Tuesday , August 22 2017
Home / دنیا / ہندوستان میں زدوکوب کے ذریعہ ہلاکتوں پر امریکہ گیر احتجاج

ہندوستان میں زدوکوب کے ذریعہ ہلاکتوں پر امریکہ گیر احتجاج

سانجوس، سانڈیگو (کیلیفورنیا) اور واشنگٹن میں احتجاج، 23 جولائی کو نیویارک میں مظاہرہ
واشنگٹن۔17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی نژاد امریکیوں نے ہندوستان میں ہجوم کی جانب سے زدوکوب کے ذریعہ ہلاکتوں پر برہمی کا اظہار کیا۔ حکومت کی بے عملی اور ہندوتوا کی ظالمانہ پالیسیوں پر احتجاجی مظاہروں کے دوران توجہ مرکوز کی گئی۔ احتجاجیوں نے قانون کی حکمرانی بحال کرنے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انصاف اور جوابدہی کے لیے اتحاد نے جو ایک ترقی پسند تنظیموں کا وفاق ہے جس کی شاخیں پورے امریکہ میں پھیلی ہوئی ہیں، احتجاج میں حصہ لیا۔ اس کی مختلف شراکتدار تنظیموں نے امریکہ کے تین شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیئے اور ہندوستان میں اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم، حکومت کی پالیسیوں جن کی وجہ سے ایسی طاقتوں کے حوصلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی، سانڈیگو اور سانجوس میں احتجاجی مظاہرے کیئے گئے۔ ایک اور احتجاجی مظاہرہ نیویارک سٹی میں 23 جون کو مقرر ہے۔ یہ احتجاجی مظاہرے ہندوستان کے مختلف شہروں میں ’’میرے نام پر نہیں‘‘ احتجاجی مظاہروں کے مماثل ہیں۔ سانجوس میں احتجاجی مظاہروں کا اہتمام انصاف اور امن کے لیے آوازیں، جنوبی ایشیا یکجہتی اقدام کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا گیا تھا۔ یہ احتجاجی مظاہرے 23 جولائی کو نیویارک سٹی میں مقرر احتجاجی مظاہرے کا ایک حصہ ہیں۔ گزشتہ چند سال سے خاص طور پر مسلمانوں اور دلتوں کو گائے کے تحفظ کے نام پر زدوکوب کے ذریعہ ہلاک کیا جارہا ہے۔ گزشتہ سال ستمبر سے اب تک تقریباً 12 افراد ہلاک کئے جاچکے ہیں۔ ان ہلاکتوں کی سازش ہندو برتری کے گروپس اور ان کے نظریہ سے الحاق رکھنے والی بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت ہیں جن کو مختلف ریاستوں میں حکومت کی جانب سے بیف پر امتناع سے تحریک حاصل ہوئی ہے۔ اقلیتوں سے بڑھتی ہوئی دشمنی کا اظہار مرکزی وزراء کی حالیہ لفاظی سے بھی ہوتا ہے جس نے آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ 2010ء سے بیف مربوط تشدد کے 97 فیصد واقعات بی جے پی زیر قیادت ہندو قوم پرست حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہوئے ہیں۔ 2015ء سے اب تک زدوکوب کے ذریعہ ہلاک کیئے جانے ولے، پھانسی پر لٹکائے جانے والے اور انتہائی ظالمانہ انداز میں محض شبہ پر کہ پکانے کے لیے بیف منتقل کیا جارہا ہے، مسلمانوں پر حملے کئے گئے ہیں۔ سانجوس کیلیفورنیا میں احتجاجیوں نے پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا ’’ہندوستان ہندوتوا کا یرغمال‘‘ اور ’’بیف پر امتناع ثقافتی فاشزم‘‘ تحریر تھا۔ یہ ہندوستانی برادری کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھتے تھے اور بیف پر امتناع اور بیف کے نام پر ہلاکتوں کی متفقہ طور پر مذمت کررہے تھے۔ یو ایس ایس مڈوے میوزیم کے قریب سینڈیگو کیلیفورنیا کے مضافات میں احتجاج کیا گیا۔ اہتمام کرنے والوں میں سے ایک نے نیویارک میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندو برتری کے علمبردار جو ’’گائو رکھشک‘‘ کہلاتے ہیں۔ واضح طور پر واشنگٹن ڈی سی کے احتجاجی مظاہروں سے چشم پوشی کریں گے۔ کیوں کہ وہ ہندوستان کی اقلیتوں کو دوسرے درجے کے شہری سمجھتے ہیں۔ سہیل سید نے کہا کہ حکومت ہند اتنے سرسری انداز میں مسلمانوں اور دلتوں کو زدوکوب کے ذریعہ ہلاک کردینے پر ردعمل کیسے ظاہر کرسکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہلاکتیں اچانک نہیں ہیں بلکہ منصوبہ بند انداز میں ہندو برتری کے علمبرداروں نے اس کی سازش کی تھی جو برسر اقتدار پارٹی کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ایک حالیہ بیان میں این ایس ٹی انٹرنیشنل انڈیا نے نفرت انگیز جرائم پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جو مسلمانوں کے خلاف کیئے جارہے ہیں، کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات صرف ان ریاستوں میں پیش آرہے ہیں جہاں بی جے پی برسر اقتدار ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں بھی احتجاجی مظاہرہ 23 جولائی 2017ء کو مقرر ہے۔ انصاف اور جواب دہی کے وفاق نے عہد کیا ہے کہ وہ ہندوستان کے تمام عقائد کے افراد کا نفرت اور انتشار پسند طاقتوں کے خلاف دفاع کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT