Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / ہندوستان میں زبردست سماجی طاقت بشمول تکثیریت

ہندوستان میں زبردست سماجی طاقت بشمول تکثیریت

نئی دہلی ۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) عدم رواداری پر مباحثہ کے پس منظر میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان میں زبردست سماجی طاقت بشمول تکثیریت موجود ہے۔ یہ حالیہ عرصہ میں دوسری مرتبہ ہے جبکہ مودی نے تنوع اور تکثیریت کے موضوعات پر بات کی ہے حالانکہ انہیں ملک میں عدم رواداری کے مسئلہ پر تنقید کا سامنا ہے۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان میں تکثیریت باوقار معاشی رسالہ کے ایک مضمون میں جس کے اقتباسات اس کے یوروپی بزنس نامہ نگار نے جو پیرس میں مقیم ہے، اپنے ٹوئیٹر پر شائع کئے ہیں۔ مبینہ طور پر مودی نے کہا کہ رسالہ کے تازہ ترین شمارہ میں شائع مضمون میں عالمی قائدین بشمول مودی کے خاکے شامل ہیں جس کے اوپر عنوان ہے ’’2016ء کی دنیا‘‘۔ یہ مضمون مودی کے مضمون کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ اور نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کے علاوہ دیگر اہم شخصیات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم نے ان کی حکومت سے وابستہ ’’عظیم توقعات‘‘ کا تذکرہ بھی کیا جس کے 18ماہ آئندہ ہفتہ مکمل ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سے عظیم توقعات کے لحاظ سے بعض توقعات کو ہمیں پیش نظر بھی رکھنا ہوگا جن کا حصول ہم سے ہنوز ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ مودی نے ہندوستان کی شرح ترقی کے ماحول پر اثرات کا تذکرہ بھی کیا اور کہا کہ تبدیلی ماحولیات پر پیرس میں مقرر چوٹی کانفرنس سے چند دن پہلے ہمیں محاسبہ کرنا ہوگا کہ ہماری شرح ترقی پر ماحولیات کا بھی اثر مرتب ہوگا۔ مودی گذشتہ جمعہ کو کہہ چکے ہیں کہ ہندوستان کا تنوع ہندوستان کی ’’طاقت اور فخر‘‘ ہے۔ انہوں نے پرامن بقائے باہم کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔ انہوں نے آج کہا کہ ہندوستان تنوع سے بھرپور ہے۔ یہ تنوع ہمارے لئے باعث فخر اور ہماری طاقت ہے۔ خاص طور پر ہندوستان میں تنوع لائق ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ ہندوستان میں کئی مذاہب، 100 سے زیادہ زبانیں اور 1500 بولیاں موجود ہیں۔ ہندوستانیوں نے ثابت کردیا ہیکہ وہ بقائے باہم کے ساتھ زندگی گذار سکتے ہیں۔ مودی ہزاروں افراد سے جن میں سے بیشتر ہندوستانی نژاد تھے۔ گرانڈ کمیونٹی استقبالیہ سے خطاب کررہے تھے جو ان کے اعزاز میں لندن کے مشہور ویمبلے اسٹیڈیم میں منعقد کیا گیا تھا جہاں اکثر موسیقی کے پروگرام اور انگلستان کی قومی فٹبال ٹیم کے میچس منعقد کئے جاتے ہیں۔ وہ برطانیہ کے تین روزہ دورہ پر تھے۔

TOPPOPULARRECENT