Sunday , August 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستان میںکبھی سکیوریٹی کا خطرہ محسوس نہیںہوا : آفریدی ‘ شعیب ملک

ہندوستان میںکبھی سکیوریٹی کا خطرہ محسوس نہیںہوا : آفریدی ‘ شعیب ملک

Pakistan's captain Shahid Afridi(R) walks with teammates during a training session at The Eden Gardens Cricket Stadium in Kolkata on March 13, 2016, ahead of the World T20 cricket tournament. / AFP / Dibyangshu SARKAR (Photo credit should read DIBYANGSHU SARKAR/AFP/Getty Images)

پاکستان سے زیادہ محبت ملی ۔ منصوبوں پر عمل کے ذریعہ بہتر مظاہرہ کیا جاسکتا ہے ۔ کولکتہ سے خوشگوار یادیں وابستہ ۔ مہمان کپتان کا بیان
کولکتہ 13 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ورلڈ ٹوئنٹی 20 چمپئن شپ کیلئے آمد پر ہندوستان میں پرتپاک استقبال سے مسرور پاکستانی کرکٹ کپتان شاہد آفریدی اورسینئر آَ راونڈر شعیب ملک نے آج کہا کہ انہیں کبھی بھی اس ملک میں سکیوریٹی کا خطرہ محسوس نہیں ہوا ہے ۔ پاکستانی ٹیم کو حکومت کی جانب سے تاخیر سے منظوری ملی تھی جس کے بعد وہ کل رات ہندوستان پہونچ گئی ۔ سکیوریٹی تشویش کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کے دورہ ہندوستان کی اجازت دینے کئی دن کی تاخیر ہوئی تھی ۔ پاکستان کا گروپ میچ ہندوستان کے خلاف 19 مارچ کو دھرمشالہ میں ہونے والا تھا تاہم سکیوریٹی کی تشویش کے بعد اسے کولکتہ منتقل کردیا گیا تھا ۔ ہماچل پردیش کے چیف منسٹر ویر بھدرا سنگھ نے ریاست کے سابق فوجیوں کی جانب سے احتجاج کے پیش نظر پاکستانی ٹیم کو سکیوریٹی فراہم کرنے سے معذوری کا اظہار کیا تھا ۔ تاہم شاہد آفریدی اور شعیب ملک نے پاکستانی ٹیم کی سکیوریٹی کے مسئلہ پر ذرائع ابلاغ کی خاص توجہ کو اہمیت دینے سے گریز کیا ہے ۔ آفریدی نے کہا کہ میں ہندوستان میں بھی کھیلنے کو اتنا ہی پسند کرتا ہوں جتنا کسی اور ملک میں کھیلنے کو کرتا ہوں۔ وہ اپنے کیرئیر کے آحری مراحل میں ہیں اور وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں جتنی محبت انہیں ملتی ہے وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔ انہیں اتنی محبت خود پاکستان میں نہیں ملتی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرح ہندوستان میں بھی کرکٹ کو پسند کرنے والے لوگ ہیں۔ بحیثیت مجموعی وہ ہندوستان میں کھیل کر محظوظ ہوتے ہیں اور ان کے کیرئیر میں انہیں یہ موقع بہت ملا ہے ۔ آفریدی کے خیالات کی حمایت کرتے ہوئے شعیب ملک نے بھی کہا کہ انہیں بھی ہندوستان میں کھیلنا اعزاز محسوس ہوتا ہے ۔ شعیب ملک نے ہندوستانی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا سے شادی رچائی ہے ۔ شعیب ملک نے کہا کہ سب سے پہلے تو وہ حکومت ہند کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں سکیوریٹی بہت اچھی ہے ۔

ان کی شریک حیات کا ہندوستان سے تعلق ہے اور وہ ہندوستان آتے رہتے ہیں ۔ انہیں کبھی بھی یہاں سکیوریٹی کا مسئلہ نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی عوام اور ہندوستانی عوام میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری غذا ایک ہے ۔ ہم ایک ہی زبان بولتے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ یہاں کوئی فرق ہے ۔ وہ ہندوستان میں آکر بہت خوش ہیں۔ انہیں ہمیشہ یہاں عوام سے اور میڈیا سے خاطر خواہ محبت ملی ہے ۔ وہ ہندوستان میں آکر فخر محسوس کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ٹیم کی سکیوریٹی پر ہندوستان سے تحریری تیقن طلب کئے جانے سے متعلق سوال پر کوئی جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کپتان آفریدی نے کہا کہ وہ سیاست پر تبصرہ کرنا نہیں چاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک جو بھی فیصلہ کرتا ہے ہم اس کے تابع ہیں۔ ہم کرکٹرس ہیں اور سیاستدان نہیں۔ کھیل سے دونوں ملک ہمیشہ قریب آئے ہیں ۔ کیا کرکٹ سے بہتر بھی کوئی چیز ہوسکتی ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں سیاست کو کھیل سے علیحدہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس وسال پر کہ آیا پاکستانی ٹیم کی آمد سے قبل سکیوریٹی پر جو مسئلہ ہوا تھا اس سے کھلاڑیوں کی توجہ متاثر ہوئی ہے آفریدی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی خاص بات نہیں ہے ۔ ہم وہاں بھی پریکٹس کرتے رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جسمانی اور ذہنی طور پر وہ مقابلوں کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی کرکٹ در اصل دباؤ پر مشتمل ہے اور جو ٹیم دباؤ سے بہتر انداز میں نمٹ سکتی ہے وہی کامیابی حاصل کرتی ہے ۔

آفریدی نے ٹیم کی تیاریوں کے تعلق سے کہا کہ حالانکہ ورلڈ ٹی 20 کیلئے ان کی ٹیم کی تیاریاں اچھی نہیں رہی ہیں لیکن پاکستانی ٹیم مثبت سوچ رکھتی ہے اور اسی کے ساتھ میدان پر آئیگی ۔ انہوںنے کہا کہ ان کی ٹیم اپنے منصوبوں پر موثر انداز میں عمل آوری نہیں کرسکی ہے اور اسی وجہ سے اسے مشکلات پیش آرہی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ماضی کو فراموش کردینا چاہئے ۔ اگر ہم ٹیم پلان کے مطابق کھیلیں تو ہم اچھا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ٹیم کیلئے پہلا میچ اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ آپ کو اس میچ سے بہت کچھ موقع ملتا ہے ۔ اس سے پچ اور حالات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ ان کی ٹیم کیلئے ابتدائی دونوں ہی میچس اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کولکتہ کے تعلق سے کہا کہ یہاں پاکستانی ٹیم کی یادیں اچھی ہیں۔ ہم یہاں دو میچس کھیلنے والے ہیں اور ہم پر اعتماد ہیں۔ یہاں بحیثیت مجموعی ہماری کارکردگی اچھی رہی ہے ۔ آئی سی سی ورلڈ کپ میں ہندوستان کے خلاف ایک بھی میچ نہ جیتنے سے متعلق سوال پر آفریدی نے کہا کہ یہ ان کی ٹیم کیلئے منفی پہلو ہے اور وہ اس پر کچھ کہنا نہیں چاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اچھی کرکٹ کھیل رہی ہے اس کے باوجود ہم اس سے سخت مقابلہ کرسکتے ہیں۔ آفریدی نے کہا کہ وہ ٹیم کیلئے ضرورت پڑنے پر خود کو بیٹنگ آرڈر میں آگے لانے سے گریز نہیں کرینگے ۔ انہوں نے اب تک نوجوانوں کو کافی موقع دیا ہے لیکن اب اس طرح کے بڑے ٹورنمنٹ میں وہ ذمہ داری سنبھالنے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں کو اب نوجوانوں کیلئے مثال بننے کی ضرور ت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT