Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / ہندوستان میں تعلیمی اِداروں کی بہتات کے باوجود عالمی معیار کا فقدان

ہندوستان میں تعلیمی اِداروں کی بہتات کے باوجود عالمی معیار کا فقدان

عالمی معیار کی 200 یونیورسٹیز میں ملک کی صرف دو جامعات ، ہندوستانی اقتصادی ادارہ کی کانفرنس سے پرنب مکرجی کا خطاب

حیدرآباد۔ 27 ڈسمبر (پی ٹی آئی) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے معیاری تعلیم کی فراہمی اور ہنر و مہارت کے فروغ کی ضرورت پر آج زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس ضمن میں قدیم زمانہ کے اُس دور سے اُمنگ حاصل کرتے ہیں جب ہندوستان اعلیٰ تعلیمی اداروں اور عظیم درس گاہوں کا گہوارہ تھا، اِن خصوصیات کے ذریعہ اقطاع عالم کے اسکالرس اور دیگر تشنگان علم کو راغب کیا کرتا تھا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں وسیع تر اعلیٰ تعلیمی نظام کے باوجود صرف دو ہندوستانی ادارے عالمی معیار کے 200 سرکردہ اداروں کی فہرست میں شامل ہیں، اور وہ بھی حال ہی میں یہ شمولیت عمل میں آئی ہے۔ صدر ِہند نے کہا کہ ’’جب ہم معیاری تعلیم، علم و ہنر کے فروغ کی اپنے ورثہ کی حیثیت سے بات کرتے ہیں تو ہماری آبادی کے ڈھانچہ، تنوع اور وسعت کے تناظر میں اس حقیقت کو دیکھتے ہیں تو ’تمام کیلئے یکساں سہولت اور مراعات‘ کا دعویٰ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب کام نہیں کررہا ہے‘‘۔ صدر پرنب مکرجی نے ہندوستانی اقتصادی اسوسی ایشن کی 98 ویں سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’’جب کوئی علم و ہنر کے فروغ کی بات کرتا ہے تو ہم ہندوستانی تاریخ پر فخر محسوس کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ عہد قدیم میں ہندوستان تعلیم کے شعبہ میں اولین محاذ پر تھا، ٹکسیلا (جو اب پاکستان میں ہے) اور نالندہ (بہار) قدیم ہندوستان کی اعلیٰ ترین تعلیمی درس گاہیں تھیں، جہاں سے علم حاصل کرنے کیلئے سارے ہندوستان بلکہ ساری دنیا کے طلبہ پہنچا کرتے تھے۔ صدر پرنب مکرجی نے کہا کہ ’’ہمارے پاس سندر پچائی اور ستیہ ناڈیلا ہیں جو ہندوستانی تعلیمی نظام سے ابھرے ہیں اور سرکردہ عالمی کمپنیوں (گوگل اور مائیکرو سافٹ) کی قیادت کررہے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اندرون ملک اپنے نوجوانوں کیلئے روزگار کے ایسے ہی مواقع پیدا کریں اور یہ امر ہمارے ماہرین معاشیات اور پالیسی سازوں کیلئے یقینا ایک تیزابی امتحان ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT