Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ہندوستان سے دیگر ممالک کو مچھلی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

ہندوستان سے دیگر ممالک کو مچھلی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

اندرون ملک مچھلی پالن اور استعمال میں اضافہ
حیدرآباد۔11اکٹوبر (سیاست نیوز) اکویریم اور مچھلی پالن کے شعبہ میں تیز رفتار ترقی اور سرمایہ کاری کے دوران حیدرآباد میں “AquaEX” 2018 مارچ میں منعقد کیا جائے گا اور اس پروگرام کے دوران دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ہندستان میں مچھلی پالن اور اکویریم سازی کی صنعت میں جاری ترقی کے متعلق تفصیلات حاصل کریں گے۔ مسٹر وی رامچندر راجو صدر سوسائٹی فار انڈین فشریز اینڈ اکوا کلچر کے مطابق اس شعبہ میں ترقی کی شرح 5تا6 بتدریج برقرار ہے جو کہ شعبہ کی ہمہ جہت ترقی کی مثال بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندستان چین کے بعد دوسرے نمبر پر ہے جہاں مچھلی کی پیداوار 10.79 میٹرک ٹن تک پہنچ چکی ہے اور یہ اعداد و شمار 2016-17 کے دوران کے ہیں۔ انہوں نے مز ید کہا کہ ہندستان سے دیگر ممالک کومچھلی کی برآمدات 30 ہزار کروڑ تک پہنچ چکی ہیں اور اس میں سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا جارہاہے۔ شعبہ کی سرکردہ شخصیات اور مچھیروں کی جانب سے پیش کی جانے والی تفصیلات کے مطابق اندرون ملک مچھلی کے استعمال اور پالن میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور اس اضافہ کی بنیادی وجہ اس شعبہ میں ہونے والی ترقی کے علاوہ اکوا کلچر کو حاصل ہونے والا فروغ ہے۔ مچھلی پالن کی صنعت میں اس وقت مزید بہتری پیدا ہوسکتی ہے جب کہ مچھلی پالن کی عصری ترقی کو ممکن بنانے کے علاوہ انہیں تکنیکی اعتبار سے مستحکم بناتے ہوئے مچھیروں کو آلات کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔ مشنری کی تیاری ‘ آلات سازی ‘ مارکٹنگ کے شعبہ میں اگر اس شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کو سرکاری مدد حاصل ہوتی ہے تو ایسی صورت میں ہندستانی مچھلی پالن و اکویریم صنعت چین کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے لیکن اس کے لئے اس صنعت کو عصری آلات سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔ مارچ 2018کے دوران حیدرآباد میں منعقد ہونے جارہے “AquaEX”2018 کے دوران صنعت سے وابستہ ماہرین ان موضوعات کے علاوہ دیگر ممالک میں ہندستانی مچھلی کی مانگ اور صنعت کو ترقی دینے کے لئے درکار امور پر خصوصی توجہ مبذول کرتے ہوئے لائحہ عمل تیار کریں گے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ہندستان سے جو مچھلی برآمد کی جاتی ہے وہ دنیا کے 101 ممالک میں فروخت ہوتی ہے اور اس صنعت میں 1950-51کے دوران جو اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اس اضافہ کا سال 2016-17کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سال 1950-1951کے دوران پیداوار 0.79 میٹرک ٹن تھی اور اب یہ شرح پیداوار گذشتہ سال کے دوران 10.79تک پہنچ چکی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT