Wednesday , September 20 2017
Home / دنیا / ’’ہندوستان میں خاندان وراثت پر منحصر، سیاست سے تجارت تک خاندانی حکمرانی‘‘

’’ہندوستان میں خاندان وراثت پر منحصر، سیاست سے تجارت تک خاندانی حکمرانی‘‘

تمام سیاسی جماعتوں اور بڑے کاروباری اداروں میں وراثت جاری، یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں راہول گاندھی کا خطاب

واشنگٹن۔ 12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے آج کہا کہ سیاست سے لے کر تجارت تک ہندوستان میں خاندانی وراثت ایک عام بات ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی شخص کی صلاحیتیں اس کے خاندانی پس منظر سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ راہول گاندھی کی جانب سے امریکہ میں کئے گئے مختلف تبصروں پر ہندوستان میں بی جے پی نے شدید احتجاج کیا ہے۔ مرکزی وزیر سمرتی ایرانی نے راہول کو ایک ’’ناکام خاندانی وارث‘‘ اور ’’ناکام سیاست داں‘‘ قرار دیا۔ برکلے کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر پھوٹ و انتشار پر مبنی سیاست میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنقید کی۔ انہوں نے وزیراعظم پر کشمیر میں عسکریت پسندوں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کھلی جگہ چھوڑ دینے اور غلط انداز میں معیشت چلانے کا الزام بھی عائد کیا۔ طلبہ کے ایک سوال پر راہول گاندھی نے جواب دیا کہ ان کی پارٹی کی طرف سے ہدایت کئے جانے کی صورت میں وہ ملک کی عاملانہ ذمہ داری (وزیراعظم کا عہدہ) سنبھالنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ ایک اور سوال پر کہ کانگریس پارٹی آیا خاندانی سیاست سے بہت زیادہ وابستہ ہے؟ راہول گاندھی نے جواب میں دلیل پیش کی کہ ہندوستان اکثر حاندانوں کی طرف سے چلتا رہا ہے۔ ہندوستان میں اکثر سیاسی جماعتیں اس مسئلہ کا سامنا کرتی رہی ہیں۔ اکھیلیش سنگھ یادو خاندانی وارث ہیں۔ اسٹالن ( صدر ڈی ایم کے کے فرزند) خاندانی وارث ہیں۔ حتی کہ امیتابھ بچن کے فرزند ابھیشک بچن بھی خاندانی وارث ہیں چنانچہ ہندوستان اس طرح چلتا ہے لہذا آپ صرف میری ہی بات نہ کیجئے بلکہ ہندوستان میں اکثر ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ انفوسس میں بھی ہوتا ہے۔ امبانی برادران اپنا خاندانی کاروبار چلا رہے ہیں۔ راہول نے مشہور خاندانوں میں پیدا ہونے والے سرکردہ ہندوستانی شخصیات کا حوالہ دیتے ہوئے فہرست بیان کی، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کانگریس میں ایسے کئی قائدین ہیں جن کی کوئی خاندانی سیاسی وراثت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں ہر ریاست میں ایسے افراد کے نام پیش کرسکتا ہوں، جن کی خاندانی سیاسی وراثت ہے۔ ایسے افراد بھی ہیں جن کے والد، نانی یا دادی، پڑنانا یا پڑ دادا سیاست سے وابستہ رہے ہیں۔ ایسے افراد ہنوز موجود ہیں‘‘۔ کانگریس کے نائب صدر 47 سالہ راہول گاندھی نے کہا کہ ’’اصل سوال یہ ہے کہ آیا ایسا کوئی شخص فی الواقعی باصلاحیت اور حساس ہے۔ راہول نے مزید کہا کہ عدم تشدد سے متعلق مہاتما گاندھی کا نظریہ ہندوستان میں آج حملوں کا نشانہ بن رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کی خارجہ پالیسی کی مذمت کی اور کہا کہ ’’جہاں تک امریکہ سے تعلقات کا معاملہ ہے، میں ان (مودی حکومت) کے موقف سے متفق ہوں، لیکن اس سے قطع نظر میں سمجھتا ہوں کہ وہ (بی جے پی حکومت) ہندوستان کو غیرمحفوظ بنا رہی ہے کیونکہ آپ اگر نیپال کو دیکھیں گے، وہاں چین ہے۔ اگر آپ برما کی طرف دیکھیں گے تو وہاں چین ہے۔ آپ اگر مالدیپ کو دیکھیں گے تو وہاں بھی چین ہے۔ اگر آپ سری لنکا کو دیکھیں تو وہاں بھی چین ہے۔ چنانچہ خارجہ پالیسی کی بنیادی جہت پر امریکہ سے دوستی کے معاملے میں بھی متفق ہوں۔ امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہونا چاہئے لیکن ہندوستان کو سب سے یکا و تنہا نہ کیجئے کیونکہ یہ خطرناک ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT