Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / ہندوستان میں بیرونی سیاحوں کیلئے تلخ تجربہ

ہندوستان میں بیرونی سیاحوں کیلئے تلخ تجربہ

کرنسی نوٹوں کی منسوخی سے سیر و تفریح متاثر
نئی دہلی۔ 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی سیاح رہیٹ اپنے دوستوں کے ساتھ 8 نومبر کو دہلی پہنچے تاکہ ہندوستان میں سیر و تفریح کا تجربہ حاصل کیا جاسکے لیکن کرنسی نوٹوں کی اچانک منسوخی سے ان کا منصوبہ سفر درہم برہم ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی پہنچنے کے بعد امریکی ڈالر کو ہندوستانی کرنسی میں تبدیل کرایا گیا لیکن 500 اور 1000 روپئے نوٹوں کو قبول نہ کرنے سے مسئلہ پیدا ہوگیا۔ ہماری ہوٹل میں نہ تو بڑے نوٹ قبول کئے جارہے ہیں اور نہ ہی کرنسی کا تبادلہ کیا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں ہمارا تفریحی دورہ وبال جان بن گیا ہے۔ امریکی سیاح رہیٹ (Rhett) جو کہ چند دنوں میں واپس جانے والے ہیں بتایا ہے کہ ہم نے کئی ایک منصوبے بنائے تھے لیکن اب مایوسی کے عالم میں واپس جانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اعلی قدر کے نوٹوں کی اچانک منسوخی کے فیصلہ پر حیرت کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں ہندوستان میں معاشی بحران کی وجہ سے سینکڑوں بیرونی سیاحوں کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ برطانوی شہر برسٹل کے پیٹر سیاہمیس اپنی بھابیوں کے ساتھ پہلی مرتبہ دہلی کا دورہ کررہے ہیں۔ کرنسی نوٹ کی قلت سے ٹیکسی حاصل کرنے اور شاپنگ کے لئے مشکلات سے دوچار ہیں۔ گوکہ وہ ناگزیر حالات میں کریڈٹ کارڈ استعمال کررہے ہیں۔ لیکن ایک کپ کافی اور مقامی مارکٹ سے دستکاری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ان کا دورہ گوا خوشگوار رہا لیکن اس مرتبہ تلخ تجربہ ہورہا ہے۔ صرف ایک سال میں ہندوستان بہت بدل گیا ہے۔ کولکتہ سے موصولہ اطلاعات کے بموجب راتوں رات اعلی قدر کی کرنسی نوٹ منسوخ کئے جانے سے بیرونی سیاح بالخصوص علاج و معالجہ کے لئے آنے والے مریضوں کو ناقابل بیان مصائب کا سامنا ہے۔ بعض ٹراویل ایجنٹ یا فارن کرنسی اکسچینج سنٹرس پر منحصر کرنا پڑرہا ہے۔ ٹراویل ایجنٹس فیڈریشن آف انڈیا ایسٹرن ریجن کے چیرمین انیل پنجابی نے بتایا کہ بیرونی شہریوں کے پاس آدھار کارڈ، ووٹر کارڈ، یا پان کارڈ نہیں ہوتا لہٰذا وہ نوٹوں کے تبادلے کے لئے بینک سے بھی رجوع نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک خاتون سیاح نے ٹیلی فون پر اطلاع دی تھی کہ بچہ کا دودھ خریدنے کے لئے بھی پیسہ نہیں ہے جس سے بیرونی سیاحوں کی زبوں حالی معلوم ہوئی ہے اور وہ دیار غیر میں بھکاری بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ سیاحت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT