Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / ہندوستان میں تباہ کن گرمی کی لہر کا اندیشہ

ہندوستان میں تباہ کن گرمی کی لہر کا اندیشہ

ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے درجہ حرارت ناقابل برداشت ہوجائیگا، تحقیقاتی رپورٹ
بوسٹن۔3 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں تقریباً 1.5 بلین عوام کو آئندہ چند دہوں کے دوران ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ناقابل بیان گرمی کی لہر کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ درجہ حرارت عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوسکتا ہے اور بڑے پیمانے پر غذائی بحران بھی پیدا ہوگا۔ ایم آئی ٹی نے ایک مطالعاتی رپورٹ میں خبردار کیا ہے جس کے مطابق سائنسدانوں نے پیش قیاسی کی کہ جاریہ صدی کے ختم تک ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجہ میں جنوبی ایشیاء میں گرمی کی انتہائی شدید لہر دیکھی جائے گی۔ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں آبادی میں ہر پانچواں شخص انتہائی غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت کی گرمی کو روکنے کا اب بھی موقع ہے اور اس کے لیے موثر اقدامات کرنا ہوگا۔ تاہم کاربن کے اخراج میں کمی کے بغیر یہ کام ممکن نہیں ہوسکتا۔ گرمی کی یہ لہر ابتداء میں فصلوں کو نقصان پہنچائے گی اور گنگاندی کے بیسن پر بھی اثرانداز ہوگی جو اس علاقے کو غذائی سربراہی کا ایک اہم حصہ ہے۔ گرمی کی اس لہر سے بری طرح متاثر ہونے والے ان علاقوں میں شمالی ہند، بنگلہ دیش اور جنوبی پاکستان ہیں جہاں کی آبادی تقریباً 1.5 بلین ہے۔ یہ علاقے انتہائی غریب بھی تصور کیئے جاتے ہیں اور آبادی کا ایک بڑا حصہ زراعت پر انحصار کرتا ہے۔ اس کے لیے انہیں سخت محنت اور کھلے آسمان تلے کام کرنا ہوتا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے سبب کام کرنا ان کے لیے مشکل ہوجائے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیج کا علاقہ بھی گرمی کی لہر سے بری طرح متاثر رہے گا۔ اس کے بعد دوسرے مقام پر جنوبی ہند کا علاقہ ہوگا۔ پھر مشرقی چین اس کی زد میں آئے گا اور یہ بھی گنجان آبادی والا علاقہ ہے۔ یہ نیا تجزیہ حالیہ تحقیقات کے بعد سامنے آیا جس میں دکھایا گیا ہے کہ گرم موسم سے انسان پر زیادہ منفی اثر پڑرہا ہے۔ اس کے علاوہ درجہ حرارت میں اضافہ اور رطوبت میں بھی اضافے نے صورتحال کو انتہائی ابتر بنادیا ہے۔ انسانی جسم میں داخلی درجہ حرارت کا ایک موثر نظام پایا جاتا ہے اور بیرونی درجہ حرارت و رطوبت کا اس سے گہرا تعلق ہے۔ اگر درجہ حرارت اور رطوبت کا امتزاج توازن میں نہ ہو تو پھر انسانی جسم معمول کے درجہ حرارت کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ واضح رہے کہ 2015 ء موسم گرما میں جنوبی ایشیاء کی تاریخ میں اب تک کی مہلک ترین گرمی کی لہر دیکھی گئی۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 2100 ء تک یہ صورتحال ناقابل برداشت ہوجائے گی اور ہر شخص اس سے متاثر ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT