستان کو یقین ہوجائے کہ پاکستان اب دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے عالمی کوششوں بالخصوص ہندوستان کی جدوجہد میں برابر کا شریک ہے۔ دونوں ممالک پائیدار، بامقصد اور جامع مذاکرات کا عمل جاری رکھتے ہیں تو دہشت گردی کے خاتمہ میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو تیز کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام بھی دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے مکمل خاتمہ کے لئے یکساں رائے رکھتے ہیں۔
ہندوستان میں تجارت کرنامشکل ؟
ہندوستان میں تجارت و صنعت کرنے والوں کے سامنے برسوں سے کئی مسائل ہیں، مگر چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے اس حقیقت کی جانب نشاندہی کی ہے کہ اس ملک میں تجارت کرنے کا ارادہ رکھنے والوں کو ’’نانی یاد آجاتی‘‘ ہے۔ ان کا یہ ریمارک دراصل سرکاری محکموں کی اس بے اعتنائی کی جانب ہے جو درخواست گذاروں کو پریشان کرتے ہیں۔ رشوت خوری نے تجارت پیشہ افراد سے لیکر عام شہریوں کو مسائل سے دوچار کردیا ہے اور سرکاری آفیسرس رشوت لے کر بھی جب کام انجام نہیں دیتے تو یہ تکلیف دہ بن جاتا ہے۔ چیف منسٹر دہلی نے کولکتہ میں دو روزہ گلوبل بزنس سمیٹ سے خطاب کرتے ہوئے تجارت کرنے کے خواہاں افراد کے لئے بنائے گئے پیچیدہ طور طریقوں کو آسان بنانے پر زور دیا۔ اس چوٹی کانفرنس میں چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی اور مرکزی وزیرفینانس ارون جیٹلی نے بھی عالمی صنعتکاروں کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی۔ مغربی بنگال میں سرمایہ کاری کے مواقع کو وسعت دینے کا وعدہ کرتے ہوئے ممتابنرجی نے بنگال گلوبل بزنسسمیٹ کے ذریعہ اپنی ریاست میں سرمایہ کاری کی راہیں کشادہ کرنے کی کوشش کی اور اس میں وہ کامیاب دکھائی دیتی ہیں۔ ہندوستان کے بڑے صنعتکار ریلائنس انڈسٹریز لمیٹیڈ کے چیرمین مکیش امبانی نے مغربی بنگال کو تجارت و صنعت کیلئے ایک بہترین ریاست قرار دیا۔ ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ سرخ فیستہ کے چلن کو ختم کرنا ضروری ہے۔ مرکز سے لیکر ریاستی سطح کی حکومتوں نے بارہا کہا ہیکہ صنعت و تجارت کو فروغ دینے کیلئے وہ کئی اقدامات کررہے ہیں مگر جب عملی مظاہرہ کا وقت آتا ہے تو صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ چیف منسٹر دہلی نے اپنی ریاست میں تجارت کرنے کیلئے طور طریقوں کو آسان بنانے کا وعدہ کیا اور اس میں تبدیلیاں بھی لائی ہیں۔ اگر دہلی حکومت نے تجارتی امور کیلئے آسانیاں پیدا کی ہیں تو اس خطوط پر دیگر ریاستوں کو عمل کرتے ہوئے ترغیب دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT